BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دل کی بیماری کا سبب
ایک ہم جنس پرست جوڑا
ایک ہم جنس پرست جوڑا

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ہم جنس پرست عورتیں عام طور پر موٹی ہوتی ہیں اور دوسری خواتین کے مقابلے انہیں دل کی بیماری کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ یہ دریافت کیلی فورنیا میں تین سو چوبیس ہم جنس پرست خواتین کے ایک مطالعے پر منحصر ہے۔

امریکی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے مطالعے میں پایا کہ ہم جنس پرست خواتین یعنی لیسبیُنز اپنے وزن کے بارے میں کم توجہ دیتی ہیں جبکہ وہ عورتیں جو مردوں سے شادی کرتی ہیں، اپنے وزن کے بارے میں زیادہ فکرمند رہتی ہیں۔

اس مطالعے میں سائنسدانوں نے ہم جنس خواتین پر زور دیا کہ وہ اپنا وزن کم کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ ورزش کریں۔ کیلی فورنیا یونیورسٹی میں ڈاکٹر اسٹیفانی رابرٹس اور ان کی ساتھیوں نے اپنے مطالعے میں ہم جنس پرست خواتین کے علاوہ تین سو چوبیس عام خواتین کو بھی شامل کیا۔

 ہمارے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ہم جنس پرست خواتین کو صحت کی خصوصی تعلیم کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر اسٹیفانی رابرٹس

سائنسدانوں نے پتہ لگایا کہ دوسری عورتوں کے مقابلے عام طور پر ہم جنس پرست خواتین میں لمبائی اور وزن پر مبنی باڈی ماس انڈیکس یعنی جسم کا حجم زیادہ ہوتا ہے، اور ان کی کمر چوڑی اور موٹی ہوتی ہے۔ اس مطالعے میں کہا گیا ہے کہ جسم کے حجم کے انڈِیکس کے زیادہ ہونے سے سینے میں شدید درد، دل کی بیماری اور ہائی بلڈ پریشر کے امکانات زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔

پہلے بھی سائنسدانوں نے کہا ہے کہ ان لوگوں کو دل کی بیماری کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جن کی کمر چوڑی اور موٹی ہوتی ہے۔

ہم جنس پرست خواتین
ہم جنس پرست خواتین

تازہ مطالعہ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ہم جنس پرست خواتین کے لئے اپنا وزن کم کرنا کافی مشکل ہوتا ہے، اور کوشش کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ پہلے ان کے وزن میں اضافہ ہوتا ہے، پھر کمی، اور پھر موٹاپا واپس آجاتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے ان خواتین کے وزن میں اس طرح کی تبدیلیاں بھی دل کی بیماری کا سب بن سکتی ہیں۔ ان سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ بتانا مشکل ہے کہ ان خواتین میں ایسی تبدیلیاں کیوں رونما ہوتی ہیں۔ تاہم ماضی کے مطالعوں میں یہ پایا گیا ہے کہ ہم جنس پرست خواتین خود کو ’ضرورت سے زیادہ وزنی‘ نہیں محسوس کرتی ہیں۔

ڈاکٹر رابرٹس نے کہا ہے کہ ان کے مطالعے سے ہم جنس پرست خواتین کے لئے صحت کی خصوصی تعلیم کی ضرورت سامنے آئی ہے۔ یہ دریافت ویمنس ہیلتھ ایشوز نامی رسالے میں شائع ہوئی ہے۔ مغربی ملکوں میں ہم جنس پرستوں کو قانونی طور پر شادی کا حق حاصل ہے۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد