BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 May, 2006, 13:51 GMT 18:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان: دمہ کے پچیس لاکھ مریض

نہیلر
ماہرین کے مطابق دمے کے لیئے ’انہیلر‘ کا استعمال کھانے والی دواوں سے بہتر علاج ہے
پاکستان میں ماہرین امراض سینہ کا کہنا ہے کہ ملک میں اس وقت سانس کی بیماری دمہ کے تقریباً پچیس لاکھ مریض ہیں جن میں میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے لیکن لوگ اس کے صحیح علاج سے آگاہ نہیں۔

دمہ کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیئے دو مئی کو دمہ کا عالمی دن منایا جارہا ہے جس کی ابتدا انیس سو اٹھاسی میں ہوئی تھی جب یہ صرف پینتیس ملکوں میں منایا گیا تھا اور اب دنیا کے ہر ملک میں منایا جاتا ہے۔

منگل دو مئی کو لاہور میں میو ہسپتال کے امراض سینہ کے ماہر ڈاکٹروں نے ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ ملک میں سات فیصد سے زیادہ آبادی دمہ کا شکار ہے۔

کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی امراض سینہ کے ماہر ڈاکٹروں نے ایک پریس بریفنگ
کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں امراض سینہ کے ماہر ڈاکٹروں کی پریس بریفنگ

کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر شمشاد رسول کا کہنا تھا کہ بچوں میں دمہ کی شرح ان کی آبادی کا دس فیصد جبکہ بڑوں میں ان کی آبادی چھ فیصد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماہرین کو خدشہ ہے کہ آئندہ دس برسوں میں اس بیماری کے مریضوں کی تعداد میں بیس سے پچیس فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔

ایسوسی ایٹ پروفیسر کے ای میڈیکل یونیورسٹی صولت اللہ خان نے بتایا کہ ملک میں لوگوں میں دمہ کے بارے میں غلط فہمیاں ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔

 کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر شمشاد رسول کا کہنا تھا کہ بچوں میں دمہ کی شرح ان کی آبادی کا دس فیصد جبکہ بڑوں میں ان کی آبادی چھ فیصد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماہرین کا خدشہ ہے کہ آئندہ دس برسوں میں اس بیماری کے مریضوں کی تعداد میں بیس سے پچیس فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دمہ انفیکشن (متعدی مرض) کی طرح ایک شخص سے دوسرے شخص کو نہیں لگتا بلکہ عام طور پر یہ ایک موروثی بیماری ہے اور بعض اوقات ماحول کی آلودگی اور درد یا خون کا دباؤ کم کرنے والی دواؤں کا استمعال بھی اس کا باعث بنتا ہے۔

پروفیس شمشاد کا کہنا تھا کہ دمہ مسلسل بیماری نہیں بلکہ اس کا دورہ پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا صحیح علاج انہیلر کا استعمال ہے جسے استعمال کرنے سے ڈرنا نہیں چاہیے بلکہ یہ کھانے والی دوا کی نسبت زیادہ موثر طریقہ علاج ہے جس سے دوا پندرہ منٹ میں متاثرہ جگہ تک پہنچ جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بچے کو اگر مسلسل کھانسی رہے یا کھانسی کے ساتھ الٹی آئے تو یہ دمہ کی نشانی ہے۔

دمہ کے ماہر اسسٹنٹ پروفیسر خالد چودھری نے کہا کہ دمہ کا شکار بچوں کو کسی چیز کے کھانے پینے سے نہیں روکنا چاہیے تاکہ ان کی نشو و نما متاثر نہ ہو بلکہ ان کے مرض کا علاج کروانا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق دنیا میں دمہ کے ایک کروڑ مریض پائے جاتے ہیں۔

ذیابیطس کی وجہ انسولین لینے کا ایک طریقہٹیکوں سے نجات
ذیابیطس کے مریضوں کے لیےخوشخبری
اسی بارے میں
ذیابیطس: مریضوں کے لیےخوشخبری
28 January, 2006 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد