 |  شمالی آئرلینڈ برطانیہ کا حصہ ہے، باقی آزاد ملک |
دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد جب سامراجیت کا دور ختم ہوا، برطانیہ، فرانس اور دیگر بڑی طاقتیں بعض علاقوں سے واپس ہونا شروع ہوئیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ یورپ میں پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم میں لاکھوں جانیں ضائع ہوئی تھیں اور پرانی سامراجی طاقتوں کی مالی حالت خراب ہوچکی تھی۔ لیکن ان طاقتوں نے اپنے پیچھے ایسی سرحدیں چھوڑ دیں جنہوں نے کئی علاقوں میں کئی برادریوں کو سیاسی طور پر بانٹ دیا۔ مثال کے طور پر کشمیر کے بعض علاقے ہندوستان اور باقی پاکستان میں چلے گئے۔ آج بھی قبرص کا ایک علاقہ ترکی میں ہے اور دوسرا آزاد ملک۔ آج بھی کرد برادری عراق، ایران اور ترکی کے درمیان بٹی ہوئی ہے۔ انیس سو پینتالیس سے قبل کی نصف صدی کچھ ایسی تھی جب کئی ملک جیسے سعودی عرب اور عراق وغیرہ وجود میں آئے۔ اس دور میں سرحدوں کا تعین بڑی طاقتیں کررہی تھیں اور اسی دور میں فلسطین اور اسرائیل کے تنازعے نے جنم لیا۔ براعظم افریقہ میں کئی برادریاں کئی ملکوں کے درمیان تقسیم ہوچکی ہیں۔ اکثر ایسے علاقوں میں مسائل کی وجہ بین الاقوامی یا پڑوسی ممالک کی مداخلت ہے یا پھر حکومتوں کی جانب سے بعض برادریوں پر زور زبردستی۔ آج کے دور میں جب عالمگیریت یعنی گلوبلائزیشن کے عمل کے تحت دنیا چھوٹی ہوتی جارہی ہے کیا سیاسی اور جغرافیائی سرحدوں کی ضرورت ہے؟ آپ کے علاقے میں سرحدوں پر تقسیم ہونے کا آپ کا تجربہ کیا ہے؟ آپ کے خیال میں ایسے مسائل کا حل کیا ہونا چاہئے؟ اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی رائے سے ایک انتخاب نیچے درج ہے
سید عمران مہدی، دوبئی: ملکوں کی سرحدیں، اور آج کے پرابلم صرف یہی ہے کہ: لمحوں نے خطا کی ہے اور صدیوں نے سزا پائی ہے۔ حکم سعید خان، دوبئی: جہاں تک مجھے علم اور سمجھ ہے، انگریز کا سب سے پہلا جو ارادہ تھا وہ ہم سب جانتے ہیں کہ ساری دنیا پر برطانیہ کی حکومت ہو لیکن جب ہر طرف انقلاب اور آزادی کی آواز اٹھنے لگی اور برطانوی حکومت کمزور ہونے لگی تو وہ سمجھ گئے کہ اب ہم بےبس ہوگئے ہیں۔ تو ان کو اپنی ریاست یعنی لندن کے گرد و نواح کا بھی جانے کا ڈر پیدا ہوا اور اسی کو بچانے کے لئے انہوں نے یہ ترتیب سوچی کی جو بھی ملک آزاد ہو اس کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا جائے جس کا حفاظت کرنا نئے آزاد ملک کے لئے مشکل ہوجائے۔۔۔۔ امجد عباس، کینیڈا: یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنے آپ کو گروپ میں تقسیم کرتا ہے۔ چاہے تو وہ ملک، مذہب، فرقہ، صوبہ، ریاست ہو۔۔۔۔ عمران، امریکہ: آئیے امریکہ۔میکسیکو بارڈر سے بسم اللہ کریں۔ شاہد سید، شیکاگو: بین الاقوامی برادری کی زور زبردستی یا پڑوسی ممالک کی مداخلت کی وجہ سے دنیا میں کئی المیوں نے جنم لیا۔ مثال کے طور پر کشمیر، فلسطین، افغانستان، وغیرہ ان کی کھلی اور واضح مثال ہیں۔ اور یہ بہت بڑا کرائم ہے اور انسانیت کے خلاف اور انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ لاکھوں کروڑوں لوگ اس داداگیری اور زور زبردستی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ ملکوں اور علاقوں کی اپنی اپنی تہذیب اور تمدن ہے اور یہ ان کی پہچان بھی ہے۔ اس کو برقرار رکھنا چاہئے۔ آج ساری دنیا میں دہشت گردی کا راگ الپا جارہا ہے اور اس کا الزام ایک خاص طبقے پر ڈالا جارہا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ پڑوسی ممالک کی ناجائز مداخلت اور نام نہاد متعصب بین الاقوامی برادری کی مجرمانہ پشت پناہی ہے۔ ۔۔۔۔ عمران، امریکہ: میاں، سرحدیں ختم ہوگئیں تو ’غربت کے عالمی سمندر‘ میں ’دولت کے چھوٹے چھوٹے جزیروں‘ کا کیا بنے گا؟ سعید احمد، کراچی: سرحدوں کے خاتمے اور نرم کرنے کی باتیں تو ٹھیک ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کچھ لوگوں نے دہشت گردانہ کارروائی کرنے کا منصوبہ بنایا تو خطرناک ثابت ہوگا۔ سرحدوں کے کچھ فوائد بھی ہیں۔ علی رضا، سیالکوٹ: سرحدیں ہونی چاہئیں لیکن اتنی پابندی نہ ہو۔ جس کا دل چاہے جہاں چاہے جائے، کوئی ویزہ وغیرہ نہ ہو۔ اس طرح ہو تو یقین جانئے مزہ آجائے۔  | سرحدوں کی حیثیت کم  عالمگیریت کے اس دور میں سرحدوں کی حیثیت کم ہوئی ہے۔ ضرورت ختم نہیں ہوئی ہے۔ سرحدوں کی تقسیم جہاں بھی ہوئی ہے وہاں کے لوگوں کو جذباتی مسائل کا شدید سامنا کرنا پڑا ہے۔  حمزہ علی، کراچی |
حمزہ علی، کراچی: عالمگیریت کے اس دور میں سرحدوں کی حیثیت کم ہوئی ہے۔ ضرورت ختم نہیں ہوئی ہے۔ سرحدوں کی تقسیم جہاں بھی ہوئی ہے وہاں کے لوگوں کو جذباتی مسائل کا شدید سامنا کرنا پڑا ہے۔ کہیں خوشیاں ملتی ہیں تو کہیں غم، برصغیر کی تقسیم جب ہوئی تو کچھ ایسی ہی کیفیت تھی اور ایسے مسائل کا پرامن حل نکلنا چاہئے۔ لیکن کیاکریں انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ ماسوائے چند مسائل کے ہر جگہ خون بہا ہے چاہے تو تقسیم یا آزادی سے پہلے ہو، حصول کے لئے یا ردعمل کے طور پر۔ مذہب، رنگ، نسل، ثقافت، کی ان کی بنیاد ہیں اور سب سے بڑھ کر مفادات، انسان ان سے باہر نہیں نکل سکتا۔ یورپی یونین نے ایک مثال قائم کی ہے۔۔۔۔ غلام مصطفیٰ آرائین، کنری سندھ: میرے خیال میں، ان تقسیم شدہ علاقوں کو الیکشن کرواکر عوام کی چوائیس کے مطابق اکٹھا کردیا جائے۔ یا پھر سرحدوں کو برقرار رکھنا ناکافی ہو تو کم سے کم مقامی افراد کو تقسیم شدہ علاقوں میں جانے کی اجازت ہونی چاہئے۔ محمد نشاط کھوسو، منیلہ: میں اتفاق کرتا ہوں کہ جب یورپ میں کوئی سرحد نہیں تو ہم میں ایسا کیوں اور کب تک آخر یہ لوگ بورڈر کے نام پر نیشن کو فول بناتے رہیں گے۔ ہارون رشید، سیالکوٹ: سرحدوں کو رہنا چاہئے کیوں کہ کسی بھی ملک کے قانون کی حد بھی ہوتی ہے۔ اگر یہ سرحدیں ختم کردی جائیں تو قوانین کی کیا حیثیت رہ جائے گی؟ اگر مان لیجئے کہ سرحدیں ختم کردی جائیں تو اس سے پہلے ہمیں بین الاقوامی قوانین بنانے ہوں گے جو سب کے لئے ایک جیسے ہونے چاہئیں۔ خالد محمود، فیصل آباد: ایک مسلمان کی حیثیت سے میں چاہوں گا کہ کوئی سرحدیں نہ ہوں۔ اسلام سبق دیتا ہے کہ تمام انسان برابر ہیں، اللہ کی زمین پر سب کے مساوی حقوق ہیں۔۔۔۔ آصف، برطانیہ: میرا خیال ہے یہ سرحدیں ہی سب جنگوں کی وجہ ہیں، اسی لیے اسلام میں سرحدوں کا کوئی تصور نہیں۔ سمندر اسکان، بلوچستان: دنیامیں امن اور معاشی نظام کو درست کرنے کے لیے نئی سرحدوں کا قیام ضروری ہے۔ جس طرح برصغیر کی غیرفطری تقسیم کی گئی ہے، کشمیر اور بلوچستان وغیرہ میں جبری تقسیم کی گئی ہے۔ شاہدہ اکرام، عرب امارات: گویایہ بھی میرے دل میں ہے! عمران صاحب کی بات پڑھ کر ایسا لگا گویا میں اپنے خیالات کسی اور سے سن رہی ہوں۔۔کیا یہ سب ہم دوسروں کے لیے ہی پسند کرتے ہیں۔ ذرا بھائی بلئیر اور بش صاحب ایسا کریں تو جانیں۔ اگر ایسا ہوجاتا ہے تو پھر سوچا جاسکتا ہے۔ اللہ نے تو انسان کو آزاد پیدا کیا تھا۔ یہ درجہ بندیاں اور فرقہ بازی تو بہت بعد میں شروع ہوئی۔ اس سب کے ذمہ دار ہم اور آپ کیسے ہو سکتے ہیں؟ یہ سب تو ان خدائی فوجداروں کی بندر بانٹ کا کیا دھرا ہے جس کے ذریعے اپنی برتری قائم رکھی جاتی ہے۔
 | نفرت کی علامت  سرحدیں ہونا اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم انسان دلوں میں ایک دوسرے کے لیےنفرت کے جذبات رکھتے ہیں۔  ندیم رانا، سپین |
ندیم رانا، بارسلونا، سپین: سرحدیں ہونا اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم انسان دلوں میں ایک دوسرے کے لیےنفرت کے جذبات رکھتے ہیں۔ اگر ہم نے واقعی اس دنیا کو ایک عالمی گاؤں یا گلوبل ولیج بنانا ہے تو ہمیں ملکی سرحوں کو ختم کرنا ہوگا۔دانش محمد، باغ، آزاد کشمیر: میرے خیال میں جن ملکوں کو سامراجی طاقتوں سے آزادی ملی انہوں نے اپنے سے چھوٹے ممالک کو غلام بنانے کی کوشش کی، جیسے بھارت اور پاکستان نے کشمیر کو۔لیکن کسی بھی قوم کو زیادہ عرصے تک غلام نہیں بنایا جا سکتا۔ کریم شمعون، کراچی: میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ گلوبلازیشن کی وجہ سےجغرافیائی سرحدوں کی اہمیت ختم ہو گئی ہے تاہم یہ سرحدیں قومیت یا نیشنلزم کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اپنی موجودہ شکل میں گلوبلائزیشن کی اصطلاح ایک مبہم اصطلاح ہے کیونکہ اس سے عموماً مراد ابلاغ عامہ، تجارت اور انسانوں کے ایک دوسرے سے ملنے کے ذریعے جغرافیائی سرحدوں کی نفی لیا جاتا ہے۔ جب تک گلوبلائزیشن ایک ایسا فریم ورک نہیں مہیا کرتی جس میں سماجی، سیاسی، معاشی اور تہذیبی تمام عناصر شامل ہوں اس وقت تک گلوبلائزیشن، قومیت پر مبنی ریاستوں کے تصور کو بدل نہیں سکتی۔ خالد شاہین، ورسمولڈ، جرمنی: ملکوں کی تقسیم سے ایک ہی رنگ و نسل کے لوگوں کے درمیان نفرت پیدا ہونے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوا۔دشمنی کی وجہ سے بڑی بڑی فوج رکھنا پڑی جس سے ملک انتہائی غریب ہو گئے اورجمہوریت سے دور تر ہوتے چلے گئے۔ عوام کو خاندانوں کی تقسیم کے درد، نا انصافی اور جھوٹے مذہبی جنون کے سوا کچھ بھی نہیں ملا۔ اس صورت حال کا حل یہی ہے کہ فوجی اخراجات میں کمی کی جائے اور تعلیم کو عام کیا جائے۔علم کے بغیر کچھ بھی حاصل نہیں کیا سکتا۔روشنی ہوتی ہے تو راستہ نظر آتا ہے! شعیب طارق، واہ کینٹ، پاکستان: خدا نے انسان کی فطرت میں خود پسندی کا مادہ کچھ زیادہ ہی رکھ دیا ہے۔ انسان جب غاروں میں رہتا تھا تو تب بھی اس نے سرحدیں بنا رکھی تھیں۔ اسی طرح آہستہ آہستہ انسانوں نےگھروں کی سرحدیں بنانا شروع کر دیں۔ پھر مذہب کی سرحدیں بن گئیں، نظریات کی سرحدیں، اور اسی طرح ملکوں کی سرحدیں۔ سرحدیں بنانا ہر جاندار کی فطرت میں شامل ہے۔آپ شیر اور بکری کو ایک جگہ نہیں رکھ سکتے اس لیے سرحدیں ضروری ہیں۔  | اصل گلوبلائزیشن  جب تک گلوبلائزیشن ایک ایسا فریم ورک نہیں مہیا کرتی جس میں سماجی، سیاسی، معاشی اور تہذیبی تمام عناصر شامل ہوں اس وقت تک گلوبلائزیشن، قومیت پر مبنی ریاستوں کے تصور کو بدل نہیں سکتی۔  کریم شمعون، کراچی | فضل وھاب یوسفزئی،مردان، پاکستان: جی ہاں، جغرافیائی سرحدیں ضروری ہیں کیونکہ اگر یہ سرحدیں نہ ہوں تو بڑے ممالک اپنے ارد گرد کے چھوٹے ممالک پر قبضہ کر لیں۔اشفاق نظیر، یو کے: سرحدیں تو شاید ہمیشہ سے تھیں اور شاید ہمیشہ رہیں گی، مسئلہ تو ہمیشہ سے متنازعہ سرحدوں کا ہے جو سامراجی طاقتوں کا پیدہ کردہ ہے۔ آج کے دور میں اگر ترقی کی دور میں شامل ہونا ہے تو سرحدوں کو بہت حد تک آزاد کرنا ہوگا، نہ کہ دنیا سے کٹ کر۔ دراصل غریب ملکوں میں حکومتیں ناجائز اور اندر سے اس قدر کمزور اور بزدل ہوتی ہیں کہ وہ عام اور غریب آدمی کی نقل و حمل کو برداشت نہیں کرسکتیں۔ اس کے مقابلے پر اگر یورپی یونین کو دیکھیں تو کل کے دشمن ملک آج اس قدر آزاد ہیں کہ نہ صرف بغیر کسی چیکنگ بلکہ کسی ریکارڈ کے لوگ سفر کرسکتے ہیں۔ بوداپیسٹ کے لوگ ویانا کا ایئرپورٹ استعمال کرتے ہیں۔ جب دنیا اس قدر قریب اور ترقی کررہی ہے تو ہم ابھی تک سرحدوں پر اسلحے کی نمائش کرتے ہیں اور دوسری طرح اقلیت کو دباکر رکھنا چاہتے ہیں۔ اظفر خان، ٹورانٹو: سامراجی قوتوں کا سب سے اہم ہتھیار لوگوں کو تقسیم کرکے حکمرانی کرنا تھا۔۔۔۔ جب سامراج ملک چھوڑ کر جاتا ہے تو وہاں رقابتیں، دیواریں اور سرحدیں وہاں کے عوام کا مسئلہ ہوتی ہیں۔ جب ساتھ رہنا ہے تو پیار اور ہمدردی سے رہو۔ نثار احمد شاہانی، دادو: میرے خیال میں سافٹ بارڈر ہونی چاہئے۔ جس کو جہاں آنا ہو جانا ہو جائے اور آئے۔ صوبیہ اکرم، گگو، بورے والا: میرے خیال میں ملکوں کے سرحدوں کی وجہ سے خاندان بٹ جاتے ہیں جیسے کشمیری اور ان کے لئے مسائل کھڑے ہوجاتے ہیں۔ سرحدوں کی وجہ سے مفادپرست ممالک وجود میں آتے ہیں جو اپنے عوام کی ضروریات کی جانب سنجیدگی سے غور نہیں کرتے۔ سرحدوں کے مسائل حل کرنے سے عوام کے مسائل حل ہوجائیں گے۔ صالح محمد، راولپنڈی: گلوبلائزیشن کے اس دور میں آپ یہ کہ سکتے ہیں کہ دنیا چھوٹی ہوگئی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ملکوں کے درمیان سرحدیں ختم کردی جائیں۔ یہ فیصلہ تو عوام نے کرنا ہے، جیسا کہ جرمنی میں ہوا تھا۔ کسی بھی ملک کی ترقی کا دارومدار اس کی معاشی اور تعلیمی پالیسیوں پر ہوتا ہے، نہ کہ سرحدیں ختم کرنے سے۔ سرحدیں عوام کے درمیان لکیر ہوسکتی ہیں لیکن ترقی کی راہ میں نہیں۔ محمد سعید شیخ، بحرین: شکر ہے کہ بی بی سی نے پہلی بار تسلیم کیا کہ آج کل دنیا کے بڑی تنازعات عالمی طاقتوں کے پیدا کردہ ہیں۔ آج کل کے دور میں سرحدوں کی حد بندی کی زیادہ ضرورت ہے، ورنہ عالمی طاقتیں اپنے مطلب کے لئے ایسے تنازعات جنم دیتے ہیں۔ جاوید اقبال ملک، چکوال: یہ سارے فتنے اور فساد ان سرحدوں سے ہیں۔ مگر دنیا میں کچھ سرحدیں انتہائی پرامن ہیں اور کسی قسم کا کوئی خوف یا اندیشہ نہیں ہوتا۔ مگر پاکستان اور انڈیا کے درمیان جو سرحدیں بنائی گئی ہیں ان کی وجہ سے بہت مسائل پیدا ہوئے۔ لیکن کچھ پاور فول کنٹری کمزرو ممالک کا استحصال کرتے ہیں۔ ان کے حقوق غصب کرتے ہیں، اس طرح نہیں ہونا چاہئے۔ اشرف شاہ بلوچ، ٹورانٹو: سب سے پہلے زبان پھر مذہب اور پھر روایت اور ثقافتی طور طریقوں کو مدنظر رکھ کر از سر نو حد بندی کرنا پوری دنیا کی شدید ضرورت اور تاریخ انسانی کا ایک بہترین عمل ہوگا۔
 | مصنوعی سرحدیں  برصغیر میں برطانوی راج کا سب سے بڑا مجرمانہ فعل برصغیر کو مذہبی بنیادوں پر بھارت اور پاکستان کی دو مصنوعی ریاستوں میں تقسیم کرنا تھا۔  گل انقلابی سندھی،دادو |
آصف رفیق، لائبیریا: بلاشبہ سیاسی اور جغرافیائی سرحدیں ہماری شناخت ہیں۔ ہم قوموں کی شناخت کو تباہ نہیں کرسکتے۔ تاہم یہ صحیح ہے کہ تیسری دنیا کے ممالک اس طرح کے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ یہ سب کچھ یقینا پہلی جنگ عظیم کے خاتمے پر بیرونی طاقتوں کے چلے جانے کے بعد سے ہے، جس سے نفرت پھیل گئی ہے، کچھ سرحدیں بغیر وجہ کے بنائی گئیں۔ لیکن آج دنیا گاؤں میں تبدیل ہورہی ہے اور یورپی یونین اور دیگر علاقائی معاہدوں کے تحت سرحدیں نرم ہورہی ہیں۔۔۔۔ گل انقلابی سندھی، دادو، پاکستان: برصغیر میں برطانوی راج کا سب سے بڑا مجرمانہ فعل برصغیر کو مذہبی بنیادوں پر بھارت اور پاکستان کی دو مصنوعی ریاستوں میں تقسیم کرنا تھا۔ ان دونوں ملکوں کی سرحدوں کو دوبارہ سے ترتیب دینا چاہیے تاکہ جنوبی ایشیا کے اصل باشندے ترقی کر سکے۔ جنوبی ایشیا کی اصل اقوام سندھ، بلوچستان، پختونستان، بنگال، کشمیر، پنجاب، آسام، تامل ناڈو اور مہراشٹرا وغیرہ میں ہیں نہ کہ پاکستانی یا انڈین۔ پاکستانی اور بھارتی قومیت کی بنیاد مذھب پر ہے اور ان قومیتیوں کا فائدہ دونوں ممالک میں صرف ایک خاص طبقے کو مل رہا ہے یا برطانوں اور امریکی کمپنیوں کو۔ عمران، امریکہ: خیر تو ہے، ایک سامراجی ملک کی نیوز ایجنسی کو ساٹھ سال بعد سرحدوں کا خیال آگیا۔ نیت ٹھیک نہیں لگتی۔ اگر جغرافیائی سرحدوں کی ضرورت نہیں تو پہلے برطانیہ اور امریکہ اپنے ویزے اور اپنی سرحدیں سب کے لیے کھول دیں۔ باقی لسٹ بعد میں دوں گا بشرطیکہ یہ ’فرمائش‘ چھپ گئی! اشفاق نظیر، سلاؤ، برطانیہ: عمران صاحب، کوئی بھی اپنے گھرمیں غریبوں کو نہیں بساتا۔ برطانیہ اور امریکہ نے ایک دوسرے کے لیے دروازے کھولے ہیں یا پھر ان بدعنوان حکمرانوں کے لیے جوجو غریب ملکوں پر حکمرانی کرتے ہیں اور ان کی اولادیں یورپ اور امریکہ میں رہائش پزیر ہیں۔ حمید بلوچ، ضلع اوران: یہ کافی اچھا ہے کہ بی بی سی اس طرح مرکزئی مسائل پر بحث کرارہی ہے۔۔۔۔ بلوچستان بھی جغرافیائی، معاشرتی اور زبان کے لحاظ سے کافی مختلف ہے جسے اس وقت سے کافی نقصان پہنچا ہے جب برطانیہ انڈیا سے چلاگیا۔ بلوچستان پاکستان، ایران اور افغانستان کے درمیان تقسیم ہوگیا اور بلوچوں اور پشتونوں کی زندگی متاثر ہوئی۔۔۔۔
|