ذیابیطس: مریضوں کے لیےخوشخبری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ذیابیطس کے مریضوں کے استعمال کے لیے سانس کے ذریعے لی جانے والی انسولین کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس نئی دوائی کا نام اگزیوبرا (Exubera) ہے۔ ایگزیوبرا کو دونوں قسم کے ذیابیطس یعنی ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ دوائی انسولین کے ٹیکے کی جگہ نہیں لے سکتی۔ یورپی کمیشن کی منظوری کے باوجود ایگزیوبرا برطانیہ میں مئی کے مہینے تک دستیاب نہیں ہوگی بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ دیر ہو جائے کیونکہ ابھی نیشنل ہیلتھ سروس کے مشیروں نے اس پر اٹھنے والے اخراجات کا جائزہ لینا ہے۔ برطانیہ میں ہر روز تقریباً آٹھ لاکھ افراد کھانے سے پہلے انسولین کے ٹیکے لگاتے ہیں۔ تاہم ذیابیطسن یو کے (Diabetes UK) نامی تنظیم کے مطابق یہ دوائی دیر تک اثر رکھنے والے ٹیکوں کی متبادل نہیں ہے جو ذیابیطس کے مریض دن میں ایک یا دو بار لگاتے ہیں۔ اس کے بر عکس دوائی بنانے والی کمپنی فائزر کا دعویٰ ہے کہ یہ دوائی شاید ٹائپ دو کے لیے استعمال ہونے والے تمام ٹیکوں کا نعم البدل ثابت ہو جائے۔ سانس کے ذریعے لی جانے والی انسولین سن انیس سو بیس میں ذیابیطس کے علاج کے تعین کے بعد پہلی ایسے دوائی ہے جس کے لیے ٹیکا لگانا ضروری نہیں۔ ذیابیطس برطانیہ کا کہنا ہے کہ سانس کے ذریعے لی جانے والی دوائی انسولین کی دریافت کے بعد سب سے بڑی پیش رفت ہے۔ فائزر کے علاوہ کچھ اور کمپنیوں کے بارے میں بھی خیال ہے کہ وہ سانس کے ذریعے لی جانے والی انسولین کی تیاری میں مصروف ہیں۔ | اسی بارے میں ذیابیطس:انجیکشن سے نجات؟09 September, 2005 | نیٹ سائنس ذیابیطس اور موٹاپے میں تعلق18 July, 2005 | نیٹ سائنس ذیابیطس:مکمل علاج کی امید28 November, 2004 | نیٹ سائنس انسولین لینے کا نیا طریقہ دریافت20 September, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||