’ماحول کو چین اور انڈیا سے خطرہ ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی ادارے ورلڈ واچ انسٹیٹوٹ نے کہا ہے کہ چین اور انڈیا کی تیزی سے ہونے والی ترقی سے عالمی ماحول کو خطرہ ہے۔ امریکی تھینک ٹینک،ورلڈ واچ انسٹیٹوٹ کے مطابق دنیا کی ابھرتی ہوئی معاشی طاقتیں چین اور بھارت پانی اور توانائی کی کمی کی وجہ سے ترقی کے یورپی معیار کو نہیں پہنچ سکتے۔ امریکی ادارے کے مطابق چین اور بھارت کی ترقی کرنے کی خواہش سے خطہ ارض کے ماحول کو خطرات لاحق ہیں کیونکہ بھارت اور چین کے قدرتی ذرائع ان کی ترقی کی خواہش کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین اور انڈیا اگر دو ہزار تیس میں جاپان جتنی فی کس توانائی کا استعمال کریں تو ان کی ضرورت پوری کرنے کے لیے پوری کرہ ارض کی توانائی درکار ہوگی۔ اس وقت امریکہ دنیا کے قدرتی ذرائع کا سب سے زیادہ استعمال کرتا ہے اور رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو چین اور بھارت کے ساتھ ایسی ٹیکنالوجی کو ترقی دینے میں مدد کرنی چاہیے جس سے ترقی کی وجہ سے عالمی ماحول پر پڑنے والے برے اثرات سےبچا جا سکے۔ چین پہلے ہی نظام شمسی کے مدد سے پانی گرم کرنے کے منصوبہ پر تیزی سے عمل کر رہا ہے اور پینتیس ملین گھر نظام شمسی کے نظام سے پانی گرم کرتے ہیں۔ | اسی بارے میں کیوٹومعاہدہ قانون بن جائےگا18 November, 2004 | آس پاس کیوٹو پرٹوکول 16 فروری سے نافذ 16 February, 2005 | آس پاس ’ کیوٹو جیسا معاہدہ نامنظور‘03 July, 2005 | آس پاس نئے ماحولیاتی معاہدے پر دستخط28 July, 2005 | آس پاس ماحول دوست میں سرمایہ کاری10 May, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||