BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 May, 2006, 16:00 GMT 21:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹسرانسپورٹرز کا حکومت پر دباؤ

کراچی میں ایک بس
ہڑتال حکام کی جانب سے پکڑی گئی آلودگی پھیلانے والی بسیں واپس کردینے کی یقین دہانی پر ختم کی گئی۔
کراچی میں پیر کو بسوں کی جزوی غیراعلانیہ ہڑتال کی گئی۔ تاہم جب حکام نے یہ یقین دہانی کرائی کہ آلودگی پھیلانے کی وجہ سے بسیں واپس کر دی جائیں گی تو ہڑتال کر دی گئی۔

کراچی شہری حکومت نے آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کے خلاف مہم سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر شروع کی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے ایک حکم کے بعد کراچی کی شہری حکومت نے ٹریفک پولیس کے ذریعے شہر میں چلنے والی دسیوں برس پرانی اور انتہائی زہریلا دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔

بسوں کے مالکان نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے اور اسی سلسلے میں گزشتہ دوروز سے شہر میں چلنے والی بڑی بسوں کے مالکان نے غیراعلانیہ ہڑتال کی ہوئی تھی۔

 سندھ ہائی کورٹ کے ایک حکم کے بعد کراچی کی شہری حکومت نے ٹریفک پولیس کے ذریعے شہر میں چلنے والی دسیوں برس پرانی اور انتہائی زہریلا دھواں چوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔

ہڑتال کے باعث شہر کے وسطی علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے جہاں سے یہ بسیں مسافروں کو مرکز شہر میں ان کے مقام ملازمت تک لاتی تھیں۔

غیر اعلانیہ ہڑتال سے شہریوں کو خاصی دشواری کا سامنا رہا تاہم شہر کی گہماگہمی بہرحال متاثر نہیں ہوئی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق اس مہم میں زہریلا دھواں خارج کرنے والی بہت پرانی بسوں اور شور پھیلانے والے رکشوں کے خلاف زیادہ کارروائی کی گئی ہے۔

کراچی کے ڈی آئی جی ٹریفک فلک خورشید نے بتایا کہ زہریلا دھواں پھیلانے والی تقریباً ساڑھے پانچ سو کے قریب بسیں ضبط کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق ان بسوں کے مالکان نے بسوں کو درست کرانے کے لیے مہلت مانگی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے اپریل میں اپنے ایک حکم کے ذریعے یہ ہدایت کی تھی کہ دھواں چھوڑنے والی اور شور کرنے والی تمام گاڑیوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔

عدالت نے تیس جون تک ایسی تمام گاڑیوں کو فوری ضبط کرنے اور ان کے مالکان اور ڈرائیوروں کے خلاف بھی سخت اقدامات کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

بس مالکان کا موقف ہے کہ بسوں سے زہریلے دھویں کے اخراج کا سبب آلودہ انجن اور دیگر آئل کی فروخت ہے جس کو حکومت روکنے پر تیار نہیں ہے۔

تاہم کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے جنرل سیکریٹری ارشاد بخاری کے مطابق پیر کو کراچی پولیس کے سربراہ نیاز صدیقی کی اس یقین دہانی کے بعد غیر اعلانیہ ہڑتال ختم کردی گئی کہ اب تک پکڑی گئی تمام گاڑیاں فوری واپس کردی جائیں گی اور آئندہ گاڑیاں ضبط کرنے کے بجائے صرف جرمانے کیے جائیں گے۔

ارشاد بخاری کے مطابق اگر حکومت پرانی بسوں کا معاوضہ مالکان کو دے دے تو شہر میں سی این جی سے چلنے والی بسیں لائی جاسکتی ہیں۔

عدالتی حکم کے بعد شہری حکومت نے صوبائی انتظامیہ سے یہ اجازت بھی مانگی ہے کہ ایسی تمام بسوں اور منی بسوں کو بند کردیا جائے جو یا تو فٹنس کے مطلوبہ معیار پورے نہیں کرتیں یا پھر پچیس برس سے زیادہ پرانی ہیں۔ بس مالکان اس کے بھی خلاف ہیں۔

کراچی شہر میں وسیع پیمانے پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ شہر کے پبلک ٹرانسپورٹ نظام کی زبوں حالی کے ذمہ دار پولیس اور دیگر سرکاری محکمے ہیں جو مبینہ ٹرانسپورٹ مافیا اور بس مالکان سے ساز باز کرکے بیحد پرانی ، ٹوٹی پھوٹی دھواں چھوڑنے والی بسوں اور شور کرنے والے رکشوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد