’ کیوٹو جیسا معاہدہ نامنظور‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نےسکاٹ لینڈ میں ہونے والے جی ایٹ اجلاس میں کیوٹو کی طرز پر کسی معاہدے کی امریکی حمایت کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ برطانیہ کے آئی ٹی وی چینل کوانٹرویو یتے ہوئے جارج بش نے کہا وہ کیوٹو معاہدے کی بجائے جی ایٹ اجلاس میں اپنے ساتھی رہنماؤں سے عالمی حدت سے نمٹنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی کے استعمال پر تبادلۂ خیال کریں گے۔ تاہم امریکی صدر نے یہ بات تسلیم کی کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے ’جس سے ہمیں نمٹنا ہی ہوگا۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس مسئلے کی ذمہ داری کچھ حد تک انسانی سرگرمیوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر ہفتۂ رواں میں سکاٹ لینڈ میں ہونے والے جی ایٹ اجلاس کے دوران افریقہ اور آب و ہوا کی تبدیلی پر معاہدوں کی امید کر رہے ہیں۔ صدر بش نے کہا کہ امریکہ ہر ایسے معاہدے کے خلاف مزاحم ہوگا جس کے تحت ممالک سے کہا جائے کہ وہ کاربن کے اخراج کو کم کریں۔ یہ امریکہ کا وہی موقف ہے جسے انیس سو ستانوے میں اقوامِ متحدہ کے کیوٹو معاہدے کے موقع پر اختیار کرتے ہوئے اس نے دستاویزات پر دستخط نہیں کیے تھے۔ صدر بش نے کہا ’جی ایٹ میں جس معاہدے کی تجویز ہے، اگر وہ کیوٹو سے متماثل ہوا تو ہمارا ردِ عمل انکار میں ہوگا۔‘ ’اگر مجھے کہنے کی اجازت دیں تو میں یہ کہوں گا کہ کیوٹو معاہدہ ہماری معیشت کو برباد کر دیتا۔‘ جارج بش نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ جی ایٹ اجلاس میں دیگر رہنما ’کیوٹو پر بحث سے آگے بڑھیں گے‘ اور عالمی حدت کے حل کے لیے دیگر ٹیکنالوجیز کی طرف رجوع کریں گے۔ انہوں نے کہ کہ امریکہ ایسی ٹیکنالوجی تیار کرنے پر رقم خرچ کر رہا ہے جس سے ہائیڈروجن سے چلنے والی گاڑیاں بنیں یا پاور سٹیشنز میں کاربن کا اخراج بالکل ختم ہوجائے۔ تاہم صدر بش نے آب و ہوا سے متعلق دنیا میں پائے جانے والے مجموعی تاثر کی تائید کی اور کہا کہ ’یہ ایک طویل المعیاد اور اہم معاملہ ہے جس سے ہمیں بہرحال نمٹنا ہی پڑے گا۔‘ جارج بش نے اس خیال کو بھی مسترد کر دیا کہ انہیں جی ایٹ میں ٹونی بلیئر کے منصوبے کی حمایت کرنی چاہیے کیونکہ برطانیہ نے عراق جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا ہے۔ ’ٹونی بلیئر نے عراق سے متعلق فیصلے یہ سوچ کر کیے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فتح اور امن کے لیے بہترین عمل کیا ہونا چاہیے۔ لہذا میں جی ایٹ اجلاس میں ٹونی بلیئر کو خوش یا ناخوش کرنے کی غرض سے نہیں بلکہ اس ایجنڈے کے ساتھ جا رہا ہوں کہ میرے ملک کے لیے بہترین عمل کیا ہے۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||