3 ضلعی، 8 تحصیل ناظم کامیاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلدیاتی انتخابات کے تیسرے مرحلے میں سندھ کے بائیس اضلاع میں تین ضلعی ناظم اور آٹھ تعلقہ ناظمین بلامقابلہ کامیاب ہو چکے ہیں۔ بلا مقابلہ کامیاب ہونے والے تینوں ضلعی ناظمین اور سات تحصیل ناظمین کا تعلق حکمران جماعت اور اس کے اتحادیوں سے ہے جبکہ عوام دوست پینل کے بھی ایک تحصیل ناظم کامیاب ہوئے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے دستبردار ہونے کے بعد حکمران جماعت کے امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوئے ہیں۔ جس پر پی پی قیادت نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ نوشھروفیروز میں پی پی پی کے ضلعی صدر ملھار راجپر کے فرزند ریاض راجپر دستبردار ہوگئے جس کے بعد سابق وزیر اعظم غلام مصطفیٰ جتوئی کے فرزند عاقب خان جتوئی بلا مقابلہ ضلع ناظم ہوگئے۔ تھر پارکرمیں عوام دوست امیدوار انجینئر ولی راھموں اور منوج ملانی کے نامزدگی فارم مسترد ہوگئےـ دونوں نےاپیل کرنے سے انکار کیا۔ جس کے بعد ارباب غلا م رحیم کے بھتیجے ارباب انور بلامقابلہ ضلع ناظم قرار دیئےگئے۔ اس سے قبل پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کےصدر مخدوم امین فہیم کے آبائی ضلع مٹیاری میں فنکشنل مسلم لیگ کے حمایت یافتہ سید محمد علی شاھ بلا مقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں۔ محمد علی شاھ پورے ملک میں بلا مقابلہ کامیاب ہونے والے پہلے ضلعی ناظم ہیں۔ ان کے مقابلے میں سید فرمان علی شاہ اور بچل شاہ امیدوار تھے جنہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے ہیں۔ محمد علی شاھ نے کہا کہ ہالہ کے مخدوم خاندان نے ان کے مقابلے میں امیدوار نہ کھڑا کر کے مہربانی کی ہے۔ مٹیاری میں پیپلز پارٹی نے اٹھارہ میں سے نو یونین کونسلوں میں جیتنے کے باوجود ضلع ناظم کے لیے کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا۔ اسی طرح تھرپارکر کی تحصیل ڈیپلو میں ارباب رحیم کے بھانجے ارباب تاج محمد اور تحصیل چھاچھرو میں دلاور مالکانی کامیاب قرار دیے گئے ہیں۔ نوشھروفیروز کی تحصیل محراب پور میں خوشحال پاکستان کے ابرار علی شاہ، میرپور بٹھورو میں ارباب رمیز میمن، شاہ بندر میں شوکت ملکانی، ماتلی میں منصور نظامانی، ٹنڈو باگو میں حامد شاہ اورگڑھی خیرو میں خیر بخش شہلیانی بلا مقابلہ کامیاب ہوئے ہیں۔ جن میں سے صرف خیر بخش شہلیانی کا تعلق عوام دوست پینل سے ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||