BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اوکاڑہ: فوج پر زیادتی کا الزام
اوکاڑہ
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسانوں کو فوج نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے
حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے پاکستان کے شہر اوکاڑہ میں فوج اور کسانوں کے درمیان تنازعہ پر ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیاہے کہ فوج اس مسئلے میں کسانوں پر تشدد کرتی آرہی ہے۔

اکیس جولائی بروز بدھ کو شائع ہونے والی اس رپورٹ کا عنوان ہے ’خون کے دھبے لگے ہاتھ : پنجاب میں کسانوں کی تحریک کے خلاف پاکستانی فوج کی کارروائی‘۔

چوّن صفحات پر مشتمل رپورٹ میں سو سے زائد افراد سے بات کی گئی ہے جن میں کسان، سیساتدان اور فوجی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اوکاڑہ کا یہ جھگڑا سنہ دو ہزار میں وزارت دفاع کے ایک فیصلے کے بعد شروع ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ اوکاڑہ مِلٹری فارمز کی سترہ ہزار ایکڑ اراضی پر رہنے والے کاشتکاروں کو اب پٹے یعنی کرائے میں نقد روپے ادا کرنے ہونگے بجائے فصل کا حصہ دینے کے۔ اس کے علاوہ کاشتکاروں کو کہا گیا کہ ان کو اس سلسلے میں نئے معاہدوں پر دستخط کرنے ہونگے۔

لیکن کاشتکاروں نے یہ کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ ان کو اٹھارہ سو ستاسی کے قانون ’دی پنجاب ٹیننسی ایکٹ‘ کے تحت زمین پر رہنے کے حقوق متاثر ہوتے اور وہ آکیوپنسی ٹیننٹ کے بجائے صرف پٹے دار یا ’سمپل ٹیننٹ‘ قرار دیے جاتے۔ اس کے علاوہ نقد کرایہ ادا کرنے سے ان کا ’بٹائی سسٹم‘ یعنی زمیندار کو فصل کا حصہ دینے کا سسٹم ختم ہو جاتا۔

جھگڑا پچھلے سال اپنے عروج پر اس وقت پہنچا جب پانچ مئی اور بارہ جون کے درمیان پولیس اور رینجرز نے اوکاڑہ کے اٹھارہ گاؤوں کا محاصرہ کیا۔ محاصرے کے دوران بجلی، پانی اور فون کاٹ دیے گئے تھے۔محاصرہ اس وقت ختم ہوا جب کئی کسانوں کو زمینوں سے متعلق کاغذات پر دستخط کرنے پر مجبور کردیا گیا۔

اوکاڑہ
پچھلے سال فوج نے علاقے کا محاصرہ کر رکھا تھا

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق فوج اوکاڑہ کے ان کاشتکاروں سے زمین حاصل کرنا چاہتی تھی لیکن تنظیم کی تحقیقات کے دوران یہ واضح نہیں ہو سکا کے یہ زمین کس کی مِلکیت ہے۔ وزیر داخلہ نے تنظیم سے ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ زمینیں پاکستانی فوج کی ہیں جبکہ پنجاب کے وزیر اعلی نے تنظیم کو صاف الفاظ میں کہا کہ یہ زمینیں پنجاب حکومت کی ہیں۔

وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ فوج نے علاقے میں کسی طرح کاظلم نہیں کیا جبکہ پنجاب کے وزیر اعلی نے اعتراف کیا کہ اس جھگڑے کے دوران حقوق انسانی کی کچھ خلاف ورزیاں ہوئی تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں رینجرز کے دستوں نے نہ صرف لوگوں کو ہلاک کیا بلکہ باقاعدہ تشدد کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسانوں کے بچوں تک پر تشدد کیا گیا۔

ہیومن رائٹس واچ تنظیم کے ایگزیکیٹیو ڈائریکٹر بریڈ ایڈمز نے کہا ہے کہ ’پاکستان کی فوج اور اس کے نیم فوجی دستے پنجاب میں اپنے ہی لوگوں کا تحفظ کرنے کے بـجائے ان پر تشدد کر رہے ہیں۔ یہ پاکستان کے لیے ایک بہت خطرناک گھڑی ہے جب فوج اپنے ہی لوگوں کے خلاف ایسا کر رہی ہے۔‘

رپورٹ نے حکومت پاکستان کو چھ اہم تجاویز پیش کی ہیں:

1۔ فوری طور پر اوکاڑہ سے رینجرز کے تمام دستے واپس بلائے جائیں اور ان کو آئندہ علاقے میں کبھی نہ تعینات کیا جائے۔

2۔ اس جھگڑے میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں پر پوری تفتیش کی جائے اور ذمہ دار اہلکاروں کو سزا دی جائے۔

3۔ اوکاڑہ مِلٹری فارمز کے برطرف کیے گئے تمام ملازمین کو بحال کیا جائے۔

4۔اس جھگڑے کے دوران کسانوں کے خلاف درج ہونے والے تمام غلط ایف آئی آر اور مقدمات واپس لیے جائیں۔

5۔حراست میں لیے گئے افراد کو خفیہ مراکز میں نہیں بلکہ صرف ایسی جگہوں پر رکھا جائے جن کے بارے میں سب کو معلوم ہو کہ یہ حراستی مراکز ہیں۔ اور حراست میں رکھے گئے افراد کے گھر والوں کو ان کی حراست کی اطلاع ہونی چاہیے اور ان کو ان کے بنیادی حقوق فراہم کیے جانے چاہییں۔

6۔ صحافیوں اور حقوق انسانی کی تنظیموں کو تمام اضلاع میں جانے کی اجازت ہو اور حقائق معلوم کرنے کی ان کی کوشش کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔ حکومت آزادی صحافت کا احترام کرے اور صحافیوں کو حراساں نہ کرے اور ان پر کسی قسم دباؤ نہ ڈالے۔

پاکستانی حکام نے ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں عائد کیے جانے والے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد