ماحول دوست میں سرمایہ کاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا کی دو بڑی کمپنیوں میں سے ایک، جنرل الیکٹرک نے ایسی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بڑھانے کا اعلان کیا ہے جو ماحول دوست ٹیکنالوجی کہلاتی ہے یعنی ایسی ٹیکنالوجی جسے استعمال کرنے سے ماحول کو نقصان نہیں پہنچتا۔ جنرل الیکٹرک کے مطابق کمپنی صاف ستھری ٹیکنالوجی کو بازار میں لانے کے لیے پہلے سے دوگنی رقم خرچ کرے گی۔ جنرل الیکٹرک کی مصنوعات کی ایک بڑی مارکیٹ امریکہ ہے۔ اور شمالی امریکہ کے لیے بی بی سی کے معاشی امور کے نامہ نگار سٹیفن ایونز کا کہنا ہے کہ شمالی امریکہ میں ماحول کے حوالے سے عوام کے رویے میں تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ امریکہ وہ ملک ہے جس سے ماحولیاتی کارکن ہمیشہ ناراض رہے ہیں۔ امریکہ نے جاپان میں ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ کے عالمی کیوٹو معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کیا اور ماحولیاتی کارکنوں کا الزام رہا ہے کہ امریکی ماحول کے لیے صاف ستھری ٹیکنالوجی اپنانے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ ایسی ٹیکنالوجی عمومًا تھوڑی سی مہنگی ہوتی ہے۔ لیکن گزشتہ چند سالوں میں بہت خاموشی سے امریکہ میں ماحول سے متعلق نیا رویہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ امریکی کمپنیوں کو احساس ہو رہا ہے کہ وہ اشیاء بازار میں زیادہ مقبول ہیں جو ماحول کو کم نقصان پہنچاتی ہیں۔ مثال کے طور پر گاڑیاں بنانے والی امریکی کمپنی جنرل موٹرز اس لیے معاشی مشکلات کا شکار ہے کہ عوام میں جاپان کی بنی ہوئی کم پٹرول استعمال کرنے والی گاڑیاں زیادہ مقبول ہیں اور جنرل الیکٹرک ، جو بجلی کے بلب سے لے کر بڑے بڑے پاور سٹیشنوں تک سب کچھ بناتی ہے۔ اب کمپنی ایسی مصنوعات پر تحقیق کرنے پر توجہ مرکوز کرے گی جنہیں گرین پروڈکٹس کہا جاتا ہے ، یعنی وہ مصنوعات جو ماحول دوست سمجھی جاتی ہوں۔ امریکہ میں سیاسی طور پر دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے یہ کہہ کر کم پٹرول والی گاڑیاں استعمال کرنی شروع کر دی ہیں کہ یہ ان کی قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو بیرونی ممالک کے تیل پر انحصار کم کرنا چاہیے جس کے لیے ضروری ہے کہ اندرون ملک تیل کا استعمال کم ہو۔ امریکی دائیں بازو کے سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کا مسئلہ دھواں دار تقریروں اور بڑے بڑے معاہدوں سے نہیں حل ہوگا بلکہ سرمایہ دارانہ نظام اور جدید ٹیکنالوجی کا ملاپ خود بخود یہ مسئلہ حل کر دے گا۔ اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ امریکی عوام اب ماحول دوست اشیاء کا مطالبہ کر رہے ہیں اور کمپنیاں ان کی ڈیمانڈ پوری کرنے کے لیے اپنی مصنوعات میں تبدیلی لا رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||