کراچی کےناظمین: نامزدگی فارم جمع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کے ناظم اعلی کے لیے ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور پی پی پی کے امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ اور اپوزیشن ابھی تک اپنے حتمی امیدواروں کا فیصلہ نہیں کرسکی ہیں۔ نامزدگی فارم جمع کرانے کے آخری دن متحدہ کی جانب سے بابر غوری، وسیم اختر اور ایم اے جلیل نے نامزدگی فارم جمع کرائے ہیں۔ جبکہ ایک دن قبل مصطفیٰ کمال فارم جمع کروا چکے ہیں۔ جماعت اسلامی کی جانب سے سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان اور اظہار الحق نے فارم جمع کروائے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے فوزیہ وہاب امیدوار ہیں۔ کراچی کے سٹی ناظم کے امیدواروں میں وفاقی وزیر سینیٹر بابر غوری اورصوبائی وزیر مصطفیٰ کمال، ایڈوائیزر وسیم اختر اور سابق صوبائی وزیر ایم اے جلیل ہیں۔ پی پی پی کی امیدوار فوزیہ وہاب قومی اسمبلی کی ممبر ہیں۔ سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان نے منگل کو جلوس کیساتھ پہنچ کر فارم جمع کیا۔ اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ نہ صرف کراچی کی اپوزیشن جماعتوں بلکہ پورے پاکستان کی انصاف اور جمہوریت پسند قوتوں کے مشترکہ امیدوار ہیں۔
الیکشن میں اپنی پوزیشن کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ انہیں جیتنے والے تمام لوگوں کی حمایت حاصل ہےاور وہ ضرور کامیابی حاصل کریں گے۔ نعمت اللہ خان نے کہا کہ وہ آسمان سے نہیں اترا مگر انہوں نے کراچی میں ترقیاتی کام کرائے ہیں اسے روشنیوں کا شہر بنایا ہے۔ وہ ضرور کامیاب ہوں گے۔ متحدہ کے سٹی ناظم کے لیے امیدوار کمال مصطفیٰ، وسیم اختر اور ایم اے جلیل نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے امیدوار کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے حتمی فیصلہ بیس ستمبر کو ہوگا جب دستبردار ہونے کی آخری تاریخ ہوگی۔ انہوں نے ایم کیو ایم سے باہر کے امیدوار کے امکان کو رد کیا۔ اور بتایا کہ اخبارات میں کئی نام آرہے تھے مگر ان میں سے کسی نے بھی فارم نہیں جمع پی پی پی کی امیدوار فوزیہ وہاب اسلام آباد سے منگل کو فارم جمع کرانے پہنچیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کو پارٹی چیرپرسن بینظیر بھٹو نے نامزد کیا ہے۔
دوسری جانب ایم کیو ایم کا دعویٰ ہے کہ اسے کراچی کے اٹھارہ میں سے چودہ ٹاؤنز میں اکثریت حاصل ہے اس لیے اسے یقین ہے کہ سٹی ناظم اور نائب ناظم کے عہدے وہ آسانی سے جیت سکتی ہے۔ حکمران جماعت مسلم لیگ(ق) سٹی کونسل کے نائب ناظم میں دلچسپی رکھتی تھی مگر انتخابات میں معمولی تعداد میں نشستیں جیتنے کے بعد اس کی پوزیشن کمزور ہوگئی ہے۔ سٹی نائب ناظم کا انتخاب کونسل کے اندر سے کیا جائےگا۔ متحدہ کی جانب سے نسرین جلیل نے خواتین کی مخصوص نشست اور مسلم لیگ( ق) کی طرف سے سابق سٹی ناظم طارق حسن نے لیبر کی مخصوص نشست پر نامزدگی فارم جمع کروائے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ دونوں ہی نائب ناظم کی نشست کے لیے امیدوار ہیں۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم نے بھی گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ’ کراچی میں ایم کیو ایم کو مینڈیٹ حاصل ہے۔ وہ اپنے امیدوار کا اعلان خود کرینگے ہمیں اعتماد میں لینے کی ضرورت نہیں ہے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||