نجی کمپنیاں کردار ادا کریں: امریکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کا کہنا ہے کہ حکومتوں کی بجائے نجی سیکٹر عالمی حدت پر قابو پانے میں کردار ادا کرے۔ امریکہ کے سیکرٹری توانائی سیموئیل بوڈمین نےاس بات کا اظہار ماحول اور مثبت ترقی پر آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ہونے والی ایشیا پیسفک کے ممالک کی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔ فضا میں آلودگی پھیلانے والی گیسوں کے اخراج پر قابو پانےاور ماحولیات کے تحفظ کے لیے طے پانے والے ’کیوٹو معاہدے‘ کے تحت ذمہ داریاں حکومتوں پر عائد ہوتی ہے لیکن امریکہ، بھارت اور چین جیسے بڑے ممالک نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ امریکہ کہتا رہا ہے کہ فضا میں آلودگی کم کرنے کے لیے گرین ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ بوڈ مین کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کا سبب بننے والی گرین ہاؤس گیسیں پیدا کرنے کی ذمہ دار نجی کمپنیاں ہیں اور انہیں ہی اس حوالے سے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کمپنیاں بغیر کسی مالی رعایت کے ماحول کو صاف کرنے والی ٹیکنالوجی کوکیونکر اپنائیں گی تو انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہ کپمنیاں چلاتے ہیں ان کا بھی ایک خاندان ہے اور وہ بھی اسی فضا میں سانس لیتے ہیں چنانچہ انہیں اس مسئلے کو زیادہ موثر انداز میں حل کرنا ہوگا۔ آسٹریلیوی وزیراعظم نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ صنعتیں عالمی حدت کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے اقدامات کریں۔ دنیا میں سب سے زیادہ آلودگی پیدا کرنے والے چھ ممالک سڈنی میں ہونے والی اس کانفرنس میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد رضاکارانہ معاہدوں کے تحت ماحولیاتی تبدیلیوں کا سد باب کرنا ہے۔
تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس کا مقصد محض ماحولیات سے متعلق مظاہرین کے ایک گروہ نے اس ہوٹل کے باہر احتجاج کیا جہاں یہ دو روزہ کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔ مظاہرین نے آسٹریلوی وزیراعظم کا سر کوئلے کے ڈھیر میں دبا رکھا تھا۔ان کے اس احتجاج کی وجہ یہ تھی کہ ان کے بقول وزیراعظم ماحولیاتی تبدیلیوں کی پروا کیے بغیر صنعتی ترقی کے اپنے وعدے پورے کرنا چاہتے ہیں۔ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ نہ تو امریکہ اور نہ ہی آسٹریلیا نے کیوٹو معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت فضا میں آلودگی پھیلانے والی گیسوں کے اخراج پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے طے شدہ اہداف پورے کرنے کی ذمہ داری حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ موسم اور مثبت ترقی پر اس نئی ایشیا پیسفک شراکت کا مقصد آلودگی نہ پھیلانے والی ٹیکنالوجی کی مدد سے عالمی حدت کے مسئلے پر قابو پانا ہے۔ اس نئی پارٹنرشپ میں آسٹریلیا، امریکہ، جاپان، چین، جنوبی کوریا اور بھارت کے علاوہ انرجی اور ریسورسز کمپنیوں کے سربراہ بھی شامل ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکی سیکرٹری کے اس بیان سے اس بارے میں کی جانے والی تنقید پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایشیا پیسفک پارٹنرشپ ایک طرح کی کاروباری ڈیل ہے اس کا مقصد مغربی کپمنیوں کی ایشیائی مارکیٹ تک رسائی ہے۔ | اسی بارے میں کیوٹومعاہدہ قانون بن جائےگا18 November, 2004 | آس پاس کیوٹو پرٹوکول 16 فروری سے نافذ 16 February, 2005 | آس پاس ’ کیوٹو جیسا معاہدہ نامنظور‘03 July, 2005 | آس پاس نئے ماحولیاتی معاہدے پر دستخط28 July, 2005 | آس پاس ماحول دوست میں سرمایہ کاری10 May, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||