BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 March, 2006, 15:51 GMT 20:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سینیٹ الیکشن: سرحدمیں اپ سیٹ

سینٹ
ان انتخابات میں اصل نقصان مجلس عمل کو پہنچا ہے۔
پاکستان میں چاروں صوبوں سے سینیٹ کی سینتیس خالی نشستوں کے لیے پیر کو انتخابات ہوئے اور صوبۂ سرحد میں مجلس عمل اپنی بھاری اکثریت کے باوجود قابل ذکر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہے۔

سینیٹ کے انتخابات میں سب سے بڑا اپ سیٹ صوبۂ سرحد میں دیکھنے میں آیا جہاں حکمران مجلس عمل اسمبلی میں اپنی بھاری اکثریت اور مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی سے اتحاد کے باوجود کافی تعداد میں نشستیں حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے جبکہ باقی صوبوں میں نتائج تقریباً اندازوں کے مطابق ہی سامنے آئے ہیں۔

سرحد اسمبلی میں ایک سو چوبیس نشستوں کے ایوان میں مسلم لیگ (ق) کے صرف دس ارکان ہیں لیکن آخری اطلاعات آنے تک وہاں مسلم لیگ (ق) دو جنرل نشستوں اور ایک مخصوص نشست پر کامیابی حاصل کر چکی تھی جبکہ باقی جنرل نشستوں پرگنتی ابھی جاری تھی۔ جنرل نشستوں پر قائداعظم لیگ کے کامیاب امیدوار سلیم سیف اللہ خان اور عمار احمد خان ہیں جبکہ فوزیہ فخرالزمان نے خواتین کی مخصوص نشست پر کامیابی حاصل کی ہے۔

عمار احمد خان کے والد گلزار احمد اور بھائی وقار احمد خان پہلے ہی قائداعظم لیگ کی طرف سے سینیٹ کے ارکان ہیں۔

صوبۂ سرحد سے اب تک کی اطلاعات کے مطابق مجلس عمل کے اعظم خان سواتی اور عوامی نیشنل پارٹی کے الیاس بلور نے ٹیکنو کریٹس کی مخصوص نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ خواتین کی نشستوں پر مجلس عمل کی آسیہ ضیاء اور قائداعظم لیگ کی فوزیہ فخرالزمان کامیاب ہوئی ہیں۔

صوبۂ پنجاب میں جنرل نشستوں پر سات امیدوار پہلے ہی بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں جبکہ آج کے انتخابات میں خواتین اور ٹیکنو کریٹس کی دو دو نشستوں پر نیلوفر بختیار اور گلشن سعید اور ایس ایم ظفر اور ہارون اختر کامیاب ہوئے ہیں۔

 سرحد اسمبلی میں ایک سو چوبیس نشستوں کے ایوان میں مسلم لیگ (ق) کے صرف دس ارکان ہیں لیکن آخری اطلاعات آنے تک وہاں مسلم لیگ (ق) دو جنرل نشستوں اور ایک مخصوص نشست پر کامیابی حاصل کر چکی تھی جبکہ باقی جنرل نشستوں پرگنتی ابھی جاری تھی۔

صوبۂ بلوچستان سے کامیاب ہونے والوں میں نواب اکبر بگٹی کے داماد اور جمہوری وطن پارٹی کے ترجمان آغا شاہد بھی شامل ہیں۔ باقی چھ جنرل نشستوں پر نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالمالک اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے عبدالرحیم مندوخیل کے علاوہ مسلم لیا (ق) کے جان محمد جمالی، اسراراللہ زہری اور محبت خان مری اور مجلس عمل کے محمد اسمٰعیل شامل ہیں۔ ٹیکنو کریٹس اور خواتین کی چار مخصوص نشستوں پر مجلس عمل اور قائداعظم لیگ کے دو دو امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔

صوبۂ سندھ سے کامیاب ہونے والوں میں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف رضا ربانی اور مجلس عمل کے خالد محمود سومرو سمیت حزب اختلاف کے پانچ اور حکمران اتحاد کے چھ امیدوار شامل ہیں جن میں سے تین نشستیں متحدہ قومی موومنٹ نے حاصل کی ہیں۔

اب تک حاصل ہونے والے نتائج سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان انتخابات میں اصل نقصان مجلس عمل کو پہنچا ہے۔ صوبۂ سرحد میں خراب کارکردگی کی وجہ سے مجلس عمل سینیٹ میں اپنی کم از کم تین نشستوں سے محروم ہوجائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد