BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 September, 2005, 02:24 GMT 07:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور میں انتخابی دھاندلی کا الزام

انتخابات
حزبِ اختلاف نے احتجاجی مظاہرے کی کال دی ہے
حزب اختلاف کی تین بڑی جماعتوں کے اتحاد نے الزام لگایا ہے کہ حکومت چھ اکتوبر کو ٹاؤن ناظموں کے لیے ہونے والے انتخابات میں لاہور میں اپنے امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب کرانا چاہتی ہے اور حزب اختلاف کے حامیوں اور کارکنوں کو پولیس کے ذریعے ناجائز مقدموں میں گرفتار کررہی ہے اور ان پر دباؤ ڈال رہی ہے۔

حزب اختلاف کی ان تینوں جماعتوں نے ہفتہ کے روز (آج) سہ پہر کو اس معاملہ پر احتجاجی مظاہرہ کی کال دی ہے۔

لاہور میں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ(نواز) اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں، عزیزالرحمن چن، نصیر بھٹہ، سعد رفیق اور اعجاز چودھری، نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ نشتر ٹاؤن میں ناظم کے لیے حزب اختلاف کے امیدوار اور اس کے متبادل امیدواروں کے کاغذات نامزدگی ریٹرننگ افسر نے مسترد کردیے ہیں۔ یوں اب شہر کے اس ٹاؤن میں صرف حکومتی امیدوار شیخ یونس میدان میں ہیں۔

ان رہنماؤں نے الزام لگایا کہ حزب اختلاف کے امیدوار ڈاکٹر زاہد اکرم نت کے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کو پولیس نے اغوا کیا اور ایک بیان پر زبردستی دستخط کرائے کہ انہوں نے اس امیدوار کو تجویز نہیں کیا۔ بعد میں ان لوگوں نے ریٹرننگ افسر ایڈیشنل سیشن جج اعظم علی کے دفتر میں یہ بیان بھی دے دیا جس پر حزب اختلاف کے امیدوار کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے۔

حزب اختلاف کے رہنماؤں نے الزام لگایا کہ ان کے متبادل امیدواروں کے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ افراد کو پولیس نے اغوا کرکے غائب کردیا ہے اور کچھ لوگوں کو ناجائز مقدموں میں نامزد کردیا ہے جس کی وجہ سے وہ چھپتے پھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ریٹرننگ افسر نے متبادل امیدواروں کے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ لوگوں کے بارے میں پوچھا تو وہ پیش نہیں ہوسکے جس بنیاد پر انہوں نے ان کے کاغذات مسترد کردیے۔

مشترکہ حزب اختلاف نے دعوی کیا کہ پولیس نے ان کے امیدواروں کی انتخابی مہم چلانے والے پندرہ کارکنوں اورمقامی رہنماؤں کو گرفتار کیا ہوا ہے۔

حزب اختلاف نے اپنے مقامی رہنماؤں کی رہائی اور ریٹرننگ افسر کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا اور چیف الیکشن کمشنر عبدالحمید ڈوگر سے از خود اس صورتحال کا نوٹس لینے کی درخواست کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد