BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 August, 2004, 17:34 GMT 22:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اوکاڑہ:صحافی کی گرفتاری
صحافی کی گرفتاری
اوکاڑہ میں ملٹری فارمز پر رینجرز اور مزارعین کے درمیان جھگڑے کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی سرور مجاہد کو قانون کی شق تین ایم پی او کے تحت اتوار یکم اگست کو رات گرفتار کر لیا گیا ۔ ان کی بیٹی عائشہ سرور اس واقعہ کی چشم دید گواہ تھیں ۔ انہوں نے بی بی سی کے ساتھ بات چیت میں اپنے والد کی گرفتاری کے حالات کی وضاحت کی۔

صحافی کو زبردستی تحویل میں لیا گیا
’شام کے سوا آٹھ بج رہے تھے اور بابا کھانا کھانے بیٹھے ہی تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ کوئی آدمی تھا جو کہہ رہا تھا کہ وہ بابا کو ایک خبر لکھوانا چاہتا تھا۔ بابا نے قمیض تک نہیں پہنی تھی اور وہ اسی طرح باہر چلے گئے۔

میں کھڑکی سے دیکھ رہی تھی۔ اس آدمی نے کہا کہ وہ چک نمبر بتیس سے آیا ہے اور اس کے بیٹے پر تشدد ہوا تھا۔ اس نے کہا کہ کچھ افراد نے اس کے بیٹے کے ساتھ غلط کام کیا تھا اور پولیس رپورٹ درج کرنے سے انکار کر رہی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ بابا اس بارے میں اپنے اخبار میں لکھیں۔ بابا نے اس سے کہا کہ جب تک پولیس رپورٹ نہیں لکھ لیتی تب تک وہ اس کے ساتھ نہیں جا سکتے۔‘

سرور مجاہد کے ساتھ تشدد کیا گیا
’اس کے بعد گلی کے آخر سے موٹرسائیکل پر سوار تین افراد بابا کی طرف آئے۔ وہ رینجرز اور پولیس کے آدمی تھے۔ انہوں نے عام شہری لباس پہن رکھا تھا۔ وہ اپنی بائیک سے اترے اور ان میں سے ایک نے بابا کی کنپٹی پر پستول رکھ دی۔

بابا نے ایک دم شور مچایا اور کہا ’یہ آپ لوگ کیا کر رہے ہو‘۔ اس پر ان افراد نے بابا کو زمین پر گرا کر گھسیٹنا شروع کر دیا۔ یہ دیکھ کر امّی دوڑ کر باہر نکلیں تو انہوں نے امّی پر بھی پستول رکھ دی۔‘

پڑوسیوں کی کوششیں ناکام ہوگئیں
’امّی کی چیخیں سن کر اڑوس پڑوس کے سبھی لوگ باہر آگئے اور ان افراد کے پیچھے بھاگنے لگے۔ مگر انہوں نے پستول دکھا کر کہا کہ اگر سبھی لوگ پیچھے نہیں ہو گئے تو وہ انہیں بھی نہیں چھوڑیں گے۔ ڈر کے مارے سب تھوڑا تھوڑا پیچھے ہو تو گئے مگر کوئی وہاں سے گیا نہیں۔

اس کے بعد وہ بابا کو یہاں کے مرکزی ملاد چوک لے گئے۔‘

کارروائی پولیس اور رینجرز نے کی
’چوک میں تین، چار گاڑیاں تھیں جو پوری طرح پولیس سے بھری ہوئی تھیں۔ چوک کی پوری ناکہ بندی کی گئی تھی اور اس سب کے بیچ وہ لوگ بابا کو گھسیٹے جا رہے تھے اور بابا چیخ رہے تھے۔ بابا نے ان سے یہ تک کہا کہ وہ ان کے ساتھ آرام سے جانے کو تیار ہیں لیکن انہوں نے ایک نہ سنی۔ بس گالیاں نکالتے رہے۔‘

صحافی ہونے کی سزا
’ہمیں پہلے یہ لگا کہ بابا کو کوئی اغواء کر کے لے جارہا ہے۔ ان لوگوں نے چوک میں بابا کے ساتھ بہت تشدد کیا۔ جب ہم چوک میں پہنچے اور ہم نے وہاں پولیس سے بھری ہوئی گاڑیاں دیکھیں تب ہمیں پتا چلا کہ بابا کو پولیس لے جارہی ہے۔ جس گاڑی میں بٹھا کر بابا کو لےجایا گیا وہ بھی پولیس کی ہی تھی۔

جب سے بابا کو زبردستی لے جایا گیا تب سے ہم میں سے کوئی ان سے نہیں ملا۔ اب تقریباً 24 گھنٹے ہو گئے ہیں اور ہمیں اب تک یہ پتا نہیں چل پایا ہے کہ ہمارے بابا کہاں ہیں۔‘

اب تک سرور مجاہد کا کوئی پتا نہیں ہے
’مزارعین اور رینجرز کے درمیان ہونے والے تصادم کی خبریں بابا مسلسل اپنے اخبار ’نوائے وقت‘ میں چھاپا کرتے تھے اور ایک بار رینجرز نے انہیں دھمکی بھی دی تھی کہ وہ ان کے خلاف نہ لکھیں۔

اب تک بابا پر کوئی باقائدہ الزام نہیں لگایا گیا ہے۔ مجھے یہاں کے تحصیل ناظم ندیم عباس سبیرا نے پتا کرکے بتایا ہے کہ بابا کو رینجرز کے حکم پر گرفتار کیا گیا ہے اور اب انکو تین ماہ کی عدالتی تحویل میں رکھا جائےگا۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد