ناظمین انتخابات: ووٹوں کی گنتی جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں بلدیاتی انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلے کی پولنگ مکمل ہوجانے کے بعد اب ووٹوں کی گنتی ہو رہی ہےاور نتائج کا اعلان ہونا شروع ہوگیا ہے۔ پنجاب سے آنے والے اب تک کے ابتدائی اور غیر حتمی نتائج کے مطابق حکومت کے حمایت یافتہ ضلعی ،تحصیل اور ٹاؤن ناظمین نسبتًا زیادہ تعداد میں کامیاب ہو رہے ہیں لیکن کہیں کہیں اپوزیشن جماعتوں کے حمایت یافتہ امیدوار بھی کامیاب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان انتخابات میں مقامی سطح کی سیاست اور برادریوں کے اثر و رسوخ بھی نتائج پر اثرانداز ہوئے ہیں۔ لاہور میں اب تک نو میں سے تین ٹاؤن میں حکمران مسلم لیگ کے حمایت یافتہ امیدوار جیتے ہیں جبکہ ایک واہگہ ٹاؤن میں پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ امیدوار نے کامیابی حاصل کی ہے۔ کراچی کے اٹھارہ ٹاؤن میں سے نو کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج آ گئے ہیں جن میں پانچ پر حق پرست، دو پر عوام دوست پینل اور ایک ٹاؤن میں خوشحال پاکستان کے امیدوار نے کامیابی حاصل کی ہے جبکہ لیاری میں پی پی پی کے منحرف امیدوار ناظم کے طور پر کامیاب ہوگئے ہیں۔ راولپنڈی میں بلدیاتی انتخابات میں خاصی گہما گہمی دیکھنے میں آئی۔ امیدواروں کے ناموں اور تصاویر والے بینر اور جھنڈے جگہ جگہ لگے ہوئے تھے راولپنڈی کے ناظم کے لیے اصل مقابلہ سابق ناظم طارق محمود کیانی اور سابقہ نائب ناظم اور حکمران مسلم لیگ کے حمایت یافتہ راجہ جاوید اخلاص کے درمیان ہوا۔ راولپنڈی کے سب سے بڑے ٹاؤن راول ٹاؤن میں بھی بڑی دلچسپ صورتحال رہی جہاں وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد کے بھتیجے شیخ راشد شفیق اور مسلم لیگ نواز کے جمہوریت نواز گروپ اور جماعت اسلامی کے الخدمت گروپ کے حمایت یافتہ امیدوار اور سابق ممبر صوبائی اسمبلی سردار نسیم کے درمیان مقابلہ ہوا۔ اسی ٹاؤن میں پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اپنا حمایت یافتہ امیدوار کھڑا کیا۔ وہاڑی میں حکومت کے نامزد امیدوار ضلع ناظم محمد ممتاز خاں کھچی کو مسلم لیگ سے ہی تعلق رکھنے والے امیدوار سید شاہد مہدی نسیم کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ مہدی نسیم کو اے آر ڈی اور متحدہ مجلس عمل کی حمایت حاصل تھی۔ شاہد مہدی نسیم غیر سرکاری نتائج کے مطابق 124 ووٹوں کی سبقت سے جیت گئے ہیں۔ بورے والا تحصیل ناظم کی نشست پر حکومت کے نامزد امیدوار سابق صوبائی وزیر چوہدری نذیر احمد آرائیں سابق تحصیل ناظم چوہدری عثمان احمد وڑائچ سے 19 ووٹوں کے مارجن سے شکست کھا گئے ہیں۔ جبکہ تحصیل وہاڑی میں حکومتی نامزد امیدوار سابق تحصیل ناظم میاں ثاقب خورشید دوبارہ کامیاب ہوگئے ہیں انہوں نے اے آر ڈی کے نامزد امیدوار اور پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کی سینئرنائب صدر تہمینہ دولتانہ کے شوہر زاہد انور واہلہ کو 34 ووٹوں سے شکست دے دی ہے ۔ تحصیل میلسی میں سابق تحصیل ناظم عاصم سعید خاں منہیس نے جو سابق سپیکر پنجاب اسمبلی سعید احمد خاں منہیس کے صاحبزادے ہیں حکومتی امیدوار محمد ممتاز خاں کھچی کے بھتیجے جہانزیب خاں کھچی کو صرف ایک ووٹ کے فرق سے شکست دی۔ پاکستان میں بلدیاتی انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلے میں ضلعی، تحصیل اور ٹاؤن ناظمین کے انتخاب کے موقع پر ملک بھر میں امن وامان کی صورتحال مجموعی طور پر قابو میں رہی تاہم جہاں جہاں بھی پولنگ سٹیشن قائم کیےگئے وہاں پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ الیکشن کمیشن کی اس یقین دہانی کے باوجود کہ یہ انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہو رہے ہیں ملک کی تمام بڑی جماعتوں نے اپنے رہنماؤں کو ضلعی ناظمین کی نشستوں پر بطور امیدوار کھڑا کیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||