فوج اور کسانوں میں پھر کشیدگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر اوکاڑہ میں واقع ’ملٹری فارمز‘ کے کسانوں کو گندم کی تیار فصل کاٹنے سے فوج نے روک دیا ہے جس سے ایک بار پھر علاقے میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ یہ بات ’انجمن مزارعین پنجاب‘ کے چیئرمین لیاقت علی نے سنیچر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران بتائی۔ اس موقع پر ’پیپلز رائیٹس موومنٹ‘ کے نمائندے اور اوکاڑہ فارمز کے چند کسان بھی موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اکیس اپریل کو کچھ کسان جب اپنی گندم کی تیار فصل کاٹنے کے لیے آئے تو فوج نے انہیں روک دیا اور فریقین میں جھگڑا ہوا جس میں دو خواتین سمیت کم از کم پانچ کسان زخمی ہوگئے۔ تنظیم کے رہنما کے مطابق اس واقعہ کے بعد ایک سو سے زیادہ کسان جن میں بیس کے قریب خواتین بھی شامل ہیں ، ان کے خلاف اوکاڑہ کینٹ کے تھانے میں انسداد دہشت گردی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اپنی تیار فصل کبھی کسی کو اٹھانے نہیں دیں گے چاہے اس کے لیے انہیں اپنی جان ہی کیوں نہ دینی پڑے۔ انہوں نے فوج پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ متعلقہ زمین ایک سو سال سے ان کے پاس ہے اور وے اس پر کاشت کرتے آرہے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان بننے کے بعد جب فوج نے متعقلہ زمین ملٹری فارمز کے لیے حاصل کی تب بھی کسان وہ ہی رہے اور فوج ان سے حصہ یعنی بٹئی لیتی رہی۔ فوج نے سن دو ہزار میں بٹئی کا نظام ختم کرکے اجرتی نظام رائج کیا جس پر بعض کسانوں اور فوج میں کشیدگی شروع ہوگئی۔ فریقین کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے اب تک کئی کسان مارے بھی جا چکے ہیں لیکن اس کے بعد کشیدگی دب گئی تھی۔ اوکاڑہ ملٹری فارمز کی کل سترہ ہزار ایکڑ زمین ہے جس میں سے پانچ ہزار ایکڑ خود فوج کاشت کرتی ہے اور باقی زمین پر کسان کاشتکاری کرتے ہیں۔ لیاقت علی نے بعد میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں قانون کے تحت کوئی بھی آٹھ سو ایکڑ سے زیادہ زمین کسی ایک ضلع میں نہیں رکھ سکتا لیکن فوج پہلے ہی پانچ ہزار ایکڑ زمین رکتی اور اس پر کاشت کر رہی ہے اور اب باقی زمین سے بھی کسانوں کو بے دخل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ فوج کیا فوج کا کام زمین کاشت کرنا ہے یا ملک کا دفاع کرنا ہے؟ پاکستان فوج کا موقف رہا ہے کہ زمین ان کی ملکیت ہے اور اوکاڑہ ملٹری فارمز کے بیشتر کسانوں نے اپنی مرضی سے ٹھیکیداری نظام کے تحت کام کرنا شروع کردیا ہے۔ تاہم ان کے مطابق کچھ کسانوں کو غیر سرکاری تنظیمیں ورغلا کر فوج کے خلاف مہم چلا رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||