BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 May, 2006, 18:28 GMT 23:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فوج کی موجودگی میں امن ناممکن‘

’مسئلے کا ایک ہی حل ہے کہ فوج واپس چلی جائے‘
متحدہ مجلس عمل کے سربراہ اور قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر قبائلی علاقوں سے پاک فوج واپس چلی جائے تو وہ غیر ملکیوں اور مجاہدین سے بات کرنے کے لئے تیار ہیں۔

کراچی میں ہفتے کی شام جامع مدنیہ میں اپنے بیان میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’میں حکومت پر یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جب تک قبائلی علاقوں میں فوج رہے گی امن امان قائم نہیں ہو سکتا، لوگ فوج سے صلح کرنے کو تیار نہیں ہیں‘۔

اپوزیشن رہنما نے کہا کہ اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے کہ فوج واپس چلی جائے، ’میں ان غیر ملکیوں اور مجاہدین سے بات کرنے کے لئے تیار ہوں‘۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وزیرستان کے بڑے دیہاتوں اور علاقوں سے نقل مکانی ہوگئی ہے لوگ مختلف علاقوں میں پھیل گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’لوگوں کے گھروں میں میزائل گرے، عورتوں اور بچوں کے ٹکڑے ہوئے، کیا اب یہ لوگ محبت پھیلاسکیں گے؟ کیا اب ان کے دل میں فوج اور ملک کے لئے حب الوطنی ہوگی‘۔

مولانا فضل الرحمان کے مطابق فوجی بالادستی کے ساتھ جمہوریت نہیں چل سکتی۔ ’جو وردی جمہوریت کے لیئے قاتل ہے اس کی ترقی اور نشوونما میں رکاوٹ ہے‘۔

انہوں نے حکمران جماعت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’مشرف نے وردی کے بیلٹ کے ساتھ حکمران اتحاد کو باندھا ہوا ہے، اگر یہ بیلٹ کھل گیا تو اتحاد بکھر جائے گا،جس پارٹی کی بقاء فوجی وردی میں ہو کیا اسے سیاسی پارٹی کہا جاسکتا ہے‘۔

جنرل مشرف کے موجودہ اسمبلی سے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ سوال آئینی ماہرین کے سامنے ہے، ’مگر ہمارا موقف ہے کہ ایک ہی شخص کو اسمبلی دو مرتبہ صدر منتخب نہیں کرسکتی اس سے ایک اور آئینی بحران پیدا ہوجائے گا‘۔

سینٹ میں اپوزیشن رہنما کی نامزدگی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ سب سے بڑا گروپ بھی متحدہ مجلس عمل ہے اور اپوزیشن میں اکثریت بھی اس کے پاس ہے، ’اس لیئے اس پر ہمارا حق بنتا ہےتاہم اس ضمن میں اے آرڈ ی سے مذاکرات کے لیئے کمیٹی بنائی گئی ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد