بلدیاتی انتخابات میں بیٹا بمقابلہ باپ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کے تیسرے مرحلے کے انتخابات کے لیے بعض مقامات پر دلچسپ صورتحال سامنے آئی ہے اورگوادر میں بلدیاتی انتخابات کے لیے ایک بیٹا بلوچ قوم پرستوں کا امیدوار ہے جبکہ باپ حکمران مسلم لیگ اور اتحادیوں کا امیدوار ہے۔ گوادر میں بلوچ قوم پرست جماعتوں نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ نے ناظم کے عہدے کے لیے نوجوان رؤف کلمتی کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔ یہ نوجوان دونوں قوم پرست جماعتوں کے لیے قابل قبول ہے۔ اب حکمران مسلم لیگ اور اس کے اتحادی خصوصاً بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی گروپ نے رؤف کلمتی کے والد غفور کلمتی کو اپنا امیدوار نامزذ کیا ہے۔ اس وقت بلوچ قوم پرست رہنما حکومت کی اس چال سے پریشان ہیں۔ گوادر میں نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے حمایتی امیدواروں نے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔ بی این پی کے جنرل سیکرٹری حبیب جالب ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ دونوں جماعتیں مل کر مضبوط حکومت بنا سکتی ہیں لیکن اگر کسی وجہ سے علیحدہ علیحدہ انتخاب لڑا گیا تو حکمراں جماعت مسلم لیگ اور اتحادی فائدہ اٹھا لیں گے۔ گوادر میں اس وقت زبردست سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام محمد یوسف چند دنوں میں دو مرتبہ گوادر کا دورہ کر چکے ہیں اور گزشتہ روز بھی گوادر میں موجود تھے۔ وزیر اعظم شوکت عزیز نے گیارہ ستمبر کو یہاں پہنچنا تھا لیکن ان کا دورہ سولہ ستمبر تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ حبیب جالب ایڈووکیٹ نے الزام لگایا ہے کہ گوادر میں وفاقی اور صوبائی حکومت براہ راست مداخلت کر رہی ہیں اور پلاٹوں تک کی آفر دی جا رہی ہیں تاکہ حکمران جماعت ضلعی حکومت قائم کر سکے۔ گوادر میں گہرے پانی کی بندر گاہ اور دیگر میگا پراجیکٹس کے حوالے سے حکومت اور بلوچ قوپ پرست جماعتوں میں زبردست اختلاف پائے جاتے ہیں۔ حکومت اپنی کامیابی سے یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ لوگ حکومتی پالیسیوں کی تائید کرتے ہیں جبکہ قوم پرست جماعتیں اپنے موقف کے کامیابی کے لیے بھر پور قوت سے گوادر میں حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر ضلعے کی سطح پر علیحدہ علیحدہ اتحاد بن رہے ہیں۔ قلعہ عبداللہ میں جمعیت علماء اسلام اور نیشنل پارٹی کے حمایتی امیدواروں نے پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے خلاف اتحاد قائم کیا ہے جبکہ ژوب میں پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی نے حکمران مسلم لیگ کے ساتھ مل کر صوبائی حکومت میں شامل جمعیت علماء اسلام کے خلاف اتحاد کیا ہے۔ اسی طرح کوئٹہ میں حزب اختلاف میں شامل جماعتوں کے ساتھ مجلس عمل کے قائدین نے اتحاد قائم کرنے کی حامی بھری ہے۔ خضدار میں بی این پی مینگل اور نیشنل پارٹی اتحاد قائم کر رہے ہیں تو قلات میں نیشنل پارٹی کے ایک دھڑے نے جمعیت کے ساتھ اتحاد کر رکھا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||