اسمبلی: ارکان کے درمیان ہاتھا پائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی میں حزب مخالف کے دو اراکین میں جمعرات کو تلخ کلامی کے بعد ہاتھا پائی ہوئی اور اقلیتی رکن کرشن بھیل نے مولانا قاری گل رحمٰن کو دو تھپڑ رسید کیے۔ مسلم لیگ نواز کے واحد اقلیتی رکن اسمبلی کرشن بھیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مولانا قاری گل رحمٰن نے ان کے مذہب کو برا بھلا کہا جس پر انہوں نے مولوی کودو تھپڑ رسید کیے۔ ان کے مطابق قاری گل رحمٰن نے انہیں کہا کہ ’تم ہندو ہو، کافر کابچہ ہم مسلمان ہیں اور ہمارے سامنے کیسے ہوتے ہو؟‘۔ اس بارے میں جب قاری گل رحمٰن سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ کرشن بھیل سے ان کی انُ بنُ پرانی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’کرشن بھیل اسلام کے خلاف باتیں کرتے ہیں‘۔ قاری گل رحمٰن نے بتایا کہ انہوں نے جمعرات کو اجلاس میں وزیراعظم شوکت عزیز کو مخاطب کرتے ہوئے مانسہرہ میں گیس فراہم کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور سراہا۔ جس پر اجلاس ختم ہونے کے بعد کرشن بھیل نے ان کے خلاف نعرے لگائے کہ گل رحمٰن مردہ باد اور یہ درباری مولوی ہے۔ جس پر قاری گل رحمٰن کے مطابق انہوں نے کرشن بھیل سے کہا کہ ’دیکھو تم ہندو ہو اور میں مسلمان اور اس طرح کی باتیں نہ کرو‘۔ قاری صاحب سے جب ان کے اس جملے کی وضاحت پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ اصل میں ان کا مطلب تھا کہ وہ اقلیتی رکن ہے اور مسلمان اکثریت میں ہیں اس لیے وہ ان کا خیال کرتے ہیں۔ مولانا قاری گل رحمٰن نے بتایا کہ مانسہرہ ان کا آبائی علاقہ ہے جہاں سے تیس برس قبل روزگار کے لیے نقل مکانی کرکے وہ کراچی چلے گئے اور اب کراچی سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کرشن بھیل کے ساتھ اپنی پرانی رنجش کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جب زلزلے کے متعلق اسمبلی کے گزشتہ سیشن میں بحث ہو رہی تھی تو کرشن بھیل نے کہا تھا کہ ’تم کہتے ہو کہ کشمیر جنت نظیر ہے اب دیکھو کہاں گئی تمہاری جنت؟‘۔ قاری گل رحمٰن کے مطابق کرشن بھیل نے یہ بھی کہا تھا کہ ’ کیا تم لوگوں مولانا نے بتایا کہ اس وقت انہوں نے کرشن بھیل سے کہا تھا کہ ایسی باتیں نہ کریں ’لیکن وہ مسلسل اسلام کے خلاف بولتے ہیں‘۔ ان کے مطابق انہوں نے سپیکر قومی اسمبلی کو شکایت کردی ہے اور سپیکر نے انہیں جمعہ کو بلایا ہے۔ کرشن بھیل نے اسلام کے خلاف بات کرنے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔ انہوں نے قاری گل رحمٰن پر الزام عائد کیا کہ اصل میں وہ ہندوؤں کے خلاف بولتے ہیں اور انہیں دیکھ کر مولوی صاحب کو غصہ آتا ہے۔ قومی اسمبلی میں ایسا کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ اراکین کی آپس میں ہاتھا پائی ہوجائے۔ صدر جنرل پرویز مشرف کے پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے خطاب کے موقع پر ایک بار حکومت اور حزب اختلاف کے دو اراکین آپس میں گتھم گتھا ہوگئے تھے۔ دریں اثنا جمعرات کو قومی اسمبلی سے حزب مخالف نے سپیکر کے رویے کے خلاف علامتی واک آؤٹ کیا جبکہ کورم کی بھی نشاندہی کی گئی اور کچھ دیر کے لیے کورم کی وجہ سے کارروائی روکی گئی۔ | اسی بارے میں ’اسمبلیاں نہ توڑنےپر شکریہ‘18 June, 2005 | پاکستان قومی اسمبلی: حزب اختلاف کا احتجاج17 May, 2005 | پاکستان قومی اسمبلی کا نیا سیشن آج شروع28 August, 2005 | پاکستان حکومتی اراکین کا واک آؤٹ30 August, 2005 | پاکستان اسمبلی کےسامنے اپوزیشن کا احتجاج09 September, 2005 | پاکستان ارکانِ اسمبلی زلزلے کو بھول گئے06 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||