BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’لوگوں کی حالت بہت خراب ہے‘

کمیٹی کے مطابق ڈھائی لاکھ افراد کو نقل مکانی کرنی پڑی ہے
جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے لوگوں کی حالت خراب ہو رہی ہے
بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی اور کوہلو پر گولہ باری کے بعد نقل مکانی کے حقائق جاننے کے لئیے بلوچستان اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی کے رکن اپوزیشن رہنما کچکول علی کا کہنا ہے کہ گولہ باری کے بعد ڈیرہ مراد بگٹی اور کوہلو سے ڈھائی لاکھ افراد نے نقل مکانی کی تھی۔

واضح رہے کہ اس سال فروری میں کوہلو اور ڈیرہ بگٹی پر فورسز کی گولہ باری کے بعد دونوں علاقوں سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نقل مکانی کرکے مختلف محفوظ مقامات کی طرف گئی تھی۔

یہ لوگ صوبہ سندھ کے مختلف علاقوں سمیت نصیر آباد، جعفر آباد، ڈیرا الہ یار، ڈیرہ مراد جمالی، صحبت پور،گورا ناڑی،جمعہ خان گوٹھ اور اکبر بگٹی گوٹھ میں رہائش پذیر ہیں۔

کچکول علی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی میں ان کے ساتھ دو صوبائی وزراء عبدالرحمان، عبدالغفور لودھی، جےڈبلیو پی کے ایم پی اے سلیم خان کھوسہ بھی رکن تھے، انہوں نے ان علاقوں میں جا کر لوگوں کی حالت زار دیکھی۔

کمیٹی کے مطابق ڈھائی لاکھ افراد کو نقل مکانی کرنی پڑی ہے

کچکول علی نے بتایا کہ جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے لوگوں کی حالت خراب ہو رہی ہے، اپنے علاقوں سے صرف ایک جوڑے کپڑے میں آنے والوں کے پاس جائے پناہ نہیں ہے جبکہ آلودہ پانی کے استعمال سے ان میں یرقان پھیل رہا ہے۔
ان میں بوڑھے بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ ان کے ذہن پر خوف طاری ہے جب تک حالات بہتر نہیں ہونگے وہ واپس نہیں جائیں گے۔

بلوچستان کے قائد حزب اختلاف کچکول علی نے کراچی میں ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ نے عبدالستار ایدھی سے بھی ملاقات کی ۔ کچکول کے مطابق انہوں نے ایدھی سے اپیل کی کہ وہ نقل مکانی کرکے آنے والے لوگوں کی مدد کریں اور کم سے کم انہیں کھانا اور خیمے تو فراہم کیئے جائیں۔

ایک سوال کے جواب میں کچکول علی نے کہا کہ متاثرین جن علاقوں میں رہائش پذیر ہیں وہاں کی ضلعی حکومتیں بے حس ہیں جبکہ صوبائی حکومت مدد کے لیئے راغب نہیں ہے اس لیئے ہم دنیا کے جمہوری ممالک اور رضاکار تنظیموں سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں۔

اپوزیشن رہنما نے بتایا کہ اس سے قبل صوبائی حکومت نقل مکانی کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھی جس کے بعد پندرہ اپریل کو سپیکر کی رولنگ پر پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی تھی۔ ان کے مطابق جون کو اسمبلی کا اجلاس متوقع ہے اور اس سے قبل رپورٹ سپیکر کے پاس جمع کروائی جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد