BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 February, 2005, 11:29 GMT 16:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوج جھک گئی، سڑک کھل گئی

اوکاڑہ
’فوج نے ڈیڑھ ماہ سے تقریبا آٹھ مربع زرعی زمین پر قبضہ کرلیا ہے‘
اوکاڑہ کے قریب ملٹری فارمز کے مزارعین نے اپنے فوری مطالبات مانے جانے پر چھ گھنٹے سے زیادہ دیر تک جی ٹی روڈ کو بند رکھنے کے بعد اپنا دھرنا ختم کرکے تقریباً آٹھ بجے رات سڑک کو ٹریفک کے لیے کھول دیا ہے۔

مزارعین کا مطالبہ مانتے ہوئے فوج نے ملٹری فارمز کے پاس اوکاڑہ کی شگور روڈ پر نئی بنائی گئی اپنی دو چیک پوسٹیں ختم کردی ہیں اور مزارعین کے ضبط کیے گئے ٹریکٹر اور ٹرالی ان کو واپس کردیے ہیں۔

مزارعین کے احتجاج کی وجہ سے اوکاڑہ کے قریب سے گزرنے والی ریل پٹری پر ریل گاڑیوں کی آمدورفت بھی تقریباً پانچ گھنٹے بند رہی۔

ہفتے کی سہ پہر تقریبا پونے دو بجے اوکاڑہ شہر سے دو کلومیٹر کے فاصلہ پر ملٹری فارمز کے سینکڑوں مزارعین جی ٹی روڈ پر جمع ہوگئے۔ انہوں نے تقریبًا ایک گھنٹہ زبردست ہوائی فائرنگ کی، سفیدے کے درخت سڑک پر گرائے اور انہیں آگ لگا کر سڑک کو ہرقسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا تھا۔

جواب میں پولیس کی بھاری نفری اس جگہ پہنچ گئی اور اس نے بھی ہوائی فائرنگ کی لیکن مظاہرین منتشر نہیں ہوئے۔ شام پونے آٹھ بجے تک سڑک پر ایک کلومیٹر تک دو ہزار کے قریب مرد، عورتیں اور بچے درختوں کو آگ لگا کر سڑک پر بیٹھے رہے اور پولیس کی بھاری نفری ان سے کچھ فاصلے پر کھڑی رہی۔

اوکاڑہ کے ضلعی پولیس آفیسر ظفر عباس نے انجمن مزارعین سے بات چیت کی اور انہیں سڑک کھولنے کے لیے کہا لیکن مزارعین کا اصرار تھا کہ پہلے ان کے علاقہ میں فوج کی بنائی گئی دو نئی چیک پوسٹیں ختم کی جائیں تب وہ انتظامیہ سےمذاکرات کریں گے۔

چھ گھنٹے کے طویل دھرنے کے بعد بالآخر فوج نے گھٹنے ٹیک دیے اور اپنی چیک پوسٹیں ختم کردیں اور مزارعین کا دھرنا ختم ہوگیا۔

اس دوران میں ملتان سے لاہور جانے والا ٹریفک اوکاڑہ کے پاس رکی رہا جس سے بسوں اور دوسری گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور ہزاروں مسافروں کو جن میں عورتیں، بچے اور بوڑھے شامل تھے ، شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

انجمن مزارعین کے جنرل سیکرٹری عبدالستار نے بی بی سی کو بتایا کہ فوج نے گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے مزارعین کی زیرکاشت آٹھ مربع ارضی پر قبضہ کیا ہوا ہے اور وہاں کیمپ بنائے اور ریٹائرڈ فوجیوں کے لیے مکانات بنائے جارہے ہیں۔

انجمن مزارعین کا کہنا ہے کہ فوج نے مزارعین کے چار ڈیروں اور پانچ چھ مکانوں پر بھی قبضہ کرلیا اور ان کے مال مویشی قبضہ میں لے لیے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس مشین گنیں نصب کرکے گاڑیوں پر فارمز کے پاس گشت کرتی رہتی ہے اور فوج نے دو نئی چیک پوسٹیں شگور روڈ پر بنالیں جہاں پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا۔

دو دن پہلے تک مزارعین کی فوج کے ایک اعلی افسر سے بات چیت چل رہی تھی لیکن وہ ناکام ہوگئی جس کے بعد ہفتہ کی صبح مزارعین نے تمام فارمز پر اعلانات کرکے کسانوں کو چار چار ایل چک پر جمع کرلیا اور سڑک پر دھرنا دیا۔

عینی شاہدوں کے مطابق مزارعین کے پاس بھاری تعداد میں اسلحہ تھا اور ان کی فائرنگ کے ڈر سے اوکاڑہ کے پاس سے ریل گاڑیوں کی آمد و رفت بھی روک دی گئی۔

مزارعین ٹھیکے کا نظام متعارف کرانے اور مزارعت کے سو سال پرانے نظام کی بندش کے خلاف چار سال سے احتجاج کررہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد