ماحولیاتی کانفرنس حتمی مرحلے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کینیڈا کے شہر مانٹریال میں اقوام متحدہ کی ماحولیاتی تبدیلیوں پر ہونے والی کانفرنس اپنےحتمی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ دنیا بھر کے ممالک کے وزراء ماحولیات جمع ہو کر ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالےسے پالیسی کے بارے میں بات چیت کے لیے جمع ہیں۔ دس روز سے ہونے والی اس کانفرنس میں اس بات پر غور ہو رہا ہے کہ کیوٹو پروٹوکول کے اہداف کیسے پورے کیے جائیں۔ اس کانفرنس میں وزراء مستقبل کی عالمی ماحولیاتی پالیسی کے بارے میں حتمی لائحہ عمل طے کریں گے۔ امریکہ نےکیوٹو پروٹوکول پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ اس نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس پر عمل درآمد کرنے سے معاشی ترقی کو خطرہ لاحق ہو سکتاہے۔ کیوٹو پروٹوکول دنیا میں زہریلی گیسوں کے اخراج کو کنٹرول کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ ایک سو اکتالیس ملکوں نے اس سمجھوتے پر دستخط کر دیے ہیں۔ سولہ فروری سے نافذ ہونے والے اس سمجھوتے کے تحت پچپن بڑے صنعتی ممالک کو سن دو ہزار بارہ تک کاربن ڈائی آ کسائڈ جیسی گیسوں کے اخراج میں بڑے پیمانے پر کمی کرنی پڑے گی۔ کینیڈا جہاں یہ کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔اس کوشش میں ہے کہ اس بارے میں ایک ایسا فارمولا طے کیا جائے کہ جو سب کے لیے قابل قبول ہو یعنی اس کی مخالفت کرنے والے اور ترقی پذیر ممالک جنہیں اس کیوٹو پروٹوکول میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس کانفرنس کی صدارت کرنے والے کینیڈا کے وزیر ماحولیات اسٹیفن ڈائون نے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بھارت اور کچھ دوسرے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک اور دنیا کا سب سے بڑا کاربن خارج کرنے والا ملک امریکہ اس معاملے میں اپنے مؤقف یعنی اس پروٹوکول کی مخالفت زیادہ دیر تک برقرار رکھنے میں کامیاب نظر نہیں آتے۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے مانٹریال میں مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی حدت پر فوری طور پر کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ امریکہ کا اصرار ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں وہ بھی سنجیدہ ہے لیکن اس کے باوجود وہ ابھی تک اس کی مخالفت کر رہا ہے۔ وہ اس پروٹوکول کی بجائے ایک ایسی پالیسی چاہتا ہے کہ جس میں نئی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے رضاکارانہ طور پر کاربن کی تخفیف پر عمل درآمد ہو۔ | اسی بارے میں ماحولیاتی معاہدہ: روس پرعالمی تنقید30 September, 2003 | نیٹ سائنس ہوائی سفر سے ماحولیاتی تباہی04 July, 2004 | نیٹ سائنس ماحولیاتی مسائل کا خدشہ: چینی اہلکار24 September, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||