سرحد میں مسلم لیگ (ق) کو برتری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں مرکز میں حکمراں جماعت مسلم لیگ (ق) نے غیرسرکاری نتائج کے مطابق نو اضلاع میں ناظمین کی نشستیں حاصل کر کے برتری حاصل کر لی ہے۔ پشاور میں رات گئے موصول غیرسرکاری نتائج کے مطابق دوسرے نمبر پر جعمیت علماء اسلام (ف) اور جماعت اسلامی مشترکہ طور پر تین تین نشستیں حاصل کر کے آئے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی جس نے پہلے دو مراحل میں انتخابات میں اچھی کارکردگی دکھائی تھی اس مرتبہ صرف دو اضلاع میں ہی ناظمین کی نشستیں حاصل کر سکی ہے۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی شیرپاؤ اور مسلم لیگ (ن) بھی دو دو اضلاع میں کامیاب ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین ایک جبکہ دو آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ سب سے بڑا اپ سیٹ صوبائی دارالحکومت پشاور میں ہوا جہاں ہاٹ فیورٹ عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی کے مشترکہ امیدوار ہارون بلور کو جعمیت علماء اسلام (ف)، پیپلز پارٹی شیرپاؤ اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے امیدوار حاجی غلام علی نے شکست دے دی ہے۔ دونوں بڑے اثر رسوخ اور پیسے والے امیدوار تھے اور ان کا مقابلہ کافی دلچسپی سے دیکھا جا رہا تھا۔ دوسرے بڑے امیدوار جنہیں شکست کا منہ دیکھنا پڑا ان میں نوشہرہ میں جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد کے برخوردار آصف لقمان قاضی کو داود خٹک کے ہاتھوں جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں جعمیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان کے چھوٹے بھائی مولانا عبیدالرحمان کو ہار دیکھنا پڑی ہے۔ دو دلچسپ شخصیات ایبٹ آباد میں مسلم لیگ (ق) کے بابا حیدر زمان اور بٹگرام میں امریکی لاٹری جیتے ارب پتی اور جے یو آئی کے حمایت یافتہ احسان اللہ خان بھی جیت چکے ہیں۔ شانگلہ میں مسلم لیگ (ق) کے صوبائی سربراہ امیر مقام کے بھائی ڈاکٹر اباد اللہ بھی سرخرو رہے ہیں۔ چترال میں جماعت اسلامی کے مغفرت خان ناظم منتخب ہوئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||