BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ذیابیطس:انجیکشن سے نجات؟
انجیکشن
ذیابیتیس کے مریضوں کی بڑی تعداد کو انجیکشن کے ذریعے انسیولن لینی پڑتی ہے
امریکہ میں خوراک اور ادوایات کے نگراں ادارے ’ایف ڈی اے‘ نے حکومت کو تجویز پیش کر دی ہے کہ وہ انسیولین کی اُس قسم کی منظوری دے جو مریض انجیکشن کے بجائے اِنلہیلر سے لے سکیں گے۔

دوائی ’ایکزوبرا‘ نامی انسیولن کی یہ قسم ذیابیطس کے مریضوں کے لیے یوں آسانی پیدا کر دے گی کہ مریض اس کو ایک دوا کا بھپارہ لینے والے چھوٹے آلے (اِنہیلر) سے لے سکے گا۔

 دوائی ’ایکزوبرا‘ نامی انسیولن کی یہ قسم ذیابیطس کے مریضوں کے لیے یوں آسانی پیدا کر دے گی کہ مریض اس کو ایک دوا کا بھپارہ لینے والے چھوٹے آلے (اِنہیلر) سے لے سکے گا۔

یہ دوائی ذیابیطس کی سب سے عام قسم ’ٹائپ ٹو‘ ذیابیطس کے علاج کے لیے ہوگی لیکن ’ٹاائپ ون‘ کے لیے مناسب نہیں ہے۔ ٹائپ ون ذیابیطس کے لیے طویل عرصہ اثر کرنے والے انجیکشن ہی ضروری ہیں۔

امکان ہے کہ ذیابیطس کے مریض انہیلر سے انسیولن لینے کی سہولت کا خیر مقدم کریں گے کیونکہ اس سے انجیکشن کی پریشانی دور ہو جائے گی۔

تاہم اس نئی دوا کے دیگر اثرات کے بارے میں ابھی تحقیق جاری ہے کیونکہ طویل دورانیے میں پھیپڑوں پر اس کے اثر کے بارے میں کچھ خدشات باقی ہیں۔

’ایکزوبرا‘ بنانے والی کمپنی ’فائزر۔ سانوفی ایونٹِس اینڈ نیکٹر‘ نے کہا ہے کہ وہ کسی ممکنہ خطرے کو دور کرنے کے لیے اس دوائی پر سنہ دو ہزار انیس تک تحقیق جاری رکھے گی۔

66ذیابیطس کا خاتمہ
امریکی سائنسدانوں کی دعوٰی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد