BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 January, 2006, 03:13 GMT 08:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عالمی حدت: کیوٹو نہیں کچھ اور
دنیا میں سب سے زیادہ آلودگی پیدا کرنے والے چھ ملکوں کے نئے اور متنازعہ اتحاد کا پہلا اجلاس آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ہورہا ہے جس میں کیوٹو سے ہٹ کا کسی اور معاہدے کے امکانات پر بحث کی جا رہی ہے۔

اس اجلاس میںں امریکہ ، بھارت ، چین ، جاپان ، جنوبی کوریا ، اور آسٹریلیا شامل ہیں۔

تاہم ناقدین نے اس اجلاس کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ یہ اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی ایک کارروائی ہے۔

اس نئے اتحاد کے اجلاس میں اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ دنیا کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت پر قابو پانے کے لیے ایسی ٹیکنالوجی تیار کی جائے جس کے ذریعے صنعتی گیسوں کے اخراج سے پیدا ہونے والی آلودگی کو صاف کیا جا سکے تاکہ معیشت کو نقصان پہنچائے بغیر دنیا کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت پر بھی قابو پایا جاسکے۔ اس مقصد کے لیے رضاکارانہ معاہدوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

یہ چھ ممالک دنیا بھر میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا پچاس فیصد پیدا کرتے ہیں۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کے معائدے یعنی کیوٹو پروٹوکول میں دیے گئے اہداف اور طریقہ کار کو اپنائے بغیر بھی دنیا کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ یہ موقف انتہائی متنازعہ ہے۔ ماحولیات کے سانئسدان ہیں اور سڈنی کی یونیورسٹی آف نیو ساوتھ ویلز سے منسلک ڈاکٹر بین مکنیلان کا کہنا ہے جو کچھ آسٹریلیا اور امریکہ کی حکومتیں اس وقت کر رہی ہیں وہ خوش آئند ہے لیکن یہ سب کچھ ماحولیات سے متعلق ایک موثر پالیسی کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔

’ ماحول میں تبدیلی کی ایک موثر پالیسی کے لیے ہمیں ترقی یافتہ ممالک میں مقامی طور پر سخت اقدامات کرنے ہونگے کیونکہ زہریلی گیسوں کا زیادہ تر اخراج ان ہی ممالک سے ہورہا ہے۔‘

ماحولیات پر کام کرنے والے گروپ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ لازمی اہداف کے بغیر گیسوں کے اخراج میں کمی کے وعدوں سے دوسرے ترقی پزیر ممالک کو بھی کیوٹو معائدے میں دیے گئے راستے سے ہٹنے کا جواز ملے گا ۔

اسی بارے میں
عالمی حدت: امریکہ پر دباؤ
29 November, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد