’کیوٹو کے وعدے پورا نہیں ہورہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی یونین کے بیشتر ممالک ماحولیاتی معاہدے کیوٹو کے تحت فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے اہداف پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ایک برطانوی ریسرچ ادارے کے مطابق صرف سویڈن اور برطانیہ کیوٹو کے تحت طے شدہ اپنی ذمہ داریاں پورا کرنے کی جانب گامزن ہیں۔ لندن میں واقع ادارے انسٹیٹیوٹ آف پبلِک پالیسی ریسرچ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ یورپی یونین کے جن پندرہ ممالک نے کیوٹو معاہدے پر دستخط کیے تھے ان میں سے دس اپنے اہداف پورا نہیں کرسکیں گے۔ رپورٹ کے مطابق فرانس، جرمنی اور یونان تین ایسے ممالک ہیں جو منظم سطح پر کوشش کریں تو ابھی اتنا وقت ہے کہ وہ کیوٹو کے تحت طےشدہ اپنے اہداف پورا کرسکیں۔ انسٹیٹیوٹ کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ٹونی گریلنگ نے کہا: ’فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے لیے ہمارے پاس کافی کم وقت رہ گیا ہے، جلد ہی ہمارے لیے یہ ایک ناقابل تلافی نقصان ثابت ہوگا۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’یہ کافی اہم ہے کہ یورپی یونین کے ممالک فضا میں آلودگی ختم کرنے کے اپنے وعدے پورا کریں۔‘ کیوٹو کے تحت طے پانے والے اہداف کے مطابق یورپی یونین کے ممالک پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ سن دو ہزار آٹھ اور بارہ کے درمیان گیسوں کے اخراج کو آٹھ فیصد سے بھی کم کریں جو کہ انیس سو نوے کی سطح تھی۔ لیکن انسٹیٹیوٹ کی تحقیق کے مطابق یورپی ممالک اس جانب مناسب اقدام نہیں کررہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ فضا میں آلودگی کم کرنے سے متعلق کیوٹو معاہدے کے اہداف کو پورا کرنا اس لیے بھی مشکل ہے کیوں کہ امریکہ نے جو کہ فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کے سب سے زیادہ اخراج کے لیے ذمہ دار ہے، کیوٹو پر دستخط کرنے سے انکار کردیا ہے۔ | اسی بارے میں روس نے کیوٹو معاہدہ منظور کرلیا22 October, 2004 | آس پاس ’کیوٹو پر ہمارا موقف نہیں بدلےگا‘23 October, 2004 | آس پاس کیوٹومعاہدہ قانون بن جائےگا18 November, 2004 | آس پاس ’کیوٹو معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں‘08 December, 2004 | آس پاس کیوٹو پرٹوکول 16 فروری سے نافذ 16 February, 2005 | آس پاس نئے ماحولیاتی معاہدے پر دستخط28 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||