BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 June, 2005, 11:25 GMT 16:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جی-8 اوراسلحے کی خریدوفروخت
ہتھیاروں کی مخلالفت کرتے مظاہرین
ہتھیاروں کی مخلالفت کرتے مظاہرین
ہتھیاروں کی خرید و فروخت پر پابندی کے لئے کام کرنے والے غیرسرکاری ادارے ’کنٹرول آرمز‘ نے ایک رپورٹ میں امیر ممالک کی تنظیم جی-8 پر الزام لگایا ہے کہ وہ ان ممالک کو اسلحہ فروخت کررہے ہیں جہاں انسانی حقوق کی صورتحال تشویشناک ہے۔ فلاحی ادارے آکسفیم اور ایمنیسٹی انٹرنیشنل بھی ’کنٹرول آرمز‘ کا حصہ ہیں۔

سن دوہزار دو کے اواخر میں جب ہندوستان اور پاکستان کی افواج لائن آف کنٹرول پر لاکھوں کی تعداد میں تعینات تھیں اس وقت بھی برطانوی حکومت نے دونوں ممالک کو ہتھیاروں کی فروخت جاری رکھی تھی۔ کنٹرول آرمز اسلحے کی ذمہ دارانہ خرید و فروخت کے لئے ایک معاہدے کے حق میں کام کررہا ہے۔

کنٹرول آرمز کی رپورٹ کے مطابق جی-8 ممالک نے سوڈان، جمہوریہ کونگو، کولمبیا اور فلپائن جیسے ممالک کو اسلحہ فروخت کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جی-8 کے رکن ممالک کی طرف سے اسلحے کی غیر ذمہ دارانہ فروخت سے یہ ممالک غربت کے خاتمے ، انسانی حقوق کی صورتحال میں بہتری اور ملک میں استحکام جیسے مقاصد حاصل نہیں کرپا رہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ برطانیہ نے 2003 سے لے کر 2004 تک سعودی عرب، اسرائیل اور کولمبیا کو اسلحہ فروخت کیا اور ان تینوں ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال بہت تشویش ناک ہے۔ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب لندن میں جی-8 گروپ کے ممالک کے وزرائے خارجہ کا ایک اجلاس ہونے والا ہے۔

جی-8 ممالک نے سوڈان، میانمار (برما)، سعودی عرب، اسرائیل، چین، ایتھوپیا، نیپال، پاکستان، ہندوستان، وغیر ممالک کو اسلحے فروخت کیے ہیں۔ تاہم غیرسرکاری ادارے ہتھیاروں پر مکمل پابندی کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اسلحے کے خرید و فروخت پر ایک ذمہ دارانہ پالیسی کی ضرورت ہے۔ آپ کی نظر میں کیا کرنا چاہئے؟

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

شاہد، پاکستان:
یہ رپورٹ پاکستان کے حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے ضروری ہے جو کہتے ہیں پاکستان دفاعی لحاظ سے مضبوط ہے۔

وقار عادل، پاکستان:
جی-8 ممالک ترقی یافتہ ہیں اور نہیں چاہتے کہ باقی ممالک ان کی صف میں شامل ہوں۔ جی-8 ممالک یہ چاہتے ہیں کہ باقی ریاستیں جنگ و جدل میں اپنی تمام صلاحیتیں اور وسائل صرف کر دیں اور اس طرح وہ کبھی ترقی نہیں کر پائیں گے۔

ندیم امتیاز، امریکہ:
ہمیں بھوکا ننگا بنایا ہے ہمارے حکمرانوں نے، ہم جی-8 کو برا کیوں کہیں؟ وہ تو کہتے ہیں کہ یہ ہم ہتھیار بیچتے ہیں، خریدنا ہے تو خرید لو۔ یہ کمیشن کے لیے خریدیں تو اس میں جی-8 کیا کرے؟

امین اللہ شاہ، پاکستان:
اسرائیل اور انڈیا کو تو بی بی سی نے ایسے ہی بطور نمک شامل کر لیا۔ اسلحہ کے دائمی مریض تو مسلمان ممالک ہیں جن پر جب تک نام نہاد مسلمان، کٹھپتلی، کامچور اور جمہوریت سے عاری اور کمیشن ایجینٹ حکمرانوں کا قبضہ رہے گا، یہ جی-8 ممالک اپنی دکان چلاتے رہیں گے کیونکہ یہ ان پڑھ حکمران تعلیم اور خاص طور پر ٹیکنالوجی کے دشمن ہیں۔ اور یوں یہی بربادی کے ذمہ دار ہیں۔

عارف جبار قریشی، پاکستان:
اسلحہ اپنی دفاعی ضرورت کے مطابق رکھنا ہر ملک کے لیے ضروری ہے، لیکن اسلحہ کے انبار لگانا بالکل غلط ہے۔ اس سے ملکوں کی معیشت تباہ ہو کر رہ گئی ہے۔ جب عوام کو بھوک، غربت، بےروزگاری کا سامنا ہو تو پھر اسلحہ کا حصول بےمعنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ ویسے انسانی حقوق کی باتیں کرنے والا امریکہ ہی اسلحہ کا بڑا تاجر ہے، جس کی وجہ سے پوری دنیا کا امن تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔

لطف اللہ، متحدہ عرب امارات:
مسلمان کبھی نہیں سمجھ سکتے مغرب کے اس گورکھ دھندے کو۔

خالد عباسی، پاکستان:
اسلحہ ختم کرنے کی کوئی پالیسی تب تک کامیاب نہیں ہوگی جب تک مختلف ممالک کی سرحدوں کے بارے میں تنازعات ختم نہیں ہو جاتے۔ کیونکہ سمگلنگ بھی آرمز سپلائی کا ایک دوسرا طریقہ ہے۔ اب ذمہ داری اقوام متحدہ کی ہے کہ وہ اپنی قراردادوں پر عمل درامد کروائے اور مستقبل کے تنازعات کے لیے تیار رہے۔

اعجاز، کراچی، پاکستان:
یہ تو ان کا کاروبار زندگی ہے۔ غریب اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے شکار ممالک ہی ان کا شکار ہوتے ہیں۔ دراصل جی-8 ممالک نہیں چاہتے کہ ان ممالک سے غربت، بھوک اور افلاس کا خاتما ہو، بلکہ ان کی خواہش ہے کہ یہ تمام ملک اسی طرح لڑ کے ختم ہو جائیں۔ دنیا سے اسلحہ کے خاتمے کے لیے جب تک یہ بڑے ملک کوئی اہم اور مثبت قدم نہیں اٹھائیں گے سب باتیں اور رپورٹیں فضول ہیں۔

عمران، امریکہ:
جی-8 ممالک کی تاریخ، ہر بری چیز کی تجارت کو اس وقت تک حلال رکھتی ہے جب تک ان کے اپنے گھر تک آگ نہ پہنچ جائے۔ 1700 سے لے کر آج تک افیم اوڈرگس کی تجارت کی تفصیل پڑھ لیں۔ ویسے بھی ان کی تو روزی روٹی لوگوں کو لڑوانے پر چلتی ہے۔ اسلحہ نہیں بیچیں گے تو کیا بیچیں گے؟

سیف اللہ، ٹورانٹو، کینیڈا:
طاقتور ممالک کے خلاف آپ کے پاس عنوان ختم ہو جائیں گے اور ہمارے پاس الفاظ لیکن وہی ہوگا جو یہ چاہیں گے۔ آج کی دنیا صرف دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے، اور وہ ہیں امری ترین ممالک اور غریب ترین ممالک۔ امیر جنگ بھی کریں تو جائز، جس طرح عراق اور افغانستان میں، اور غریب نیکی بھی کریں تو ناجائز۔ لیکن ایک بات ہے کہ یہی اسلحہ آخر میں ان کے خلاف ہی استعمال ہوگا۔ جب بے انصافی حد سے بڑھ جاتی ہے تو لوگ مجبورن اسلحہ اٹھاتے ہیں۔ افغانستان اور روس کی جنگ میں روسی کلیشنکاؤ ہی زیادہ استعمال ہوا تھا۔

رحیم خان، حیدرآباد، پاکستان:
اگر اسلحہ نہیں خریدیں گے تو کمیشن کہاں سے لیں گے؟ اسلحہ نہیں ہوگا تو غریب عوام کو کیسے لارائیں گے؟ اب تک تاریخ یہی بتاتی ہے کہ پاکستان میں اسلحہ دوسرے ملکوں سے زیادہ اپنے لوگوں پر استعمال کرنے کے لیے خریدا جاتا ہے۔ اسلحہ کتنا ضروری ہے، اسی بات سے ثابت ہو جاتا ہے کہ ملٹری کا بجٹ دو سو بلین روپے ہے اور روڈس کے لیے تیس بلین۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم پر انڈیا کیوں حملہ کرے گا؟ ایک بھوکے ننگے ملک سے اسے کیا ملے گا؟

مسعود رحمان، امریکہ:
جی -8 ممالک اگر اپنا اسلحہ غریب ملکوں کو نہیں بیچیں گےتو ان کی معیشت کیسے چلے گی؟ کپڑا اور قالین بیچ کر تو یہ ملک امیر اور مضبوط نہیں ہو سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ممالک دنیا کے مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ اگر دنیا کے تمام مسائل حل ہو گئے تو ان کا اسلحہ کون خریدے گا؟

فیصل چاندیو، حیدرآباد، پاکستان:
یہ وہی ملک ہیں جو جنگ سے پہلے عراق اور افغانستان جیسے ملکوں پر بومبِنگ کرتے ہیں اور جب سب کچھ تباہ ہو جاتا ہے تو اجناس لے کر آ جاتے ہیں جیسے ان سے بڑا کوئی مفکر تھا ہی نہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو آرمز سیلز کرتے ہیں اور پھر یہی وہ ملک ہیں جو پھر معاہدے کرواتے ہیں۔۔

ریاض فاروقی، دبئی:
ہم کو تو یہی سوچنا چاہیئے کہ ہمارا وجود کیا صرف ان کی آرمز فیکٹریز چلانے کے لیے ہے تاکہ ان کی معیشت چل سکے اور ہمارے لوگ بھوک اور افلاس کی زندگی گزارتے رہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے صدام کو آرمز دیے کہ ایران کو تباہ کرو، یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسامہ کو آرمز اور پیسے دے کے اس قابل کیا، یہی وہ لوگ ہیں جو سب سے زیادہ نیوکلیئر پرولفریشن میں ملوث ہیں، اور یہی وہ لوگ ہیں جو یو این کو چلا رہے ہیں۔ ہم صرف مجرم ہیں، مدعی اور جج یہی لوگ ہیں۔

حسنین خان، پشاور:
یہی جی-8 ممالک در اصل دنیا میں ہونے والی تمام تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو جنگ کے ذمہ دار ہیں۔

کمال احمد منصور بٹ، پاکستان:
اس کو بولتے ہیں۔۔بغل میں چھری منہہ پر رام رام۔۔۔

فرحان ملک، کراچی:
جی-8 ممالک کی تو معیشت ہی اس پر چل رہی ہے۔ یہ ممالک خود جنگیں کرواتے ہیں تاکہ ان کا اسلحہ زیادہ سے زیادہ فروخت ہو۔ یہ اسرائیل کو بھی اسلحہ دیتے ہیں اور عرب ممالک کو بھی اسلحہ فروخت کرتے ہیں۔ یہ پاکستان کو بھی اسلحہ دیتے ہیں اور انڈیا کو بھی۔ یہی ان کی منافقت ہے۔

جاوید اقبال ملک، چکوال، پاکستان:
سب سے پہلے تو غور طلب بات یہ ہے کہ جی-8 میں جتنے بھی ملک ہیں وہ سب کے سب نیوکلیئر پاور ہیں اور ہر طرح کے اسلحہ سے لیس ہیں۔ مگر یہ پوری دنیا کو بےوقوف بنا رہے ہیں۔ مختلف پلیٹفارم سے یہ بات کہتے ہیں کہ دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنا ہے جب کہ خود دھڑآدھڑ ہتھیار بنا رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں دنیا میں دہشت گردی، بدامنی، آرمز کی دوڑ اور غربت کے اضافے میں ان جی -8 کا بہت بڑآ ہاتھ ہے۔

پرویز بلوچ، بحرین:
بقول شاعر :’چالاکیاں تو دیکھئیے خود قتل کرکے آپ
اوروں سے پوچھتے ہیں کیا ماجرا ہوا‘۔

قادر قریشی، کینیڈا:
ایف سولہ ناں سمجھ ممالک کے لیے ایک بہت اچھی مثال ہے۔ ان میں سے زیادہ تر تو خود گر کر تباہ ہو گئے اور کوئی بھی ملک ان کو جنگ میں استعمال نہیں کر سکا۔

66آپ کی رائے
عراق کا مستقبل کیا ہے؟ امن یا مزید تشدد؟
66آپ کی رائے
کیا اقوام متحدہ میں اصلاحات کی ضرورت ہے؟
آپ کی رائے
بین الاقوامی سرحدیں یا سیاست؟
66آپ کی رائے
کیا فورسڈ لیبر یا بیگار کوختم کیا جا سکتا ہے؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد