BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 October, 2005, 04:47 GMT 09:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ضلعی ناظمین کے لیے ووٹنگ مکمل

تمام بڑی جماعتوں نے اپنے رہنماؤں کو ضلعی ناظمین کی نشستوں پر امیدوار کھڑا کیا ہے
پاکستان میں بلدیاتی انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلے میں ضلعی، تحصیل اور ٹاؤن ناظمین کے انتخاب کے لیے ملک کے ایک سو آٹھ اضلاع میں ووٹنگ مکمل ہو گئی ہے۔ ضلعی ناظمین کے لیے چار سو تیس امیدوار میدان میں ہیں۔

ان انتخابات میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے اور دوسرے مرحلے میں منتخب ہونے والے کونسلروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

بلدیاتی انتخابات کو عموما ملک میں ہونے والے عام انتخابات کی ریہرسل تصور کیا جاتا ہے اور ان انتخابات کے نتائج کو سیاسی پنڈت اسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی اس یقین دہانی کے باوجود کہ یہ انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہو رہے ہیں ملک کی تمام بڑی جماعتوں نے اپنے رہنماؤں کو ضلعی ناظمین کی نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے۔

ناظمین اور نائب ناظمین کے علاوہ خواتین، اقلیتوں اور مزدوروں کی مخصوص نشستوں کے لیے بھی آج ووٹ ڈالے گئے۔ چار ہزار سے زائد خواتین نے دو ہزار ستائیس نشستوں کے لیے مقابلہ کیا جبکہ اقلیتوں کی تین سو دس اور مزدوروں کی تین سو دس نشستوں کے لیے بالترتیب آٹھ سو انچاس اور دو ہزار تین سو بیس امیدوار میدان میں اترے۔

عام انتخابات کے بر عکس ان انتخابات میں سیاسی و دینی جماعتوں نے مرکز میں حکومتی اور حزب اختلاف کے اتحاد اور اپنے نظریات سے بالا تر ہو کر بلدیاتی سطح پر سیاسی مخالف جماعتوں سے اتحاد کیا ہے۔

راولپنڈی میں بلدیاتی انتخابات میں خاصی گہما گہمی دیکھنے میں آئی۔ امیدواروں کے ناموں اور تصاویر والے بینر اور جھنڈے جگہ جگہ لگے ہوئے تھے

راولپنڈی کے ناظم کے لیے اصل مقابلہ سابق ناظم طارق محمود کیانی اور سابقہ نائب ناظم اور حکمران مسلم لیگ کے حمایت یافتہ راجہ جاوید اخلاص کے درمیان ہوا۔

راجہ جاوید اخلاص کا دعوی ہے کہ اب مقتدر حلقے اور حکمران مسلم لیگ ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں جبکہ حزب اختلاف کی جماعتین طارق کیانی کی حمایت کر رہی ہیں۔

راولپنڈی کے سب سے بڑے ٹاؤن راول ٹاؤن میں بھی بڑی دلچسپ صورتحال ہے جہاں وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد کے بھتیجے شیخ راشد شفیق اور مسلم لیگ نواز کے جمہوریت نواز گروپ اور جماعت اسلامی کے الخدمت گروپ کے حمایت یافتہ امیدوار اور سابق ممبر صوبائی اسمبلی سردار نسیم کے درمیان مقابلہ ہوا۔ اسی ٹاؤن میں پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اپنا حمایت یافتہ امیدوار کھڑا کیا۔

پشاور میں ضلعی ناظم کے لیے جماعت اسلامی کے الخدمت گروپ اور عوامی نیشنل پارٹی کے عوام دوست گروپ ضلعی ناظم کے لیے ہارون بلور کو میدان میں اترے جبکہ جمیعت علما اسلام جو حزب مخالف کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی ایک اہم جماعت ہے اس نے حکومت میں شامل پیپلز پارٹی شیر پاؤ گروپ سے اتحاد کیا۔

اسی طرح چکوال میں مسلم لیگ کے سینئر نائب صدر جنرل ریٹائرڈ مجید ملک نے اپنی جماعت کی مرکزی قیادت سے بغاوت کرتے ہوئے خود ضلعی ناظم چکوال کا انتخاب لڑا۔

کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ اور جماعت اسلامی کے الخدمت گروپ کے امیدواروں بالترتیب مصطفی کمال اور سابق ناظم نعمت اللہ خان کے درمیان مقابلہ ہوا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد