ذیابیطس اور موٹاپے میں تعلق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایک ایسی جین دریافت کی ہے جس کا تعلق شوگر اور موٹاپے سے ہے۔ امید ہے کہ اس جین کی دریافت کے بعد شوگر یا ذیابیطس کی بیماری کی تشخیص میں آسانی پیدا ہو سکتی ہے۔ ای این پی پی1 نامی جین سے جسم کے طاقت کو جمع کرنے کا عمل متاثر ہوتا ہے اور جس سے انسولین ہارمون کو بلاک کر کے اسے کام کرنے سےروک دیتا ہے۔ خراب جین کے ساتھ پیدا ہونے والے بچے پانچ سال کی عمر سے موٹا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ’نیچر جنیٹکس‘ جریدے کو فرانسیسی اور برطانوی ٹیموں نے بتایا ہے کہ اگر اس بیماری کو پہلے پکڑ لیا جائے تو اس سے انسانی جانیں بچ سکتی ہیں۔ ماہرین نے بتایا ہے کہ برطانیہ میں موٹاپے اور ذیابیطس کی بیماری بڑھ رہی ہے اور اس کا تناسب بچوں اور بڑوں دونوں میں ہی زیادہ ہے۔ خیال ہے کہ 2010 تک برطانیہ میں تین ملین افراد اس بیماری میں مبتلا ہو جائیں گے۔ زیابیطس اور موٹاپے سے دل کی بیماری کا خطرہ زیادہ ہو جاتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||