BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 March, 2006, 13:43 GMT 18:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسلم لیگ، ایم ایم اے کامیاب

ایوان بالا (سینیٹ)
سینیٹ کی نصف نشستیں جنوری میں خالی ہوئی تھیں
پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) میں وفاقی دارالحکومت کی ایک اور قبائلی علاقوں کی چار نشستوں پر بالترتیب حکمران مسلم لیگ اور دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کر لی ہے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ اور اس کے اتحادی ایوان بالا میں بدستور اکثریت میں رہیں گے۔

جمعہ کو قومی اسمبلی میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی سینیٹ میں واحد نشست کے لیے حکمران مسلم لیگ کے امیدوار طارق عظیم اور حزب اختلاف کے متفقہ امیدوار بی اے ملک کے درمیان مقابلہ ہوا۔

بازی حکمران مسلم لیگ کے طارق عظیم کے نام رہی جنہوں نے ایک سو اسی ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے مد مقابل حزب اختلاف کی جماعتوں کے امیدوار کو ایک سو بائیس ووٹ پڑے۔

اس کے علاوہ پاکستان کے قبائلی علاقہ جات کی چار نشستوں پر قومی اسمبلی کے قبائلی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے گیارہ ممبران اسمبلی نے ووٹ ڈالے اور متحدہ مجلس عمل کے حمایت یافتہ امیدوار حافظ رشید احمد، عبدالرشید اور مولانا صالح محمد شاہ کامیاب ہوئے جبکہ چوتھے امیدوار کا انتخاب قرعہ اندازی کے ذریعے کیا گیا کیونکہ ان کے حق اور مخالفت میں برابر کے ووٹ
پڑے۔

قرعہ عبدالرازق کے نام نکلا جن کا انتخابی نشان ریوالور تھا اور ان کو حکمران جماعت مسلم لیگ کی حمایت حاصل ہے۔

پاکستان کے ایوان بالا کی سو میں سے نصف نشستیں جنوری میں خالی ہوئی تھیں۔

پاکستان کے آئین کے مطابق ایوان بالا (سینیٹ) ایک ایسا ادارہ ہے جسے
برخواست نہیں کیا جا سکتا تاہم گیارہ اکتوبر سن انیس سو ننانوے میں صدر جنرل پرویز مشرف نے ملک میں فوجی مداخلت کر کے اس ادارے کو بھی برخواست کر دیا تھا جس کے بعد اس ادارے کے ممبران کا دوبارہ انتخاب کیا گیا۔

 پاکستان کے ایوان بالا کی سو میں سے نصف نشستیں جنوری میں قرعہ اندازی کے ذریعے خالی ہوئی تھیں۔

آئین کے مطابق اس ادارے کے پہلے دور میں نصف ارکان چھ سال کی مدت پوری کرتے ہیں جبکہ نصف ارکان تین سال بعد ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ جنوری میں قرعہ اندازی کے ذریعے نصف ارکان کو دوبارہ سے منتخب کیا گیا ہے۔

سینیٹ کے انتخابات میں اب حکمران جماعت مسلم لیگ اور اس کے اتحادیوں کی اٹھاون نشستیں ہیں جبکہ حزب اختلاف کے پاس بیالیس نشستیں ہیں۔

اسی بارے میں
سینیٹ میں واک آؤٹ کا دِن
26 April, 2005 | پاکستان
جیل: سینیٹ کمیٹی کی تشویش
07 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد