BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 June, 2005, 12:23 GMT 17:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جی ایٹ کیا ہے؟
جی ایٹ اجلاس
جی ایٹ پر تنقید کی جاتی ہے کہ وہ صرف صنعتی ممالک کے مفادات کی نمائندگی کرتی ہے اور دنیا کے وسیع تر مفادات نظر انداز ہوتے ہیں
جی ایٹ تنظیم روس اور دنیا کے سات بڑے صنعتی ممالک پر مشتمل ہے۔ صدر دفتر اور مستقل عملے کی عدم موجودگی میں جی ایٹ ایک غیر رسمی تنظیم ہے۔

یورپی یونین کی نمائندگی یورپی کمیشن کے صدر اور جس ملک کے پاس یورپی یونین کی صدارت ہوتی ہے اس کے سربراہ کرتے ہیں۔ یورپی یوین سیاسی مذاکرت میں شریک نہیں ہوتی۔

جی ایٹ کا قیام انیس سو ستر کی دہائی میں تیل کے بحران سے عالمی تجارت میں مندی کے بعد ہوا تھا۔ انیس سو تہتر میں امریکہ نے جاپان، یورپ اور امریکہ کے اقتصادی امور کے اعلیٰ حکام پر مشتمل لائبریری گروپ تشکیل دیا تھا۔

فرانس کے کہنے پر انیس سو پچھتر میں لائبریری گروپ کے اجلاس میں رکن ممالک کے سربراہان کو بھی شامل کر لیا گیا۔ اس کے ساتھ سالانہ اجلاس منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

پہلے پہل اس تنظیم کا نام جی سِکس تھا، انیس سو چھہتر میں کینیڈا اور انیس سو اٹھانوے میں روس کی شمولیت کی وجہ سے اس کا نام بالترتیب جی سیون اور جی ایٹ ہو گیا۔

ابتدائی طور پر ان صنعتی ممالک کے قریب آنے کی وجہ تجارت اور معیشت تھی لیکن انیس سو ستر کی دہائی کے آخر میں جی سیون کے ایجنڈے میں سیاست بھی شامل ہو گئی۔

حالیہ برسوں میں جی ایٹ کے اجلاس کے دوران ترقی پذیر ممالک، عالمی سلامتی، مشرق وسطیٰ میں امن اور عراق کی تعمیر نو کے بارے میں بھی بات ہوئی۔

جی ایٹ کے رکن ممالک پالیسیوں وضع کر سکتے ہیں، مقاصد طے کر سکتے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کرنا ہر ملک کا ذاتی مسئلہ ہے اور یہ رضاکارانہ طور پر ہوتا ہے۔

جی ایٹ کا، اس کے ارکان کی اقتصادی اور سیاسی طاقت کی وجہ سے، دیگر عالمی اداروں پر اثر و رسوخ ہے۔

جی ایٹ کے اجلاس انیس سو ستر کی دہائی میں لائبریری گروپ کی ملاقاتوں سے بہت مختلف ماحول میں ہوتے ہیں۔ اب یہ ملاقات صرف غیر رسمی گفتگو کا موقع نہیں بلکہ سخت سکیورٹی میں ہونے والے اجلاس میں اب حکام کی ایک فوج بھی سربراہان کے ساتھ ہوتی ہے۔

تاہم جی ایٹ اجلاس کے دوران ہر ملاقات رفقاء اور ذرائع ابلاغ کی موجودگی میں نہیں ہوتی۔ اجلاس کے دوسرے روز سربراہان ایک غیر رسمی ملاقات کرتے ہیں جہاں وہ حکام اور ذرائع ابلاغ کے نظروں سے دور گفتگو کر سکتے ہیں۔

جی ایٹ پر تنقید کی جاتی ہے کہ وہ صرف صنعتی ممالک کے مفادات کی نمائندگی کرتی ہے اور دنیا کے وسیع تر مفادات نظر انداز ہوتے ہیں۔

اقتصادی ترقی کرتے ہوئے اور زیادہ آبادی والے ممالک چین اور بھارت اس میں شامل نہیں ہیں اور نہ ہی لاطینی امریکہ اور افریقہ کا کوئی ملک اس میں شامل ہے۔

جی ایٹ کی گلوبلائزیشن کی حمایت کی وجہ سے سخت مخالفت کی گئی ہے اور سن دو ہزار ایک میں اٹلی میں ہونے والے اجلاس پر گلوبلائزیشن کے خلاف ہونے والے مظاہرے چھائے رہے۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد