’ہنڈا سٹی‘: نئی ماحول دوست کار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ہنڈا کمپنی نے سٹی کار کا ایک نیا ماڈل متعارف کروایا ہے جس کے بارے میں کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ کار موجودہ کاروں کے مقابلہ میں ماحول کو آلودہ کرنے والے ذرات بہت کم خارج کرتی ہے اور یورپ میں کاروں سے خارج ہونے والے مادوں کے لیے مقرر معیار کے مطابق بنائی گئی ہے۔ آج لاہور میں اس کار کو متعارف کروانے کی تقریب میں کمپنی کے جنرل منیجر ایاز حفیظ نے کہا کہ دنیا میں ماحول کو آلودہ کرنے والے ذرات کا پچاس فیصد گاڑیوں سے خارج ہونے والے مادوں سے آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نئے ماڈل کی کار میں ایسا انجن ہے جہ ایندھن کو مکمل طور پر جلا دیتا ہے اور آلودگی پھیلانے والے مادوں جیسے کاربن مونو آکسائڈ، آکسائڈ آف نائٹروجن، سلفر، ہائڈروکاربن وغیرہ کو کم نقصان دہ کیمیائی مادوں میں تبدیل کردیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت نے فضائی آلودگی کم کرنے کے لیے دو ہزار دس تک یورو دو نامی معیار کونافذ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جبکہ ان کی کمپنی نے اس کار کو یورپ میں دو ہزار سے نافذ یورو تین نامی معیار کے مطابق بنایا ہے جو ایک قدم آگے ہے۔ یہ کار تیرہ سو سی سی اور پندرہ سو سی سی کے انجن کے ساتھ دستیاب ہوگی اور پندرہ سو سی سی کی کار میں آٹومیٹک گیئر ماڈل بھی موجود ہے اور اسٹیرنگ ویل میں بھی بٹن ہوگا جس سے سات مختلف رفتاروں کے لیے گیئر بدلا جاسکے گا۔ اس ٹیکنالوجی کو اسٹیئرمیٹک کانام دیاگیا ہے۔
پاکستان میں کاروں کی مارکیٹ تیزی سے پھیل رہی ہے اور ہنڈا اٹلس کے صدر مامورو سواما نے بتایا کہ دو ہزار پانچ میں پاکستان میں کاروں کی مارکیٹ چھبیس فیصد کی شرح سے بڑھی ہے۔ کمپنی کے چیئرمین یوسف شیرازی نے حکومت کی کاروں کی درآمدی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ملک میں کاریں بنانے کی ترغیبات کم کردی ہیں اور باہر سے درآمد کی جانے والی کاروں پر امپورٹ ڈیوٹی سو فیصد سے کم کرکے پچاس سے پچھہتر فیصد کردی ہے۔ ان کا کہنا تھا پاکستان کے برعکس پورے جنوب مشرقی ایشیا میں کاروں کی درآمد پر ڈیوٹی کی شرح ایک سو چھپن فیصد تک ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت نے مختلف سکیموں جیسے گفٹ سکیم وغیرہ کے تحت استعمال شدہ کاروں کی درآمد کو بڑھا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے ملک میں کاروں کو بنانے کے لیے سرمایہ کاری کرنے والوں کو منفی پیغام ملا ہے اور ساری سرمایہ کاری غرق ہوسکتی ہے۔ |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||