BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 September, 2003, 12:32 GMT 16:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ماحولیاتی معاہدہ: روس پرعالمی تنقید
ماحولیات کا مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔
ماحولیات کا مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔

روس کے صدر ولادیمیر پیوتن نے کہا ہے کہ روس اب تک یہ طے نہیں کرسکا کہ آیا عالمی تپش پر قابو پانے کے لئے کئے جانے والے ماحولیاتی معاہدے کیوٹو پروٹوکول کی توثیق کرے یا نہ کرے۔

صدر پیوتن نے یہ بات روس کے دارالحکومت ماسکو میں منعقد ہونے والی ’عالمی موسمی کانفرنس‘ کے پہلے دن بتائی۔

روس کی جانب سے توثیق کئے بغیر اس معاہدے کا اطلاق ممکن نہیں ہے۔ انیس سو ستانوے میں اس معاہدے کے آغاز پر بھی محسوس ہورہا تھا کہ بعض ممالک کے نزدیک یہ ایک ماحولیاتی معاہدے کی بجائے تجارتی مواقعوں کے حصول کا کوئی ذریعہ ہے۔

صدر پیوتن کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت اب تک اس معاہدے کی توثیق کرنے کی منفی اور مثبت پہلوؤں اور نقصانات اور فوائد کا جائزہ لے رہی ہے۔

روسی صدر کو اس معاہدے کی توثیق کا نظام الاوقات تیار کرنے میں پس و پیش پر شدید عالمی تنقید کا سامنا ہے۔ روس کی جانب سے توثیق کئے بغیر اس معاہدے کا اطلاق ممکن نہیں کہ دو برس قبل امریکہ اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کرچکا ہے۔

صدر پیوتن پر زور دیاجاتا رہا ہے کہ وہ اس کانفرنس کے موقع کو اس معاہدے کی توثیق کی تصدیق کرنے کے لئے استعمال کریں مگر اب ان کے اس موقف پر اقوام متحدہ، یورپی یونین اور ماحولیات سے متعلق حلقوں میں احتجاج کی کیفیت پیدا کردی ہے۔

ناروے کے وزیر ماحولیات بورجے برینڈے کا کہنا ہے کہ صدر پیوتن نے گزشتہ برس وعدہ کیا تھا کہ روس ’جلد ہی‘ اس معاہدے کی توثیق کردے گا۔ ان کا کہنا ’اب جبکہ امریکہ اور آسٹریلیا بھی اس معاہدے میں شامل نہیں ہیں تو روس کے بغیر تو اس معاہدے کا وجود ہی نہیں ہوگا۔‘

اس معاہدے کے اطلاق کے لئے ضروری ہے کہ عالمی طور پر تقریباً پچپن فیصد کاربن ڈائی آکسائڈ خارج کرنے والوں کی نمائندگی کرنے والے ممالک اس معاہدے کی توثیق کریں۔

امریکہ کی جانب سے انکار کے بعد دیگر بڑی صنعتی طاقتوں کو اس معاہدے کی توثیق کرنا ہوگی تاکہ مطلوبہ کوٹہ مکمل کیا جاسکے۔

بی بی سی کے ماحولیاتی امور کے نامہ نگار ٹم ہائرش کا کہنا ہے کہ امریکی حکام نے اس بات کی شدت سے تردید کی ہے کہ وہ روس پر اس معاہدے سے علیحدہ ہوجانے کے لئے دباؤ ڈالتے رہے ہیں۔

تاہم نجی طور پر یورپی حکومتوں کی بعض شخصیات دعویٰ کرتی ہیں کہ امریکہ اس معاہدے کو برباد کردینے کے لئے روس پر چوری چھپے دباؤ ڈالتا رہا ہے۔

لیکن موسمی امور پر امریکہ کے مذاکرات کاروں کے سربراہ ہیرلن واٹسن نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ واشگاف الفاظ میں اس کی تردید کرچکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ صدر بش نے وعدہ کیا ہے کہ اس معاہدے کا حصہ رہنے یا اس سے الگ ہوجانے کے لئے کسی ملک پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ڈالا نہیں جائے گا۔

ماحولیات سے متعلق تنظیم ’گرین پیس‘ کا کہنا ہے کہ ’صدر پیوتن کی جانب سے اس پس و پیش کے نتیجے میں اب یہ پوری کارروائی ہی غارت ہوسکتی ہے۔‘

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے بھی روس سے کہا ہے کہ وہ فی الفور اس معاہدے کی توثیق کردے۔

کانفرنس کے نام اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا ’میں دنیا بھر کے ان لوگوں کے ساتھ ہوں جو بے چینی سے روس کی جانب سے اس معاہدے کی توثیق کے منتظر ہیں۔‘

یورپی یونین نے بھی، جس نے اپنے صنعتی اداروں سے سن دو ہزار پانچ میں کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج کو محدود کرنے کا منصوبے بنایا ہے، ایک بار پھر روس سے اپنے اس مطالبے کو دہرایا ہے کہ وہ اس معاہدے کی توثیق کردے۔

تاہم روسی صدر اس معاملے میں پس و پیش ہی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کانفرنس سے کہا ’اکثر کہا جاتا ہے، کبھی مذاقاً کبھی انتہائی سنجیدگی سے کہ روس ایک شمالی ملک ہے اور اگر درجۂ حرارت دو یا تین ڈگر بڑھ جائے تو یہ کوئی بری بات نہیں۔۔۔ ہمیں گرم کپڑوں پر کم پیسے خرچ کرنے پڑیں گے اور زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے فصل بھی اچھی ہوگی۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ہو بھی جائے۔ مگر ہمیں مخصوص خطوں میں اس کے نتائج کا جائزہ لینا ہوگا جہاں خشک سالی ہوجائے گی یا جہاں سیلاب آجائیں گے۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مبصرین اس بات پر خود حیرت و تعجب کا شکار ہیں کہ روس کو اس معاہدے سے آخر کیا مشکلات درپیش ہوسکتی ہیں جبکہ بظاہر روس بہت بہترین شرائط پر اس معاہدے میں شامل ہے۔

اس معاہدے کے مطابق سن دو ہزار آٹھ سے سن دو ہزار بارہ تک اس کے صنعتی اداروں سے کاربن ڈائی آکسائڈ اور ماحولیات سے متعلق کسی اور گیس کے اخراج کی سطح وہی رہے گے جو انیس سو نوّے میں تھی اور اگر موازنہ کیا جائے تو پوری صنعتی دنیا نے اوسطاً پانچ فیصد کمی کی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد