BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 May, 2005, 15:29 GMT 20:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فرانس میں یورپی آئین پر ریفرنڈم
فرانس کا ریفرنڈم اہم ہے
فرانس کا ریفرنڈم اہم ہے
فرانس یورپی یونین کے بانی ممالک میں سے ہے لیکن فرانس میں اتوار کے روز یورپی آئین پر ہونے والے ریفرنڈم میں ایک متحد یورپ کے خواب کو دھچکا لگ سکتا ہے۔ رائے شماری کے جائزوں سے لگتا ہے کہ اتوار کو ووٹنگ کے دوران بیشتر فرانسیسی شہری آئین کے خلاف ووٹ دیں گے۔ اگر ڈنمارک یا برطانیہ جیسے ممالک میں جہاں عوام کا موقف یورپی یونین کی جانب واضح نہیں رہا ہے، آئین کے خلاف ووٹ پڑے تو شاید اتنا اثر نہ ہو۔

لیکن فرانس میں ووٹروں کے فیصلے سے یورپی یونین پر دوررس نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔ نئے ممالک کی یورپی یونین میں شمولیت، تمام رکن ممالک کو ایک مقبول یورپی آئین کی فراہمی، یورپی یونین کی خارجہ اور دفاعی پالیسی مرتب کرنے کی کوششوں کو بھی دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ فرانسیسی ووٹر صدر ژاک شیراک اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے زیادہ پریشان ہیں۔ دائیں بازو اور بائیں بازو کے سیاست دان بھی یورپی آئین کے خلاف انتخابی مہم میں شامل رہے ہیں۔

رژلٹ: اتواری کی ووٹنگ میں فرانسیسی ووٹروں نے آخر یورپی آئین کے خلاف ووٹ ڈالی۔ پچپن فیصد افراد نے آئین کے خلاف ووٹ دیا، جبکہ باقی نے اس کے حق میں۔

آپ کے خیال میں فرانس میں یورپی آئین پر ہونے والے ریفرنڈم کے کیا نتائج مرتب ہوسکتے ہیں؟ کیا آپ یورپی یونین کے کسی شہر میں رہتے ہیں؟ اگر ہاں تو آپ اور وہاں کے عوام فرانسیسی ریفرنڈم کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

ڈگلس جیمز، فرانس:
میں نے آئین کے خلاف ووٹ دیا کیوں کہ میں نہیں چاہتا ہوں کہ طاقت کا محور برسلز کی جانب چلاجائے۔ ہماری حکومت مکمل طور پر آئین کے بارے میں اپنا وقت صرف کررہی ہے جو آج کے ہمارے مسائل کے حل کرنے میں مددگار نہیں ہے۔

شعیب، بنوں:
جہاں تک میرا خیال ہے یورپی یونین ناگزیر ہوچکا ہے۔ نہیں تو یونیپولر ورلڈ ہوگا، ظلم ہوگا، ستم خوب ہوگا۔ای یو کا آئین بنانے والوں کو سوچ سمجھ کر کام کرنا چاہئے تھا، میری دعا ای یو کے ساتھ ہے۔

نجیف خان، ممبئی:
فرانس کے سیاسی حالات کے مدنظر مجھے پہلے ہی اندازہ تھا کی اس ریفرنڈم میں فرانس کے عوام یورپی کنسٹیٹیوشن کو ریجیکٹ کردیں گے۔ ان کے لئے یہ ایک موقع تھا امریکی حکمرانی سے بچنے کا جس کا انہوں نے بہتر طریق سے استعمال کیا۔

پال ویور، انگلینڈ:
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہاں کے عوام کی اپنی حکومت میں اعتماد نہیں ہے، بالکل ہم لوگوں جیسے۔

عبدالصمد، اوسلو:
اس رائے شماری کے بعد جو قہر جرمنی بشمول سابقہ سوشلِسٹ ممالک (ایسٹرن بلاک)، فرانس اور اس کے ہم خیال ممالک پر ڈھائے جائیں گئے وہ قابل دید ہوگا۔ کیوں کہ جرمنی ابھی تک دوسری جنگ عظیم کی ذلت، یو کے اور فرانس کے ہاتھوں ابھی تک نہیں بھولا ہے۔ یہ قوی قیاس ہے کہ جرمنی اپنے ہم خیال حواریوں کو اپنے ساتھ ملاکر یوکے اور فرانس کو یورپی یونین سے نکال کر اپنی حزیمت کا بدلہ لے گا۔ اس کے علاوہ میرا یہ ذاتی وِژن ہے کہ وہ روس، چین اور انڈیا کو اپنے ساتھ ملاکر وہ امریکہ سے بھی دو دو ہاتھ کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ جن ممالک کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے کوئی بھی امریکہ کی بالادستی اندرون خانہ پسند نہیں کرتا۔

روس، ٹیکسس، امریکہ:
آئین کے خلاف ووٹ کا مطلب ہے کہ یورپ کے عام لوگوں کو کچھ کہنے کا حق ہے۔ پورا یورپی یونین اب تک سیاست دانوں کی سوچ تھی۔

جان محمد، یو کے:
آج فرانسیسی عوام نے ثابت کردیا ہے کہ وہ بھیڑ چال چلنے والی قوم نہیں ہے۔ اگر ان کا لیڈر ٹونی بلیئر کی طرح امریکہ کا پِٹھو بننے کی کوشش بھی کریں تو عوام ان سے منہ موڑ لیتے ہیں، نہ کہ انگریزوں کی طرح ٹونی بلیئر کو ہر دفعہ ہی ووٹ دیتے ہیں۔ فرانسیسیوں نے چارلس ڈی گال کے پیغامات کو ہرگز نہیں بھولا جس طرح برِٹِش عوام نے چرچل کی تعلیمات کو فراموش کردیا۔

مونیکا، جرمنی:
فرانس کے لوگ خوش قسمت ہیں کہ کم سے کم انہیں ’نو‘ کہنے کا موقع تو ملا۔ میرے ملک جرمنی اور آسٹریا، یونان، اٹلی، ہنگری، سلواکیہ، سلوینیہ، لتھوانیہ کے لوگوں کو تو ووٹ کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ اگر یہی جمہوریت اور آئین ہے تو میں ’نو‘ کہتی ہوں۔

ڈاکٹر زید، بصرہ:
فرانسیسی عوام یورپی آئین کو منظور نہیں کریں گے کیوں کہ انہوں نے ابھی متحدہ یورپ کے آئیڈیا کو صحیح طور پر سمجھا نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کی شناخت کو دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ عراق جنگ کی جانب یورپی ممالک کے مختلف موقف سے یو اے کے اندر کے اختلاف سمجھ میں آتے ہیں۔

آصف شیخ، ممبئی:
اگر یورپی آئین کو فرانس کے عوام کی حمایت حاصل ہونے کے بعد دنیا پر امریکی بالادستی متزلزل ہو تو میرے خیال سے وہاں کے عوام کو اس کی حمایت میں ووٹ دینا چاہئے۔ مگر ایسا ممکن نہیں کیوں کہ یورپی اتحاد دراصل امریکی حواریوں میں اضافے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اور یہ بات فرانس کے عوام زیادہ بہتر طریقے سے محسوس کرتے نظر آرہے ہیں۔ اس لئے مذکورہ آئین منظور نہیں کیا جانا چاہئے۔

گل انقلابی سندھی، دادو:
نو ووٹ اینگلوسیکسن کنسپرائیسی کی شکست ہوگی۔ فرانسی انقلاب کی روح کو زندہ آباد!

اقلیم شیخ، ممبئی:
فرانس جب انگلش زبان قبول نہیں کرسکتا تو آئین کیا قبول کرے گا۔ پہلے ایک زبان میں سب کو پرونا ہوگا، پھر متحدہ آئین کی بات سوچی جاسکتی ہے۔

ڈاکٹر سالار شاہ، پیرس:
فرینچ لوگوں اور فرینچ گورنمنٹ کی نظریات میں بنیادی فرق یہ ہے کہ عوام اپنے فلاحی معاشرے کے نظام سے دستبردار ہونا نہیں چاہتے۔ جبکہ سیاست دانوں کو مستقبل کے چین اور امریکہ سے معاشی اور سیاسی خطرہ لاحق ہے اور وہ ایک متحدہ یورپ می صورت میں ہی ان دونوں سے مقابلہ کرسکتے ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ کھلے عام سیاست دان چین اور امریکہ کے بارے میں کچھ کہنا نہیں چاہتے اور جہاں تک عوام کا تعلق ہے تو بقول فاتح عالم صاحب وہ تو اب اتنا اسپوائل ہوچکے ہیں کہ بس!

رانا سہیل، کینیڈا:
کوئی طاقت ایسی نہیں ہے جو امریکی ڈِکٹیٹرشِپ کا مقابلہ کرسکے۔ اس لئے امریکی سپریمیسی کو ختم کرنے کے لئے ای یو کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، تمام شعبوں میں، بالخصوص اقتصادی طور پر۔

شیخ زبیر فلاحی، ممبئی:
فرانس کی عوام یہ بات سمجھ چکی ہے کہ متحدہ یورپ کا خواب دکھاکر ان کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ اس لئے بعید نہیں کہ ریفرنڈم میں توقع سے زیادہ ووٹ آئین کے خلاف ہوں۔

اعظم شہاب، ممبئی:
اکثر قارئین ایسا محسوس کرتے ہیں کہ فرانس کے شہری یورپی آئین کے خلاف اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ کیوں کہ لیفٹ پارٹیوں کا بھی یہی موقف ہے اور عوام صدر شیراک سے خاصی ناراض ہیں۔ لیکن میرے خیال سے فرانس کے شہری اس ریفرنڈم کے خلاف ووٹ دیں یا اس کے موافق، اصل مسئلہ یہ ہے کہ یورپی اتحاد کے علمبرداروں کی قلعی فرانس کے عوام پر کھل چکی ہے۔ انہیں اندازہ ہوچکا ہے کہ اس اتحاد کا مطلب ان کی زندگی کو مزید تلخ بنانے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

فاتح عالم، فرانس:
فرینچ لوگ کچھ زیادہ ہی اسپوائل ہوچکے ہیں۔ ان لوگوں کے لئے ایک کمپیٹیٹیو اِنوائرنمنٹ ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
یورپی یونین کو بنانے میں فرانس کے کردار سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا۔ لیکن آپ فرانس کی ہسٹری اسٹڈی کریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ ان کے آئین میں عوام کے لئے بہت زیادہ سہولتیں موجود ہیں اور پھر اگر ایک متفقہ آئین بنتا ہے تو پہلے والا آئین نافذالعمل نہیں ہوگا۔ فرانس یورپی یونین کا ایک ترقی یافتہ کنٹری ہے اور متفقہ آئین کی روشنی میں یورپی یونین میں شامل کم ترقی یافتہ کنٹریز کے باشندوں کو روک نہیں سکے گا۔

معصومہ جان، راولپنڈی:
ہمارا مسئلہ ای یو آئین نہیں، ای یو ویزہ حاصل کرنا ہے۔

سمیع الحق رضوان، پیرس:
ریفرنڈم کا رژلٹ تو کچھ بھی ہوسکتا ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ یہاں کے عوام بڑی سی ہاں میں کنسٹیٹیوشن کو منظور کریں۔ میں یورپی یونین کو ایک بڑی ایکونامِک اور ڈیفنس پاور کی حیثیت سے دیکھنا چاہتا ہوں۔ اور اس کے فرانس میں رہنے والوں پر دور رس اثرات ہوں گے۔ کم از کم اس طرح سے ورلڈ پر امریکہ کی بالادستی بڑی حد تک فینِش ہوجائے گی۔ اور کسی حد تک دنیا کو کچھ تو انصاف ملے گا۔

66آپ کی رائے
کیا اقوام متحدہ میں اصلاحات کی ضرورت ہے؟
66آپ کی رائے
بھارت۔چین تعلقات کا علاقے پر کیا اثر ہوگا؟
66آپ کی رائے
پاکستان میں آبادی میں زبر دست اضافہ
66آپ کی رائے
مشرق وسطیٰ: غیرملکی ملازمین کی حالت
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد