| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سموسہ لے ڈوبے گا
برطانیہ میں ماہرینِ صحت نے یہاں رہنے والی ایشیائی برادری کو خبردار کیا ہے کہ ان کے پسندیدہ علاقائی کھانے ان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ ایشیائی برادری کے زیادہ تر افراد سموسوں جیسی چٹ پٹی مگر غیرصحت مند چیزیں کھاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ ان شہروں میں جہاں ایشیائی برادری زیادہ ہے وہاں زیابطیس اور دل کی بیماری زیادہ بڑھ رہی ہے۔ برمنگھم میں صحت کے کارکن سکھوں کے گردواروں میں جا کر صحت کے جائزے لے رہے ہیں۔ سکھ برادری میں زیابیطس یورپی برادری کے مقابلے میں تین گنا زیادہ جبکہ دل کی بیماری ڈیڑھ گنا زیادہ ہے۔ آسٹن میں مقیم ہارٹ آف برمنگھم ٹیچنگ پرائمری کیئر ٹرسٹ کی ہیلتھ ویزیٹر رشپال چنا کے مطابق سکھ گردواروں میں رہنے والے افراد کو ڈاکٹروں کے پاس جانے کی اشد ضرورت ہے۔ ایشیائی کھانے جیسے سموسے، پکوڑے اور بھاجی میں فیٹ یا چربی بھری ہوتی ہے۔ چنا کے مطابق سموسہ سب سے خطرناک خوراک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں لوگوں سے کہتی ہوں کہ کم سموسے کھائیں یا پھر انہیں گھی میں تلنے کی بجائے زیتون کے تیل میں پکائیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ایشیائی خوراک چربی سے بھری پڑی ہے کیونکہ اس میں زیادہ تر چیزیں تلی جاتی ہیں۔ ’اس کے باوجود لوگ یہ بات نہیں سمجھتے کہ یہ ان کے لیے کتنی مضرِ صحت ہے۔‘ چنا نے کہا کہ سموسے میں پچیس گرام چربی ہوتی ہے جو کہ مکھن کی ایک بڑی ڈلی کے برابر ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||