BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 October, 2005, 14:21 GMT 19:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پٹائی کیس: رہائی کی کوششیں ناکام

انتخابات
گرفتار پنجاب اسمبلی کے پارلیمانی سیکرٹری پر قصور میں اسسٹنٹ الیکشن کمشنر پر تشدد کاالزام ہے
قصور میں اسسٹنٹ الیکشن کمشنر پر تشدد کے الزام میں گرفتار پنجاب اسمبلی کے پارلیمانی سیکرٹری اوران کے آٹھ ساتھیوں کی رہائی حاصل کرنے کی کوششیں تاحال کامیاب نہیں ہوسکیں ہیں۔

پیر سے گرفتار یہ ملزمان منگل کو بھی دو عدالتوں میں پیش ہوئے۔

پارلیمانی سیکرٹری ملک محداحمد خان، یونین کونسل ناظم ملک اعجاز خان اور اس مقدمہ میں گرفتار سات دیگر اشخاص کو پہلے قصور پولیس نے لاہور میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جہاں عدالت نے ان کے وکلاء صفائی کی یہ استدعا منظور کر لی کہ انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھجوانے کی پولیس کی درخواست کی سماعت دوپہر ایک بجے تک ملتوی کر دی جائے۔

اس دوران گرفتار شدگان نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کر دی جس پرہائی کورٹ کے جسٹس شیخ رشید نےانسداد دہشت گردی عدالت میں ہونے والی کارروائی کو معطل کرنے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ گرفتار شدگان کل لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوں۔

پبلک پراسیکیوٹر رانا بختیار نے بی بی سی کو بتایا کہ ہائی کورٹ کے احکامات ملنے کے بعد انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کل تک کے لیے اپنی کارروائی مؤخر کر دی ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئین کے تحت فوجداری مقدمہ میں گرفتار کیے جانے والے کسی بھی شخص کو عدالت سے ریمانڈ حاصل کیے بغیر چوبیس گھنٹے سے زیادہ حراست میں نہیں رکھا جاسکتا۔

رہائی ملتوی
ہائی کورٹ کے احکامات ملنے کے بعد انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کل تک کے لیے اپنی کارروائی موخر کر دی ہے۔

صوبائی پارلیمانی سیکریٹری پولیس کی حراست میں ہیں اور آخری اطلاعات آنے تک پولیس نے ان کی رہائی کی تصدیق نہیں کی ہے۔

صوبائی پارلیمانی سیکرٹری پر الزام ہے کہ انہوں نے قصور ضلع کے اسسٹنٹ الیکشن افسر کو زدوکوب کیا ہے اس پر ان کے خلاف تھانہ بی ڈویژن قصورمیں فوجداری مقدمہ درج ہوا۔

پیر کو ملک محمد احمد کی گرفتاری بھی ڈرامائی رنگ لیے ہوئے تھی انہوں نے فوجداری مقدمہ میں ایک مقامی عدالت سے ضمانت کروائی اور پولیس کے روبرو تفتیش کے لیے پیش ہوگئے۔

پولیس اس مقدمے میں ضمانت ہوجانے کے بعد انہیں گرفتار نہیں کر سکتی تھی لیکن انہیں یہ علم نہیں تھا کہ بعد میں ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی ایک ایسی دفعہ کا اضافہ کردیا گیا ہے جو کسی سرکاری اہلکارکو فرض کی بجا آوری روکنے کے الزام میں عائد کی جاتی ہے۔

ملک محمد احمد نے اس دفعہ کے تحت اپنی ضمانت نہیں کروائی تھی اس لیے انہیں گرفتار کر کے آج انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد