بچوں میں بڑھتی ہوئی ذیابیطس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں موٹے بچوں میں ذیابیطس کے بڑھتا ہوا مرض بہت خطرناک صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے۔ لندن میں ہونے والی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ بائیس میں سے سولہ بچوں کو ذیابیطس درجہ دو کا مرض ہے جو اکثر بالغ لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ تحقیق کاروں کے مطابق دس سال پہلے بچوں میں ذیابیطس دو کا مرض کبھی سنا نہیں گیا۔ ماہرین کے مطابق بچوں میں ذیابیطس دو کا بڑھتا ہوا مرض ایک ٹائم بم ہے جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے۔ برطانوی ذیابیطس کے چیف ایگزیکٹو سمال ووڈ نے کہا ہے کہ بچوں میں ذیابیطس دو کا بڑھنا ایک انتہائی خطرناک علامت ہے۔ ذیابیطس پر کام کرنے والے ادارے نے حکومت پر زور دیا ہے کہ اس مرض سے نپٹنے کے لیے خصوصی انتظامات کرئے اور ذیابیطس دو کے مریضوں کے علاج کے لیے سپشلسٹ ادویات فراہم کرئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||