BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجی کارروائی کے خلاف ہڑتال

بلوچستان
بلوچستان میں کافی عرصے سے فوجی کارروائیاں جاری ہیں
بلوچستان میں جاری مبینہ فوجی کارروائی اور غیر قانونی طور پر لوگوں کی گرفتاریوں کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی نے آج صوبے کے مختلف شہروں میں علامتی بھوک ہڑتال کی ہے۔ کوئٹہ میں کوئی دو سو کے لگ بھگ لوگ سردار اختر مینگل کے ساتھ بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی عوامی نیشنل پارٹی مسلم لیگ نواز اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے علاوہ وکلاء اور ٹریڈ یونینز (مزدور تنظیمیں) کے نمائندوں نے اس علامتی بھوک ہڑتال کی حمایت کی ہے ۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے اس موقع پر صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے ماضی کی زیادتیوں کی معافی تو بلوچستان کے لوگوں سے مانگی لیکن اب خود وہ بلوچستان کے ساتھ زیادتیاں کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں تو اسی طرح کی یا اس سے کم زیاتیاں کی گئی موجودہ حکمرانوں نے تو لوگوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔

انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ صرف تین سرداروں کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھوک ہڑتال بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں ہے جس میں سیاستدانوں کے علاوہ وکیل مزدور تاجر اور دیگر طبقے کے لوگ شامل ہیں تو تین سرداروں کا مسئلہ کیسا ہوا۔

بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک طرف دھمکیاں دی جا رہی ہو اور ہمیں للکارا جا رہا ہو اور دوسری طرف ہم مذاکرات کی باتیں کریں۔ یہ تب ہو سکتا ہے جب مخلصانہ طور پر کوششیں کی جائیں اور اس کے لیے گریڈ اٹھارہ کے افسر کے ذریعے نہیں بلکہ برابری کی بنیاد پر بات چیت ہونی چاہیے تاکہ مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔

اس کے علاوہ بلوچستان کے مختلف علاقوں خصوصاً ڈیرہ بگٹی کوہلو وغیرہ سے تشدد کی واقعات کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں۔ آج صبح ڈیرہ بگٹی کے علاقے پیش بوگی میں بارودی سرنگ کے پھٹنے سے سکیورٹی فورسز کے تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں اسی طرح گزشتہ روز بھی تشدد کے واقعات کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں لیکن سرکاری سطح پر ان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے کہا ہے کہ اس طرح کی کوئی اطلاع انہیں نہیں ملی۔

کوئٹہ میں فرنٹییر کور کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ڈیرہ بگٹی سے کوئی چون کے لگ بھگ چوری شدہ گاڑیاں اور سو سے زیادہ موٹر سائیکل برآمد کیے ہیں جن میں سے دس گاڑیاں مالکان کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد