دفاعی بجٹ میں گیارہ فیصد اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال برائے ’دو ہزار چھ۔سات‘ کے لیئے تیرہ کھرب چودہ ارب ستتر کروڑ اسی لاکھ روپے کا مجوزہ بجٹ پاکستانی پارلیمان میں پیش کر دیا گیا ہے۔ سنہ دو ہزار چھ۔سات کے سالانہ بجٹ میں دفاع کے لیئے مختص رقم میں گیارہ فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ سرکاری ملازمین کو یکم جولائی سے پندرہ فیصد مہنگائی الاؤنس دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بجٹ میں ریٹائر ملازمین کی پنشن میں بھی اضافہ کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیرِ خزانہ عمر ایوب نے بجٹ پیش کرتے ہوئے دعوٰی کیا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ بجٹ عوام دوست ہے جبکہ حزب مخالف کی جماعتیں کہہ رہی ہیں کہ حکومت نے پیٹرول اور چینی کی قیمتیں بڑھا کر پہلے ہی منی بجٹ پیش کردیا ہے اور حقیقی معنوں میں عوام کو کوئی مراعات نہیں دی جا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان بھی متوقع ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق تنخواہوں میں دس فیصد کے قریب اضافہ ہوسکتا ہے۔ مجوزہ بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے سوا چار سو ارب روپے سے زیادہ کی رقم مختص کی گئی ہے اور اس میں زلزلہ زدہ علاقوں میں جاری تعمیراتی مرحلے کے لیے بھی خاصی رقم رکھی گئی ہے۔ نئے مالی سال کا دفاعی بجٹ دو کھرب پچاس ارب اٹھارہ کروڑ بیس لاکھ روپے مختص کیا گیا ہے۔ تیس جون کو ختم ہونے والے رواں مالی سال کے لیئے دفاعی بجٹ دو کھرب تئیس ارب پچاس کروڑ دس لاکھ روپے مختص کیئے گئے تھے لیکن فوج نے اخراجات دو کھرب اکتالیس ارب چھ کروڑ تیس لاکھ روپے کیئے۔ پارلیمان سے منظور کردہ دفاعی بجٹ سے اخراجات سترہ ارب 54 کروڑ بیس لاکھ روپے زیادہ کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ پینتیس ارب روپوں سے زائد ریٹائرڈ فوجیوں کے پینشن کی رقم دفاعی بجٹ میں شامل نہیں ہے اور اس رقم کو سویلین حکومت کے اخراجات میں شامل کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت ہر سال دفاعی بجٹ کم دکھانے کے لیئے اس میں دس سے بارہ فیصد اضافہ کرتی ہے لیکن مالی سال ختم ہونے کے بعد ’نظرثانی شدہ‘ دفاعی بجٹ کے اعداد و شمار مختص کردہ رقم سے ہمیشہ زیادہ ہی سامنے آتے ہیں۔ رواں سال میں مختص کردہ دو سو بہتّر ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ سے حسب معمول اس برس بھی اخراجات کم کیئے گئے ہیں ۔ جبکہ دفاع کے لیئے رکھے گئے دو سو تئیس ارب روپے کے بجٹ میں اخراجات مقررہ حد سے پندرہ ارب روپے زیادہ کیئے گئے ہیں۔ یعنی ترقیاتی اخراجات میں کمی اور دفاعی اخراجات میں منظور کردہ حد سے زیادہ کیئے گئے ہیں۔ نئے مالی سال کے مجوزہ بجٹ میں ٹیکسوں کی وصولی کا حدف آٹھ کھرب اکتالیس ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ہر سال پاکستان میں ٹیکس دہندگاں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور حکومت کو ٹیکس کی وصولی کا ہدف بھی پورا ہوجاتا ہے۔ پیر کی شام بجٹ پیش کیئے جانے سے پہلے پارلیمان کے اردگرد حفاظتی انتظامات سخت کردیئے گئے ہیں۔ | اسی بارے میں اقتصادی سروے: غربت کم ہو گئی04 June, 2006 | پاکستان مہنگائی، امن و امان اور پانی: درانی20 May, 2006 | پاکستان ’آبپاشی کے لیئے پانی کی قلت ہے‘19 April, 2006 | پاکستان پاکستان: چار کروڑ لوگوں کی معیشت16 December, 2005 | پاکستان مہنگائی کی نئی لہر02 July, 2005 | پاکستان ’غلطی سے‘ بجٹ میں غلطیاں07 June, 2005 | پاکستان سرکاری ملازمین کی مایوسی07 June, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||