BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 25 April, 2005, 12:57 GMT 17:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان میں آبادی میں اضافہ: آپ کیا کہتے ہیں؟
آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ پانی جیسی بنیادی ضرورت زندگی میں کمی ہو رہی ہے۔
آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ پانی جیسی بنیادی ضرورت زندگی میں کمی ہو رہی ہے۔
پاکستان حکومت کے’ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن سٹڈیز اسلام آباد‘ کے ایک تازہ سروے کے مطابق پاکستان کی کل آبادی پندرہ کروڑ گیارہ لاکھ ہوچکی ہے۔ پاکستان میں ہر منٹ میں دو افراد انتقال کرتے ہیں جبکہ سات بچے جنم لیتے ہیں۔ یوں ملک میں آبادی میں سالانہ اضافے کی شرح ایک عشاریہ نو فیصد ہے۔

پاکستان میں سالانہ انتیس لاکھ افراد کا اضافہ ہورہا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہر سال فیصل آباد یا سیالکوٹ جتنے شہر کی آبادی کا اضافہ۔حکومتی اعداد وشمار کے مطابق ملک میں چھتیس لاکھ لوگ بے روز گار ہیں جبکہ پانچ کروڑ بیس لاکھ افراد اب بھی ان پڑھ ہیں۔

پاکستان میں ساڑھے تین کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ حکومت کے یہ اعداد وشمار غربت کا اندازہ لگانے کے لیے مقرر کردہ عالمی معیار کے مطابق نہیں بلکہ حکومت کے اپنے معیار کے مطابق ہیں۔ عالمی معیار کے مطابق اگر اندازہ لگایا جائے تو یہ تعداد کافی زیادہ ہوسکتی ہے۔

آپ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ کیا آپ کے خیال میں پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی سےمسائل میں اضافہ ہو رہا ہے؟ آبادی میں اضافے کی وجوہات کیا ہیں اور کیا ان پر قابو پایا جاسکتا ہے؟ کیا آبادی پر کنٹرول کے سلسہ میں حکومت کے اقدامات کافی ہیں؟ انفرادی سطح پر اس سلسہ میں کیا کیا جا سکتا ہے؟

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی آراء سے ایک انتحاب یہاں دیا جاتا ہے۔


منظور شاہ سید، دیر، پاکستان:
بہت زیادہ آبادی پاکستان کے لیے خطرناک ہے اور میرا خیال ہے یہ دہشت گردی کا ایک سبب بھی ہے۔

تنویر احمد، ساہیوال، ہڑپہ:
ہر پیدا ہونے والا بچہ اپنا رزق ساتھ لے کر آتا ہے جبکہ غربت ہماری اپنی پیدا کردہ ہے۔اگر آبادی کی وجہ سے غربت ہوتی ہے توامیروں پر اس کا کوئی اثر کیوں نہیں ہوتا؟امیر تو امیر تر ہوتے جا رہے ہیں۔ جو کوئی بھی حکومت میں آتا ہے اپنی جیب بھرتا ہے اور چلا جاتا ہے تو غربت تو بڑھےگی ناں۔

محمد سید، دبئی:
صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ جن ملکوں میں بھی جہالت ہے وہاں آبادی زیادہ ہے۔ جنسی تعلیم کا شعور خود بخود آجاتا ہے جوں جوں تعلیمی قابلیت میں اضافہ ہوتا ہے۔لہٰذا یہ سمجھنا کہ جب تک جنسی تعلیم نہ دی جائے آبادی میں اضافہ ہوتے رہے گا، غلط ہے۔

عامر مستوئی، ڈیرہ غازی خان:
سبحان اللہ۔۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی مرد اپنی بیویوں سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ اگر یورپی ممالک اپنی آبادی میں اضافہ کرنا چاہتے ہوں تو انہیں پاکستان سے استفادہ کرنا چاہیے۔

احمدجاوید ترک، لاہور:
یقیناً آبادی اور وسائل میں توازن ضروری ہے لیکن یہ میڈیا کا بڑا ’عمدہ‘ استعمال ہے ایک فلاحی ریاست میں لوگوں کو ان کے حقوق کے مطابق بنیادی وسائل کی فراہمی کے شعور کی بجائے آبادی کم کرنے کے کام پر لگایا ہوا ہے۔

کیا بلوچستان میں وسائل ان کی آبادی سے کم ہیں؟ نہیں بلکہ ان وسائل پر حکومت کا قبضہ ہے اور یہی حکومت سب سے زیادہ لوگوں کو ان کے اصل ایشوز سے غافل کر کے ان کو احساس جرم میں مبتلا کر رہی ہے۔ ’میں اس لیےغریب ہوں کیونکہ میرے بچے زیادہ ہیں‘!

عامر رفیق، لندن:
جو جو حضرات آبادی میں اضافہ کے خلاف ہیں اگر ان سے کہا جائے کہ وہ بھی دو بچوں سے زیادہ بچے نہ کریں تو وہ خود کبھی اس پر عمل نہیں کریں گے۔ کیا ہر قربانی غریب آدمی ہی دے، امیر کوئی قربانی کیوں نہیں دیتے؟

فرحان ملک، کراچی:
وسائل کی تقسیم منصفانہ نہیں ہے، امیر امیر ہو رہا ہے اور غریب غریب تر۔ اگر اسلامی نظام ہوگا تو یہ تقسیم منصفانہ ہو گی، پھر آبادی کا مسئلہ نہیں رہے گا۔

قمر جاوید، فیصل آباد:
آبادی میں کمی صرف مسلمان کریں جبکہ یہودی اور عیسائی ممالک اپنی آبادی میں اضافہ کریں۔ یہ مسلمانوں کی آبادی کم کرنے کی ایک چال ہے تا کہ ان کو آسانی سے دبایا جا سکے۔اسلام تو کہتا ہے اس عورت سے شادی کرو جو زیادہ بچے پیدا کر سکے۔

عدنان، کیلیفورنیا، امریکہ:
میرا خیال ہے پاکستان اور دوسرے ایشیائی ممالک میں کامیابی کو ناپنے کا پیمانہ یہ ہے کہ آپ کتنے بچے پیدا کر سکتے ہیں۔ انہیں کون سمجھائے کہ پروڈ کٹو ہونے کے لیے ریپروڈکٹو ہونا ضروری نہیں۔

صرف بچہ پیدا کر لینا ہی کافی نہیں، اصل بات تو اس کی تربیت کی ہے۔

عدنان نذیر، پشاور:
اگر یہی حال رہا تو پیسہ تو بہت ہوگا لیکن کھانے کو آٹا نہیں ہوگا، عزت تو ہو گی لیکن عزت کرنے والا کوئی نہیں ہوگا، کام کرنے والے تو بہت ہوں گے لیکن کام نہیں ہوگا۔ ہماری اپنے بڑوں سے درخواست ہے کہ براہ مہربانی ہمارے مستقبل کےلیے ضرور کچھ کریں لیکن بابا یہ تو نہ کریں۔

فیصل خان، لندن:
ہر سال اربوں روپے دفاع پر نکل جاتے ہیں جبکہ اصل مسائل ہیں غربت، تعلیم اور آبادی، ان پر بالکل کوئی توجہ نہیں دے پا رہا ۔اگر آبادی اسی طرح سے بڑھتی رہی تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کو ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود آئی ایم ایف سے روٹی کپڑے کے لیے بھی قرض لینا پڑے۔

عبدا لرحیم احمد، کینیڈا:
مغرب میں جسے ہیومن ریسورس کہتے ہیں ہمارے ملک میں اسے بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ اپنے انسانی وسائل کو ترقی دینے کی بجائے ہم ان کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے ہمارے ملک سے ہنر مند افراد ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ جو بھی کہہ لیکن آج اپنی بڑی آبادیوں کی وجہ سے ہی چین اور انڈیا کا عالمی سطح پر ایک وزن ہے۔ زیادہ لوگ بڑی مارکیٹ۔

ڈاکرنعیم احمد، ایکسٹون، امریکہ:
آبادی پر قابو پانا ایک ترجیح ہونا چاہیے لیکن جب عام آدمی تعاون نہیں کر رہا تو ایک اور طریقہ بھی ہے تباہی سے بچنے کا۔ مغربی ملکوں کی آبادی کم ہو رہی اور اگلے بیس تیس سالوں میں انہیں افرادی قوت کی ضرورت ہو گی اس سلسلہ میں صحیح منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تا کہ جب کل ضرورت پڑے تو ہم تربیت یافتہ افرادی قوت ان ملکوں میں بھجوا سکیں۔

جبران حسنین، کراچی:
آبادی میں اضافہ نہ ہو تو اور کیا ہو۔۔ گاؤں میں لوگوں کے پاس سستی تفریح کا ایک ہی ذریعہ ہے۔ لوگوں کو خاک پتا چلےگا جب حکومت آبادی میں اضافے کو روکنے کے طریقوں کے اشتہار بچوں کے پروگرام کے دوران دکھائے گی اور پھر چینل بدل جائے گا۔

اعجازمصطفٰے، فیصل آباد:
آبادی میں اضافے سے اس وقت پریشان ہونا چاہیے جب آپ ترقی نہ کر رہے ہوں لیکن اب پاکستان ترقی کر رہا ہے۔ فکر کس بات کی لوگ زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ ہوتے جا رہے ہیں۔

خالد عباسی، کراچی:
اب تو انٹرنیٹ پر شادیاں ہو رہی ہیں اب آبادی کنٹرول کرنا مشکل لگتا ہے۔

ماما موسٰی، پاکستان:
کوئی بات نہیں، زمین بھاری ہوگی اور اس کی سپیڈ کم ہوگی تو دن لمبے ہوں گے اور راتیں بھی۔۔۔بس آرام ہوگا۔

محمد اسمٰعیل، پاکستان:
کوئی بھی حقیقت کا سامنے کرنے اور اس پر بحث کرنے کے لیے تیار نہیں، بس ہر کسی کا یہی کہنا ہے ’ بس سب صحیح ہو جائے گا‘۔ میرا خیال ہے ہم سب بوتل کے جن کا انتظار کر رہے ہیں اور ملک کی بہتری کے لیے کوئی بھی کام نہیں کرنا چاہتا۔

فیصل چانڈیو، حیدر آباد:
جب تک عوام اور وزیروں میں شعور پیدا نہیں ہوگا، ہر کوئی اپنا سفر جاری رکھے گا لیکن یہ سفر ہماری آنے والی نسلوں کے لیے بدتر حالات لائے گا۔

ڈاکٹر ایوب شیخ، کراچی:
حکمرانوں، سیاسی جماعتوں اور این جی او کو اس خطرناک صورتحال کو سمجھنا چاہیے۔تمام اخباروں کی یہ اہم ذمہ داری ہے کہ وہ اس خطرے کو لوگوں کی توجہ میں لائیں۔

آصف رانجھا، کویت:
میرے خیال میں حکومت بہت کچھ کر رہی ہے اس سلسلہ میں۔ گھرگھر جا کر ان مسائل کے بارے میں بتایا جاتا ہے لیکن تعلیم کی کمی کی وجہ سے عام لوگ ان مسائل کو سمجھ نہیں سکتے۔ اسی لیے سب سے ضروری چیز تعلیم ہے۔

محسن رضا، سعودی عرب:
اگر جہالت زیادہ آبادی کی وجہ ہوتی تو سری لنکا جس کی شرح تعلیم سو فیصد ہے وہاں یہ مسئلہ نہ ہوتا۔اصل مسئلہ دنیا میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔

سعید، اسلام آباد:
میں تو اتنا ہی کہوں گا کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ ایک دماغ، دو آنکھیں اور دو ہاتھ دو پاؤں لے کر آتا ہے، وہ دوسروں پر بوجھ نہیں ہو سکتا۔ بہرحال حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ آبادی کو کھپانے کی کوشش کرے۔

زوار حسین، خیر پور، پاکستان:
آبادی میں اضافہ نہ صرف والدین کی جسمانی اور روحانی صحت خراب کرتا ہے بلکہ ترقی بھی اس کے سبب رک جاتی ہے۔ آبادی میں اضافہ اصل مسئلہ نہیں بلکہ شعور میں کمی اصل مسئلہ ہے۔

آبادی میں اضافہ کی کئی وجوہات ہیں مگر چند کا ذکر ضروری ہے اور وہ ہیں تعلیم کی کمی، بری پلاننگ، تفریح کی کمی، غربت، بیروزگاری کا جن، مذہب سے ناشناسی اور مستقبل سے نابلدی۔

شفقت خان:
اللہ تعالٰی نے ہمیں ہر چیز کو سوچنے اور اس کے لیے منصوبہ بندی کرنے کے لیے عقل دی ہے، اس میں بچوں کی تعداد اور فیملی پلاننگ بھی شامل ہے۔ اس لیے وہ لوگ بالکل غلط ہیں جو سوچتے ہیں کہ ضبط ولادت اسلام کے خلاف ہے۔

دوسری شعبوں کی طرح حکومت پاکستان خاندانی منصوبہ بندی کے پروگراموں میں بھی بری طرح ناکام ہو چکی ہے اور اس کی وجہ حکومت کی عدم توجہی ہے۔مثال کے طور پر اگر اپوزیشن والے یہ کہہ دیتے کہ صدر کی وردی خلاف اسلام ہے تو حکومت سینکڑوں کرائے کے مفتی لے آتی اور ان سےفتوٰی لے لیتی کہ وردی میں ملبوس صدر ہی اسلام کی روح کے مطابق ہے۔ آبادی کی طرف توجہ نہ دینے کی ایک اور وجہ ’نیشنل ایوارڈ` ہے جس کے تحت ہر صوبے کو وسائل اس کی آبادی کے مطابق ملتے ہیں۔ کوئی صوبہ بھی ان رقوم میں کمی نہیں چاہتا اس لیے آبادی کو قابو کرنے کے لیے صوبائی سطح بھی کچھ نہیں کیا جاتا۔

علی عمران شاہین، لاہور:
حکمران کھائیں، اڑائیں اور ملک سے باہر بینک بھریں لیکن غریب آبادی کم کریں۔ کیسا عجیب فلسفہ ہے۔غیر مسلمان ممالک تو آبادی کم کر کے پچھتا رہے ہیں تو کیا پاکستان بھی چاہتا ہے کہ کل کلاں اسے بھی بچے پیدا کرنے کے لیے بونس دینا پڑے۔ ہماری زمینوں سے پہلے سے زیادہ خوراک پیدا ہو رہی ہے یعنی پیدا کرنے والا خود ہی خوراک دے رہا ہے ورنہ حکمرانوں کے بس میں ہوتا تو سب غریبوں کو زندہ درگور کر دیں۔

کاشف یعقوب ملک، اسلام آباد:
ایک ملک جہاں پر بنیادی ضرورتیں میسر نہیں، جہاں پر معاشرتی انصاف کا نام و نشان نہیں اور صرف طاقتور ہی زندہ رہ سکتا ہے۔۔ بڑھتی ہوئی آبادی مکمل تباہی کے علاوہ اور کیا لائے گی۔ ہمیں ایسے مستقبل سے پناہ مانگنی چاہیے جب ہمارے بچے کھانے کے لیے ایک دوسرے سے لڑ رہے ہوں۔آبادی کے سلسلہ میں بہت اچھی پلاننگ کی ضرورت ہے اور عام لوگوں کو شعور دینے کی ضرورت ہے۔

عارف جبار قریشی، دھورو نارو، پاکستان:
آبادی میں اصافہ کی ایک ہی وجہ ہے اور وہ ہے تعلیم کی کمی۔ حکومتی اقدامات بھی ناکافی ہیں۔

ظہور خان، نیو یارک، امریکہ:
خدا کے لیے بس کریں۔غریب آدمی کے پاس اس کے علاوہ ہے کیا؟ ان کے پاس نہ نوکری ہے، نہ میڈیکل کی سہولت، نہ کھیلنے کے لیے میدان، نہ سکون سے سونے کے لیے ایر کنڈیشنر۔ کم از کم بچے پیدا کرنے کا حق تواس نہ چھینیں۔

جہالت
 یہ سب تعلیم کی کمی کا نتیجہ ہے۔ جب تک جہالت دور نہیں ہوگی آبادی کنٹرول کرنا ناممکن ہے۔آبادی پر کنٹرول کی بات کریں تو اسلام آڑے آ جاتا ہے۔
اشفاق نذیر، برطانیہ

عابد عزیز، ملتان:
میرے خیال میں میٹرک کے کورس میں فوراً ’گھر کی اقتصادیات اور آبادی‘ کے نام سے مضمون شامل کیے جائیں، جن میں اعداد و شمار کے ساتھ بچوں کو سمجھایا جائے کہ آبادی گھر کی معیشت میں کس طرح عمل دخل رکھتی ہے۔

عدنان اقبال، نیبراسکا، امریکہ:
میں یہ جان کر حیران ہوں کہ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے جس کی سالانہ ترقی کی شرح زیادہ تر پانچ فیصد رہی ہے۔کیا ہم اس اچھی شرح کے فوائد آج پاکستان میں دیکھ رہے ہیں؟ یقیناً نہیں۔ اس کی وجہ آبادی کا بے قابو دیو ہے۔ آبادی کو قابو کیے بغیر ایک خوشحال پاکستان کا خواب دیکھنا واقعی
بے وقوفوں کی جنت میں رہنا ہوگا۔ ہم آبادی میں خوفناک اضافہ کے وجہ سے غربت، ناخواندگی اور ذلت کی طرف جارہے ہیں۔ اللہ ہی ہم پر رحم کرے۔

عابد عزیز، ملتان:
یہ ترقی کے لیے بہت منفی ثابت ہو سکتا ہے اور حکومت کو اس سلسہ میں اقدامات کرنے چاہئیں۔

شہریار خان، برطانیہ:
خدا کے لیے آبادی میں اس اضافہ کو روکیں۔

نیوکلئیر بم
 آبادی میں اضافہ نیوکلئیر بم سے زیادہ خطرناک ہے، پاکستان یہ بوجھ برداشت نہیں کرسکتا۔
سید عمیر، نیویارک

سید عمیر، نیو یارک:
میرے خیال میں آبادی میں اضافہ نیوکلئیر بم سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ پاکستان جیسا ملک جس کے پاس محدود قدرتی وسائل ہیں ایسے بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتا۔ اس رجحان کو صرف تعلیم اور ملائیت سے پرہیز ہی روک سکتے ہیں۔حکومت کو پاپولیشن کنٹرول پر رقم خرچ کرنا چاہیے اور ہمیں ایران سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔

چاند بٹ، جرمنی:
پاکستان میں حقیقت میں بے روزگاری کی شرح اسی فیصد ہے، آپ لوگ حکومتی اعداد و شمار پر نہ جائیں۔حکومت او اسلام آباد سے آگے کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا۔ لوگوں کے پاس تفریح کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہماری قوم بھیانک المیوں کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتی ہے۔آبادی کے اس خوفناک اضافے کو بھی ’افرادی قوت میں خود کفالت‘ کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ہے ناں عقل کی بات؟

اشفاق نذیر، برطانیہ:
یہ سب تعلیم کی کمی کا نتیجہ ہے۔ جب تک جہالت دور نہیں ہوگی آبادی کنٹرول کرنا ناممکن ہے۔ عام آدمی صرف مولوی حضرات کی بات سنتا ہے اور جب مولوی صاحب خود بیمار ہوتے ہیں تو انگریزی علاج کرواتے ہیں۔ آبادی پر کنٹرول کی بات کریں تو اسلام آڑے آ جاتا ہے۔

خالد جٹ، پاکستان:
یہ بالکل غلط بات ہے۔

عالم زیب، دبئی:
ہمیں لوگوں سے کوالٹی چاہیے نہ کہ بڑی تعداد میں لوگ۔ یہی جنگ بدر میں ثابت ہوا تھا جب مسلمان تعداد میں کم تھے لیکن اپنی مہارت اور ایمان میں بہترین۔

عفاف اظہر، ٹورانٹو:
مہینے میں ہمیں ملتی ہیں بارہ چھٹیاں اکثر۔۔ ہماری قوم ہر تعطیل پر دن رات سوتی ہے۔۔ حکومت خود تو دیتی ہے ہمیں ہر روز کی چھٹی۔۔ پھر بڑھ جائے آبادی تو روتی ہے۔

شاہ زیب خان، ایتھنز، یونان:
زیادہ بچے خوشحال گھرانہ، نئی نسل کی بڑھتی ہوئی پریشانیوں میں ایک اور اضافہ ہے۔

رحمت اللہ، کینیڈا:
یقیناُ یہ پاکستان کے لیے لمحہ فکریہ ہے اور میرے خیال میں اصل وجہ تعلیم کی کمی ہے۔گزشتہ حکومتیں اور موجودہ حکومت اس کی ذمہ دار ہے۔

عدنان عادل، امریکہ:
میرے خیال میں پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ آبادی میں اضافہ نہیں بلکہ کرپشن ہے۔

صالح محمد، راولپنڈی:
آبادی پر قابو پا بھی لیا جائے تو کچھ نہیں ہوگا کیونکہ ملک کے پچھہتر فیصد وسائل تو آرمی کے پاس چلے جاتے ہیں۔

تنویر رزاق، پاکستان:
جب تک تعلیم نہیں ہوگی سمجھ نہیں آئے گی۔ آپ دیکھ لیں اکثر ان پڑھ لوگوں کے بچے زیادہ ہوتے ہیں۔

عدیل رضوی، آسٹریا:
یہ تو سارا سائنس کا کمال ہے۔

شاہدہ اکرم، ابو ظہبی:
حکومت پاکستان کے اعداد و شمار غلط ہیں کیونکہ پاکستان میں غربت اس سے کہیں زیادہ ہے اور میرے خیال میں آبادی بھی اس سے زیادہ ہے۔ تعلیمی لحاظ سے ہم اس قدر نیچے ہیں کہ شرمندگی سے زیادہ دکھ ہوتا ہے۔حکومت کو بڑھتے ہوئے مسائل کا اندازہ ہی نہیں ہے۔ جب ایک گھر میں کمانے والے کم اور کھانے والے زیادہ ہوں گے تو ایسا ہی ہوگا۔اس رجحان کو روکنے کے لیے سب کو ہی حکومت کے فیملی پلاننگ کے پروگراموں کا ساتھ دینا ہوگا۔ عام آدمی کے شعور کے لیے اگر سکولوں نہیں تو کالجوں اور یونیورسٹی کے نصابوں میں بہبود آبادی کے مضامین شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

ترجیحات
 جب تک کہ ہماری توجہ ایف سکسٹین اور ایف ایٹین کی طرف رہی گی ہمیں اس قسم کے مسئلوں کا سامنا ہوتا رہےگا۔
ریاض فاروقی، دبئی

ڈاکٹر شاہ، برطانیہ:
شاہدہ صاحبہ کو شاید یہ نہیں پتا کہ پاکستان کی اکثریت کالج تو کیا سکول بھی نہیں جاتی۔ یہ کام ہے میڈیا کا کہ وہ شعور پیدا کرے۔

منظور بانیان، اسام آباد:
میرے خیال میں آبادی میں اضافہ ہونا چاہیے کیونکہ اس سے مسائل بڑھیں گے نہیں بلکہ کم ہوں گے۔ اللہ تعالٰی نے جس روح کا آنا لکھا ہے اسے ہم اور حکومت مل کر بھی نہیں روک سکتے۔اگر حکمران طبقہ عیاشیاں چھوڑ دے تو غربت ختم ہو سکتی ہے۔

محمد حمید گل، کراچی:
غربت کا آبادی کے بڑھنے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ آبادی کے بڑھنے کا بھی اللہ کے بنائے ہوئے نظام میں کوئی مقصد ضرور ہو گا۔

ریاض فاروقی، دبئی:
جب تک کہ ہماری توجہ ایف سکسٹین اور ایف ایٹین کی طرف رہی گی ہمیں اس قسم کے مسئلوں کا سامنا ہوتا رہے گا کیونکہ ہماری کوئی توجہ تعلیم، صحت اور معاشرے کو سدھارنے کی طرف نہیں۔

66جنسی عمل سےگریز
کیا یہی ایڈز کا حل ہے؟ آپ کی رائے
66آپ کی رائے
پاکستان میں تعلیم اور تعلیمی ادارے
66آپ کی رائے
مسلم ممالک میں خواتین کا کردار کیا ہے؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد