مسلم لیگ، ایم ایم اے کامیاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) میں وفاقی دارالحکومت کی ایک اور قبائلی علاقوں کی چار نشستوں پر بالترتیب حکمران مسلم لیگ اور دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ حکمران جماعت مسلم لیگ اور اس کے اتحادی ایوان بالا میں بدستور اکثریت میں رہیں گے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی سینیٹ میں واحد نشست کے لیے حکمران مسلم لیگ کے امیدوار طارق عظیم اور حزب اختلاف کے متفقہ امیدوار بی اے ملک کے درمیان مقابلہ ہوا۔ بازی حکمران مسلم لیگ کے طارق عظیم کے نام رہی جنہوں نے ایک سو اسی ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے مد مقابل حزب اختلاف کی جماعتوں کے امیدوار کو ایک سو بائیس ووٹ پڑے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے قبائلی علاقہ جات کی چار نشستوں پر قومی اسمبلی کے قبائلی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے گیارہ ممبران اسمبلی نے ووٹ ڈالے اور متحدہ مجلس عمل کے حمایت یافتہ امیدوار حافظ رشید احمد، عبدالرشید اور مولانا صالح محمد شاہ کامیاب ہوئے جبکہ چوتھے امیدوار کا انتخاب قرعہ اندازی کے ذریعے کیا گیا کیونکہ ان کے حق اور مخالفت میں برابر کے ووٹ قرعہ عبدالرازق کے نام نکلا جن کا انتخابی نشان ریوالور تھا اور ان کو حکمران جماعت مسلم لیگ کی حمایت حاصل ہے۔ پاکستان کے ایوان بالا کی سو میں سے نصف نشستیں جنوری میں خالی ہوئی تھیں۔ پاکستان کے آئین کے مطابق ایوان بالا (سینیٹ) ایک ایسا ادارہ ہے جسے آئین کے مطابق اس ادارے کے پہلے دور میں نصف ارکان چھ سال کی مدت پوری کرتے ہیں جبکہ نصف ارکان تین سال بعد ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ جنوری میں قرعہ اندازی کے ذریعے نصف ارکان کو دوبارہ سے منتخب کیا گیا ہے۔ سینیٹ کے انتخابات میں اب حکمران جماعت مسلم لیگ اور اس کے اتحادیوں کی اٹھاون نشستیں ہیں جبکہ حزب اختلاف کے پاس بیالیس نشستیں ہیں۔ | اسی بارے میں سینیٹ میں واک آؤٹ کا دِن26 April, 2005 | پاکستان جیل: سینیٹ کمیٹی کی تشویش07 February, 2006 | پاکستان سینیٹ انتخاب: صحافیوں کا احتجاج06 March, 2006 | پاکستان سینیٹ الیکشن: سرحدمیں اپ سیٹ06 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||