انتخابی افسر کی پٹائی کے ملزم رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قصور میں اسٹنٹ الیکشن کمشنر کی پٹائی میں ملوث صوبائی پارلیمانی لیڈر ملک محمد احمد خان اور ان کے رشتہ دار کو لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر رہا کر دیا گیا ہے۔ انہیں بدھ کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔ وکیل صفائی کا موقف تھا کہ ملزمان نے اپنی ضمانت قبل از گرفتاری کروا رکھی تھی جس کے مطابق وہ آٹھ اکتوبر تک پولیس انہیں گرفتار نہیں کر سکتی تاہم سیشن عدالت کے اس حکم کے باوجود انہیں گرفتار کیا گیا جو غیر قانونی ہے اس لیے انہیں رہا کیا جائے۔ عدالت نے پولیس کے سٹیشن ہاؤس آفیسر کا موقف سننے کے بعد ان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوۓ ملزمان کی رہائی کا حکم دے دیا جس پرملزمان کی ہتھکڑیاں کھول دی گئیں۔ صوبائی پارلیمانی لیڈر،ان کے بھائی اور ساتھیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے چند روز پہلے قصور میں الیکشن کمشن کے ایک اہلکار کو زدو کوب کیا ہے۔ صوبائی سیکرٹری داخلہ کے حکم پر انہیں دو روز پہلے گرفتار کیا گیا اور بعد میں ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت بھی دفعہ عائد کی گئی۔ منگل کو لاہورہائی کورٹ نے انسداد دہشت گردی عدالت کو کارروائی سے روک دیا تھا اور خود اس معاملے کی سماعت کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان میں بلدیاتی انتخابات کا تیسرے اور آخری مرحلے میں کل ملک بھر میں ضلع اور تحصیل کی سطح پرناظمین اور کونسلروں کا انتخاب کیا جائے گا ان انتخابات میں صرف وہ لوگ ووٹ ڈال سکیں گے جو الیکشن کے پہلے اور دوسرے مرحلے میں بلدیاتی نمائندوں کے طور پر منتخب کیے جاچکے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||