اوکاڑہ:صحافی کی گرفتاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اوکاڑہ میں ملٹری فارمز پر رینجرز اور مزارعین کے درمیان جھگڑے کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی سرور مجاہد کو قانون کی شق تین ایم پی او کے تحت اتوار یکم اگست کو رات گرفتار کر لیا گیا ۔ ان کی بیٹی عائشہ سرور اس واقعہ کی چشم دید گواہ تھیں ۔ انہوں نے بی بی سی کے ساتھ بات چیت میں اپنے والد کی گرفتاری کے حالات کی وضاحت کی۔ صحافی کو زبردستی تحویل میں لیا گیا میں کھڑکی سے دیکھ رہی تھی۔ اس آدمی نے کہا کہ وہ چک نمبر بتیس سے آیا ہے اور اس کے بیٹے پر تشدد ہوا تھا۔ اس نے کہا کہ کچھ افراد نے اس کے بیٹے کے ساتھ غلط کام کیا تھا اور پولیس رپورٹ درج کرنے سے انکار کر رہی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ بابا اس بارے میں اپنے اخبار میں لکھیں۔ بابا نے اس سے کہا کہ جب تک پولیس رپورٹ نہیں لکھ لیتی تب تک وہ اس کے ساتھ نہیں جا سکتے۔‘ سرور مجاہد کے ساتھ تشدد کیا گیا بابا نے ایک دم شور مچایا اور کہا ’یہ آپ لوگ کیا کر رہے ہو‘۔ اس پر ان افراد نے بابا کو زمین پر گرا کر گھسیٹنا شروع کر دیا۔ یہ دیکھ کر امّی دوڑ کر باہر نکلیں تو انہوں نے امّی پر بھی پستول رکھ دی۔‘ پڑوسیوں کی کوششیں ناکام ہوگئیں اس کے بعد وہ بابا کو یہاں کے مرکزی ملاد چوک لے گئے۔‘ کارروائی پولیس اور رینجرز نے کی صحافی ہونے کی سزا جب سے بابا کو زبردستی لے جایا گیا تب سے ہم میں سے کوئی ان سے نہیں ملا۔ اب تقریباً 24 گھنٹے ہو گئے ہیں اور ہمیں اب تک یہ پتا نہیں چل پایا ہے کہ ہمارے بابا کہاں ہیں۔‘ اب تک سرور مجاہد کا کوئی پتا نہیں ہے اب تک بابا پر کوئی باقائدہ الزام نہیں لگایا گیا ہے۔ مجھے یہاں کے تحصیل ناظم ندیم عباس سبیرا نے پتا کرکے بتایا ہے کہ بابا کو رینجرز کے حکم پر گرفتار کیا گیا ہے اور اب انکو تین ماہ کی عدالتی تحویل میں رکھا جائےگا۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||