ذیابیطس:انجیکشن سے نجات؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں خوراک اور ادوایات کے نگراں ادارے ’ایف ڈی اے‘ نے حکومت کو تجویز پیش کر دی ہے کہ وہ انسیولین کی اُس قسم کی منظوری دے جو مریض انجیکشن کے بجائے اِنلہیلر سے لے سکیں گے۔ دوائی ’ایکزوبرا‘ نامی انسیولن کی یہ قسم ذیابیطس کے مریضوں کے لیے یوں آسانی پیدا کر دے گی کہ مریض اس کو ایک دوا کا بھپارہ لینے والے چھوٹے آلے (اِنہیلر) سے لے سکے گا۔ یہ دوائی ذیابیطس کی سب سے عام قسم ’ٹائپ ٹو‘ ذیابیطس کے علاج کے لیے ہوگی لیکن ’ٹاائپ ون‘ کے لیے مناسب نہیں ہے۔ ٹائپ ون ذیابیطس کے لیے طویل عرصہ اثر کرنے والے انجیکشن ہی ضروری ہیں۔ امکان ہے کہ ذیابیطس کے مریض انہیلر سے انسیولن لینے کی سہولت کا خیر مقدم کریں گے کیونکہ اس سے انجیکشن کی پریشانی دور ہو جائے گی۔ تاہم اس نئی دوا کے دیگر اثرات کے بارے میں ابھی تحقیق جاری ہے کیونکہ طویل دورانیے میں پھیپڑوں پر اس کے اثر کے بارے میں کچھ خدشات باقی ہیں۔ ’ایکزوبرا‘ بنانے والی کمپنی ’فائزر۔ سانوفی ایونٹِس اینڈ نیکٹر‘ نے کہا ہے کہ وہ کسی ممکنہ خطرے کو دور کرنے کے لیے اس دوائی پر سنہ دو ہزار انیس تک تحقیق جاری رکھے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||