افریقی امداد دوگنی کرنے کا بش منصوبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدر بش نے اگلے پانچ سالوں میں افریقہ کے لیے امریکی امداد دو گنا کرنے کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس وقت ہو سکتا ہے جب افریقی رہنما ایماندار حکومت اور قانون کی بالا دستی رائج کرنے کا وعدہ کریں۔ سکاٹ لینڈ کے شہر گلین ایگلز میں اگلے ہفتے ہونے والے جی ایٹ کے سمٹ کے متعلق اپنی ترجیہات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مغرب کے پاس اب ایک نادر موقع ہے کہ افریقہ میں غربت کے خاتمے کے لیے کچھ کرے۔ لیکن دوسری طرف انہوں نے سمٹ کو درپیش دوسرے اہم یعنی ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے کے متعلق کسی قسم کے سمجھوتے یا رضامندی کا کوئی عندیہ نہیں دیا۔ امریکی صدر نے ان افراد پر تنقید کی جو توانائی کے فروغ کی مخالفت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس پر پابندیاں لگائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں اس وقت دو ارب افراد ایسے ہیں جو کسی بھی قسم کی توانائی سے محروم ہیں ۔۔۔ ’ان کی اس تک رسائی کو روکنے کا مطلب ہو گا کہ انہیں مستقل غربت کے کنویں میں دھکیل دیا جائے‘۔ صدر بش نے کہا کہ امریکہ 2010 تک علاقے کو دی جانے والی امداد دوگنی کر دے گا لیکن انہوں نے ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ اقتصادی امداد بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ تجارت اور اچھی حکومت۔ جنوبی افریقہ کے صدر کے ترجمان بیہکی خومالو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ صدر بش کے اعلان سے بہت خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ درست سمت کی طرف ایک قدم ہے۔ اب یہ افریقیوں پر منحصر ہے کہ وہ حکومتی معاملات کو بہتر بنائیں‘۔ تاہم غربت کے خاتمے کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ایکشن ایڈ کا کہنا ہے کہ بش زیادہ دور نہیں گئے اور یہ ’بڑا عام سا قدام ہے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||