میلاد النبی دھماکے، ملک گیر ہڑتال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چھ مذہبی و سیاسی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی کال پر عید میلاد النبی کے اجتماع میں مرنے والوں کے سوگ میں آج ملک گیر ہڑتال کی جا رہی ہے۔ کراچی کے نشتر پارک میں منگل کے روز ہونے والے واقعے کے بعد ملک میں ہڑتالوں کا سلسلہ جاری ہے اور پچھلے تین دن سے کراچی میں کاروبار زندگی معطل ہے جمعہ کے روز ہڑتال ایم ایم اے اور تحریک اہلسنت کی کال پر کی جا رہی ہے۔ کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار کاشف قمر نے اطلاع دی ہے کہ اتحاد برائے بحالی جمہوریت یعنی اے آر ڈی نے بھی ایم ایم اے کی کال کی تائید کی ہے ۔ منگل کو کراچی میں عیدِ میلاد النبی کے ایک بڑے اجتماع میں بم دھماکے سے سینتالیس افراد ہلاک اور اکاسی زخمی ہوگئے تھے۔ اس دھماکے میں سنی تحریک کی مرکزی قیادت کے کم وبیش تمام لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ تین روز گزرنے کے باوجود شہر میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور فوج ، ریجنرز اور پولیس کی ایک بڑی تعداد کی شہر میں تعیناتی کے باوجود جمعرات کی رات سے اب تک شہر میں چھ بسوں کو نذر آتش کیا جا چکا ہے۔ سنی تحریک کی نگران کمیٹی کے رہنما شاہد غوری کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت آج یہ فیصلہ کرے کہ ایف آئی آر میں کس کو نامزد کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اقدام قتل اور اہانت رسول کے جرم کے قانون کے تحت مقدمہ درج کروائیں گے۔ تحریک اہلسنت کی جانب تین دن کے الٹی میٹم کی مدت بھی آج ختم ہو رہی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ واقعہ کی تحقیقات ملٹری انٹیلیجنس سے کروائی جائے، مجرموں کو پکڑا جائے اور صوبائی حکومت کو برطرف کیا جائے کیونکہ وہ اپنی فرائض سر انجام دینے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے۔ جعمرات کے روز عید میلاد النبی کے واقعہ کے خلاف لاہور کے تاجروں نے اپنا کاروبار بند رکھا تھا جبکہ بدھ کو کراچی اور سندھ کے دوسرے شہر میں کاروبار زندگی معطل رہا تھا۔ جمعرات کو دھماکے میں ہلاک ہونے والوں رہنماؤں کی نماز جنازہ میں ہزاروں نے شرکت کی تھی۔ | اسی بارے میں کراچی دھماکہ، آج لاہور بند رہے گا13 April, 2006 | پاکستان یہ کِس کا سر ہے؟ 12 April, 2006 | پاکستان ’عوام کے زخموں پر پھایہ کون رکھے‘12 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||