امریکہ کا ارب پتی، بٹگرام کے سیاسی اکھاڑے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سرحد کے دو اضلاع میں ایسے لوگ بھی ضلعی نظامت کے امیدوار ہیں جن میں سے ایک تو عمر کے اس حصے میں سیاسی اکھاڑے میں اترے ہیں جب زیادہ تر سیاسی رہنما اس میدان کو خیر آباد کہتے ہیں جبکہ دوسرے امیدوار تئیس برس امریکہ میں گزار کر ایک ایسے ضلعے کے ناظم بننا چاہتے ہیں جہاں بلدیاتی انتخابات میں خواتین کو ووٹ نہیں ڈالنے دیا گیا۔ حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) کے ایبٹ آباد میں حمایت یافتہ ناظم کے امیدوار پچھتر سالہ حیدر زمان کہتے ہیں کہ ان کے ضلعی ناظم بننے کا مقصد ایبٹ آباد میں تعلیم کو فروغ دینا ہے۔ میرے اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ اس عمر میں یہ ذمہ داری نبھا سکیں گے تو ان کا کہنا تھاکہ وہ پوری کوشش کریں گے کہ ایک ایسے مثال چھوڑ کر اس دنیا سے کوچ کریں کہ اس کے بعد آنے والے سیاسی افراد ان کی پیروی کریں۔ حیدر زمان کے گروپ کا نام بابا گروپ ہے جس میں کافی عمر رسیدہ افراد شامل ہیں۔ تاہم ان کے سپورٹر میں اٹھارہ سالہ طالب علم ظہیر بھی ہیں جو بابا حیدر زمان کو ان کے مقابلے میں کھڑے ہونے والے نوجوان امیدواروں پر ترجیح دیتے ہیں۔ظہیر کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ حیدر زمان کا تجربہ نوجوانوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے اور وہ بہتر انداز میں اس علاقے کے لوگوں کی خدمت کر سکتے ہیں۔ ادھر صوبہ سرحد کے قدامت پسند ضلعے بٹگرام جہاں پچھلے ماہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں خواتین کو ووٹ نہ ڈالنے کے بارے میں مقامی طور پر سیاسی جماعتوں نے معاہدہ کیا تھا، ایک ایسے شخص کو ضلعے کا ناظم بننے کے لئے دینی و سیاسی جماعتوں نے اپنا امیدوار تسلیم کیا ہے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ اس ضلعے میں خواتین کو تعلیم دلائیں گے اور ان کو آئندہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے سے نہیں روکا جائے گا۔ ان امیدوار کا نام احسان اللہ خان ہے جو تئیس برس امریکہ میں نوکری کرتے رہے۔ پھر ان کی قسمت نے پلٹا کھایا اور تین برس قبل ان کی امریکہ میں لاٹری لگ گئی، محاورتا نہیں بلکہ ان کے لاٹری میں پچپن ملین ڈالر یعنی ساڑھے تین ارب روپے کا انعام نکلا۔اب وہ بٹگرام کی ان جماعتوں کے حمایت یافتہ بھی ہیں جو لاٹری کو حرام قرار دیتے ہیں۔ جب میں نے احسان اللہ خان سے پوچھا کہ امریکہ میں ہر طرح کی آزادی ہوتی ہے جبکہ بٹگرام میں تو خواتین پر اتنی پابندیاں ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ اسلام خواتین پر کسی قسم کی پابندی لگانے کی اجازت نہیں دیتا لہذا وہ ان قدامت پسند رسم و رواج کو دفن کر دیں گے جن میں عورتوں کی آزادی سلب کر لی جاتی ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں مقامی سیاست کے داؤ پیچ قومی سیاست سے ذرا مختلف ہوتے ہیں۔ مگر عوام کو صبح نو کی نوید ہر سیاستدان سناتا ہے۔ کیا ان اضلاع میں ان دونوں امیدواروں کے منتخب ہونے کے بعد کوئی تبدیلی آئے گی؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||