بلوچستان کے بارے میں صلاح مشورے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے بارے میں مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت نے جمعہ کو صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز سے ملاقات کی ہے جس میں انہوں نے جمعرات کو نواب اکبر بگتی سے ملاقات کے بارے میں صدر اور وزیر اعظم کو آگاہ کیا۔ چوہدری شجاعت نے اس ملاقات کے بارے میں کہا ہے کہ صدر اور وزیر اعظم دونوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے ان کو مکمل اختیار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ مسئلہ پارلیمنٹ کے ذریعےحل کیا جائے گا۔ چوہدری شجاعت نے بلوچستان کے مسئلے پر پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کی بھی صدارت کی جو حزب اختلاف کی جماعتوں کے اس اصرار کے بعد ملتوی کر دیا گیا کہ انھیں پیش رفت سے آگاہ کیا جائے۔ اس اجلاس میں کمیٹی کے سربراہ چوہدری شجاعت نے نواب اکبر بگتی کے ساتھ اپنے مذاکرات کی تفصیل بتانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ انہوں نے نواب اکبر بگتی سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان حکومتی تجاویز کو تین دن تک خفیہ رکھیں گے جو انھوں نے نواب اکبر بگتی کو مسئلے کے حل کے لیے پیش کی ہیں۔ اس اجلاس میں بائیس مارچ کو ڈیرہ بگتی جانے والے حکومت اور حزب اختلاف کے ارکان پارلیمان کے مشترکہ وفد نے بھی اپنی سفارشات کمیٹی کو پیش کرنی تھی جو پیش نہیں کی گئیں۔ اس اجلاس کے بعد چوہدری شجاعت نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ وہ اگلے ہفتے نواب اکبر بگتی سے ملاقات کے لیے پھر ڈیرہ بگتی جائیں گے۔ اس موقع پر سینیٹر مشاہد حسین نے بتایا کہ چوہدری شجاعت کا دورہ بڑا کامیاب رہا اور اس سے بلوچستان میں کشیدگی دور ہوئی ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین نے شجاعت۔بگتی ملاقات کو اہم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ نواب اکبر بگتی نے اس مسئلے کے سیاسی حل پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملاقات سے بلوچستان پر پایا جانے والا تعطل ٹوٹا ہے اور اب اس مسئلے کے حل کی طرف پیش رفت ہو گی۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں کے ارکان پارلیمان سے جمعرات کو ملاقات کی جس میں بلوچستان کی صورتحال پر بات کی گئی۔ سرکاری پریس ریلیز کے مطابق صدر جنرل مشرف نے اس ملاقات میں کہا کہ بلوچستان میں ترقیاتی کاموں میں کسی کو رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||