 |  صوبہ سرحد میں ایک ووٹر |
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کی مرحلہ وار تاریخوں کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اعلان کے فوراً ہی بعد ملک کے تمام بلدیاتی اداروں میں منتخب نمائندوں کو ان کے عہدوں سے سبکدوش کردیا گیا اور ان کی جگہ نگراں مقرر کردیے گئے۔ مسلم لیگ (ق) کے ارکان قومی اسمبلی نے کہا ہے کہ ملک کے کئی اضلاع میں زبردست بدعنوانی کی گئی جس کے نتیجے میں بلدیاتی اداروں کے اربوں روپے خرد برد ہوگئے۔ بعض حلقوں میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ شہری و ضلعی حکومتوں میں بدعنوانی اس قدر اور اس انداز میں کی گئی ہے کہ قومی سطح پر ہونے والی بدعنوانی کو بھی پیچھے چھوڑ گئی۔ اس پس منظر میں ملک کے ایک سو دس اضلاع کی چھ ہزار سے زائد یونین کونسلوں کے انتخابات کا عمل جولائی کے وسط میں شروع ہوگا لیکن ووٹنگ اگست میں ہوگی۔ قانون کے مطابق نہ صرف منتخب اراکین ِ قومی و صوبائی اسمبلی بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں بلکہ وزراء کو بھی اس کی اجازت ہوگی البتہ ناظم کے عہدے کا حلف لینے سے قبل ان ارکان کو اسمبلی کی نشستوں سے مستعفی ہونا پڑے گا۔ کیا آپ کو اپنے ناظم کا نام معلوم ہے؟ آپ کے ناظم نے اپنے حلقے میں عوام کے لئے کیا کیا؟ بلدیاتی انتظامیہ سے آپ کی کیا امیدیں ہیں؟ اسے کیسے بہتر بنایا جاسکتا ہے کہ مقامی سطح پر منتخب رہنما عوام کی جانب جوابدہ ہوں؟ آپ اپنی رائے اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhi bhej سکتے ہیں
آصف اچکزئی، چمن: جب سے بلدیاتی انتخابات ہوئے ہیں ہمارے علاقے یعنی چمن میں ایک کام ہوا ہے اور وہ بھی کوٹہ۔ اس لئے کیوں کہ روڈ کروڑں روپوں سے بنایا گیا، وہ چند ہفتے بعد ہی ایسا خراب ہوا ہے کہ ہمیں سفر کرتے ہوئے خواہ مخواہ ’ٹھیکیدار صاحب‘ کو ’اچھے‘ لفظوں سے یاد کرنا پڑتا ہے۔ مجھے امید ہے آنے والے انتخابات کے بعد لوٹ مار پھر سے شروع ہوجائے گی۔ ضیاء، پشاور: ناظم وہی بنتا ہے جو علاقے کے امیر لوگ چاہتے ہیں۔ ایسے میں کاموں کی توقع کرنا بیوقوفی ہے۔ عاطف مرزا، میلبورن: سب سے اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان میں الیکشن کا سلسلہ مسلسل چل رہا ہے۔ ٹائیم کے ساتھ ساتھ لوگوں میں یہ عقل ضرور آجائے گی کہ ان کا ووٹ کتنا اِمپورٹنٹ ہے۔ تب ہی جاکر اچھے لوگ الیکشن میں سامنے آئیں گے۔ یہ تو میں نہیں جانتا کہ اس میں کتنا ٹائیم لگے گا لیکن ہر الیکشن لوگوں میں فکر ضرور پیدا کرتا ہے اور یہ فکر سب سے ضروری ہے۔۔۔۔ بلال خان، راولپنڈی: اتنے عرصے میں راولپنڈی کے ایک مشہور علاقے کالج روڈ میں صرف ایک اعشاریہ پانچ کروڑ کا بارہ نلکوں والا واٹر فِلٹریشن پلانٹ لگ سکا۔ باقی فنڈز پتہ نہیں کہاں گیا۔۔۔۔ اعجاز اعوان، کراچی: جتنا کام کراچی سٹی گورنمنٹ نے کیا ہے شاید ہی پورے پاکستان میں کہیں ہوا ہوگا۔ تھوڑی بہت گڑ بڑ تو ہوئی ہے مگر مجموعی طور پر سٹی گورنمنٹ کی کارکردگی اچھی رہی ہے۔ اللہ کرے اب کراچی میں جو بھی آئے اس سے بڑھ کر کام کرائے مگر کل کیا ہوتا ہے کون جانتا ہے۔ میں نعمت اللہ صاحب کو سلام کرتا ہوں جنہوں نے کراچی والوں کی بلاامتیاز خدمت کی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ ایم کیو ایم کے زیراثر علاقوں میں اب بھی زیادہ کام ہوئے ہیں مگر وہ لوگ اب بھی شور کررہے ہیں۔ محمد طارق، کینیڈا: میرے علاقے میں ناظم نےبہت کچھ کیا ہے لیکن علاقے کے لئے نہیں، اپنے لئے۔ اور اگر تھوڑا بہت کیا بھی ہے تو وہ بھی اپنے من پسند لوگوں کے لئے۔ ایک سیسٹم ایک اچھا سیسٹم ہے لیکن اس پر چیک اور بیلنس والا سیسٹم ہونا چاہئے۔ جس طرح سرکاری محکموں کو ذیلی ناظم کو جوابدہ کیا ہے، اس طرح ناظموں کو بھی کسی محکمے کا پابند کیا جائے اور امیدواروں کے لئے صرف میٹرِک کی شرط نہیں ہونی چاہئے بلکہ اخلاقی طور پر بھی اس کو چیک کیا جائے۔۔۔ خدیجہ سراج، کراچی: میں کراچی سٹی گورنمنٹ کی کارکردگی جانتی ہوں، جہاں اتنے کام ہوئے ہیں جو کہ بیس سالوں میں نہیں ہوئے تھے۔ یہاں پر میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ آخر اس سے پہلے کی بلدیاتی انتظامیہ جن کے ہاتھ میں تھی انہوں نے کیا کیا؟ اگر اس کا دس فیصد بھی کام کرتے تو کراچی کا نقشہ وہ نہیں ہوتا جو کہ دو ہزار تین میں تھا۔ اب بھی سندھ گورنمنٹ نے تین سالوں میں کیا کیا ہے؟ امن عامہ کی صورت حال یہ ہے کہ جون کے مہینے میں تقریبا بیس ایم کیو ایم کے ہی منحرفین کا قتل ہوتا ہے اور گورنمنٹ ایک لفظ بھی زبان سے ادا نہیں کرتی ہے۔۔۔۔۔ شیخ محمد یحیٰ، کراچی: کراچی کے ناظمین اعلیٰ نعمت اللہ خان نے تو ایک خاص طبقے کے لئے تو فلائی اوور بنواکر ان کو فائدہ پہنچایا لیکن بنیادی مسائل، ضروری اشیاء کی قیمتوں پر کنٹرول، سیوریج کا نظام وغیرہ ۔۔۔ چاند بٹ، جرمنی: سنا ہے جہلم کا نام بھی اس لِسٹ میں ہے جہاں بدعنوانی ہوئی ہے۔ ہمارے شہر کے ناظم نے تو اپنے کوٹھے روڈ تک آگے بڑھالیے ہیں، جہلم میں یہ واحد کوٹھی ہے جو روڈ تک ہے اور کسی کی جرات نہیں کہ بولے کہ یہ تجاوزات ہے۔ ہوگا کچھ بھی نہیں، ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کو دھوئے گا اور سب پاک صاف پھر سے ناظم اور جانے کیا بن جائیں گے۔۔۔۔ عمران خان سیال، کراچی: سچ بات یہ ہے کہ آج ہر ایک منسٹر ناظم بننا چاہتا ہے۔ آخر کچھ بات ہے، میں کراچی میں رہتا ہوں تو جہاں تک کراچی کے ناظم کی بات ہے تو میں ان کو سلام پیش کرتا ہوں کیوں کہ جتنے کام انہوں نے کرائے ہیں اور کسی نے نہیں کیے۔ صوفیہ اقبال ملکانی، کراچی: آپ یقین کریں نا کریں لیکن بلدیاتی حکومت کی کارکردگی بہت اچھی رہی، تھوڑی بہت غلطیاں تو سب حکومتوں میں ہوتی ہیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اب سندھ حکومت ناظموں کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بدنام کررہی ہے تاکہ اگلے لوکل باڈی الیکشنم یںا ن کے ناظم جیت جائیں اور پورے کے پورے سندھ پر ان کا قبضہ ہوجائے۔۔۔۔ ثناء خان، پاکستان: مجھے تو اپنے ناظم کا نام تو نہیں پتہ پر کام بہت اچھا کیا ہے انہوں نے ہمارے ایریا میں، ایک دم صاف رہتا ہے، کوئی پرابلم نہیں ہے۔ عفاف اظہر، ٹورانٹو: الیکشن کے ٹاپِک پر ایک قطعہ یاد آرہا ہے جو خاص طور پر پاکستان کے الیکشن کی تعریف پر پورا اترتا ہے۔ اور ہر الیکشن میں یہی کہانی ہوتی ہے: شہر میں ہُو کا عالم تھا جِن تھا یا الیکشن تھا مرحومین شریک ہوئے سچائی کا چہلم تھا۔ امین اللہ شاہ، پاکستان: پاکستان کا بلدیاتی نظام ایک ڈھونگ ہے، ماسوائے اکا دکا ناظمین کے سب کمیشن خور ہیں۔ یہ بدعنوانی کی لعنت ہمیں وراثت میں ملی ہے کیوں کہ زیادہ تر پاکستانی موروثی بری فطرت ہیں۔ اور یہ بدعنوانیوں کی لعنت اوپر سے نیچے کی طرف بدرجہ اتم موجود ہے۔۔۔۔ فیصل جاوید، کراچی: جناب، ہمارے کراچی میں تو نعمت اللہ صاحب کی کارکردگی بہت اچھی رہی، حالانکہ میں نے ان کو لاسٹ الیکشن میں ووٹ نہیں دیا تھا لیکن اب ان کی اونیسٹی دیکھتے ہوئے دینے کا اراردہ بن گیا ہے۔ جاوید اقبال ملک، چکوال: پہلی بات تو یہ ہے کہ جو نیو ناظم دیا گیا ہے وہی ناکام ہوچکا ہے۔ ناظمین نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا، ہمارے ڈِسٹرکٹ ناظم نے بھی اپنے چند من پسند لوگوں کو نوازا۔۔۔۔۔ راجہ یونس، سعودی عرب: جہاں نیچے سے لے کر اوپر تک ایک ہی مقصد ہو کہ بہتی گنگا میں خوب نہا لو، شاید کل ہو نہ ہو، وہاں پر اگر بد عنوانی نہ ہوگی تو کیا ہوگا؟ جس سوسائیٹی میں جھوٹ اور دھوکا عام ہو جائے وہاں سے خیر و برکت اٹھ جاتی ہے۔ جس ملک میں پریزڈینٹ سے لے کر ایک چپراسی تک کرپشن میں ملوث ہو وہاں بے چارہ ناظم ایسا کام کر گزرے تو کیا فرق پڑتا ہے؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ آرمی اپنی بیرکس میں واپس جائے اور پاکستان کو جمہوریت کی راہ پر چلنے دے۔ اس طرح شاید کچھ عرصے میں ملک کی تقدیر بدل جائے۔ نغمانہ نیازی، اسلام آباد، پاکستان: عام آدمی کے لیے ان بلدیاتی اداروں نے کچھ نہیں کیا۔ جن اداروں کی بنیاد ہی بے ایمانی پر ہو آپ ان سے خیر کی توقع کیا رکھ سکتے ہیں۔ یہ تو محض عوام کو بدھو بنانے کا ایک کھیل ہے۔ اسداللہ ہبیبانی، پاکستان: الیکشن کا وقت آتا ہے تو سیاست دان کہاں کہاں سے نکل آتے ہیں اور نئے نئے وعدے کر کے عوام کو سبز باغ دکھاتے ہیں اور جب الیکشن میں جیت جاتے ہیں تو اپنے وعدوں سے اس طرح مکر جاتے ہیں جیسے کوئی وعدے کیے ہی نہ ہوں۔ وہ تو بس اپنے اے سی بنگلوز میں رہتے ہیں اور لوگوں سے اس طرح الگ ہو جاتے ہیں جیسے کبھی ان سے ملے ہی نہ ہوں۔ فرحان ملک، کراچی: میرا تعلق کراچی سے ہے۔ کراچی کے سٹی ناظم نعامت اللہ صاحب نے تو کراچی کو بالکل بدل کر رکھ دیا ہے۔ پچھلے بیس سال میں اتنا کام کراچی میں نہیں ہوا جتنا نعامت اللہ صاحب کے چار برسوں میں ہوا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے ہمارے یہاں ہر چیز کو سیاست کے طور پر لیا جاتا ہے، اس لیے ان کے کام کو سراہا نہیں جا رہا۔ لوگوں کو کام دیکھنا چاہیئے، پارٹی مفادات نہیں۔ طاہر چودھری، جاپان: لاہور کے رہایشی ہونے کے ناطے امیر صاحب ہمارے ناظم تھے۔ انہوں نے بھی وہی کیا جو ان سے پہلے والے کرتے رہے ہیں۔ ہمیں پوری امید ہے کہ آنے والے بھی اسی طرح عوام کو لوٹتے رہیں گے۔ اسے بہتر بنانے کے لیے صرف اللہ سے دعا کی جا سکتی ہے، کیونکہ ہم غریب جو ٹھہرے۔ غریبوں کی خدا کے علاوہ کوئی سنتا بھی تو نہیں۔ ریاض فاروقی، دبئی: میں پچھلے ایک برس سے ملک سے باہر ہوں۔ اس دوران میرا ایک بار جانا ہوا ہے پاکستان۔ اگرچہ ہمارے علاقے گلستان جوہر میں کوئی خاص کام نہیں ہوا ہے، لیکن شہر میں کافی پروجیکٹ سٹی گورمینٹ نے شروع کیے تھے جو تقریباً مکمل ہو چکے ہیں۔ کراچی کی حالت بہتر ہوئی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ مہنگائی کا امپیکٹ ہر جگہ نظر آتا ہے اور کرپشن۔ ان سب کے باوجود لگتا ہے کچھ کام تو ہوا ہے کراچی میں۔ |