پاکستان میں آلودگی کا بحران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بڑے شہروں میں فضائی آلودگی کی سطح دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ پاکستان کے اقتصادی سروے کے مطابق یہاں کے بڑے شہروں میں دنیا کے بیشتر شہروں کی اوسط کی نسبت دھول اور دھویں کے ذرات دو گنا ہیں جبکہ ترقی یافتہ ملکوں کی نسبت پانچ گنا زیادہ ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آلودگی کا مسئلہ پانی کے بحران کے باعث مزید بڑھ گیا ہے۔ یہ اقتصادی سروے ہر سال سالانہ بجٹ سے پہلے جاری کیا جاتا ہے۔ اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں توانائی کیضروریات اور گاڑیوں کی تعداد میں واضح اضافہ ہوا ہے جوکہ ملک میں آلودگی کا بحران بڑھانے میں پیش پییش ہیں۔ بڑے شہروں میں آلودگی کی اتنی شرح کئی سنگین صحت کے مسائل کا باعث ہے۔ گزشتہ بیس سال کے عرصے میں پاکستان کی سڑکوں پر ٹریفک کی تعداد پانچ گنا بڑھ گئی ہے۔ زیادہ اضافہ ڈیزل سے چلنے والی مال بردار گاڑیوں کی تعداد میں ہوا ہے۔ یہی وہ گاڑیاں ہیں جو سب سے زیادہ آلودگی پھیلانے کا باعث بنتی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑے شہروں میں فضائی آلودگی پھیلانے کا باعث غیر معیاری ایندھن کا استعمال اور ٹریفک کی تعداد میں اضافہ ہیں۔ حکومت کم آلودگی پھیلانے والے ایندھن کے استعمال پر زور دے رہی ہے جس میں ’سی این جی‘ یا قدرتی گیس سرِ فہرست ہے۔ فی الوقت پاکستان میں ارجنٹینا اور برازیل کے بعد سی این جی گاڑیوں کا استعمال دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر ہے۔
تاہم ملک میں سی این جی سٹیشن قائم کرنے کے لیئے سرمایہ کاروں یا کاروباری حضرات کو طویل سرکاری طریقہ کار سے گزرنا پڑتا ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں سی این جی گاڑیوں کی تعداد میں مزید اضافہ نہ ہوسکا یا پھر اس کی رفتار نہایت سست ہے۔ پانی کے شعبے میں بھی آلودگی کے ایسے ہی مسائل درپیش ہیں۔ بہت سے علاقوں میں فراہم کیا جانے والا پانی مضر صحت ہے۔ سروے کے مطابق پانی کی سالانہ فراہمی 1105 کیوبک میٹر تک کم ہوگئی ہے، جبکہ ضرورت اس سے کہیں زیادہ بڑھی ہے۔ پانی کی کمی کا مسئلہ پینے کے پانی اور آب پاشی کے لیئے استعمال کیئے جانے والے پانی میں آلودگی کے باعث بھی بڑھ گیا ہے۔
خاص طور پر اس سال زہریلا پانی پینے سے ملک بھر میں ہزاروں افراد بیماریوں کا شکار ہوئے ہیں۔ ملک میں قوانین کے غیر موثر ہونے کے باعث کئی فیکٹریوں سے خارج ہونے والا زہریلا فضلہ پانی کی نہروں یا دریاؤں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ خدشہ ہے کہ اگر آنے والے سالو ں میں پانی کے ذخائر تعمیر نہ کیئے گئے تو پانی کا بحران مزید بڑھ جائے گا جوکہ ملک میں ایک حساس سیاسی مسئلہ ہے۔ اسے منصوبوں پر عوام یا سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید مخالفت پائی جاتی ہے۔ حکومت کی تجویز ہے کہ پانی کا مسئلہ حل کرنے کے لیئے پانی کے سینکڑوں ’پیوریفیکیشن پلانٹس‘ بنائے جائیں۔ اگر یہ منصوبہ منظور ہوگیا تو اگلے چند سالوں کے دوران ملک بھر میں 6500 پلانٹس قائم کیئے جائیں گے۔ | اسی بارے میں پاکستان میں بیٹری موٹر سائیکل02 June, 2005 | پاکستان ژوب: ہیضے سے بائیس ہلاک08 July, 2005 | پاکستان متاثرہ علاقوں میں ماحول کو خطرہ20 November, 2005 | پاکستان ’ہنڈا سٹی‘: نئی ماحول دوست کار14 January, 2006 | پاکستان پاکستان: دمہ کے پچیس لاکھ مریض02 May, 2006 | پاکستان ٹسرانسپورٹرز کا حکومت پر دباؤ08 May, 2006 | پاکستان کراچی: آلودہ پانی سے 70 افراد بیمار24 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||