’تاریخ کا سب سے بڑا سائنسی فراڈ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی کوریا کے جعلی قرار دیے گئے سائنسدان ڈاکٹر ہوانگ وو سک کے بارے میں ثابت ہوا ہے کہ کتے کا کلون تیار کرنے کا ان کا دعوٰی درست ہے۔ یونیورسٹی کے ایک تحقیقاتی پینل نے گزشتہ ماہ ہوانگ وو کے انسانی جنین کے سٹیم سیل تیار کرنے کے دعوے کو جھوٹا قرار دیا تھا۔ تاہم اسی پینل نے اب کہا ہے کہ ہوانگ وو کتے کا کلون تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ ڈاکٹر ہوانگ نے اپنے کام میں غلطیوں کا اعتراف کیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کے تحقیقاتی کام کو تباہ کیا گیا ہے۔ جنوبی کوریا کے ریاستی وکلاء اب اس معاملے پر غور کررہے ہیں۔ سیول میں بی بی سی کے نامہ نگار چارلز سکینلن کا کہنا ہے یونیورسٹی پینل کے فیصلے کے ساتھ ہی ڈاکٹر ہوانگ کی بے عزتی پر مہر ثبت ہوگئی ہے۔ ڈاکٹر ہوانگ جنوبی کوریا کے معروف ترین سائنسدان ہیں۔ ہوانگ وو نے دو ہزار چار میں انسانی جنین کے سٹم سیلز بنانے کا دعوٰی کیا تھا۔ ان کی تحقیق کو سائنس کے میدان میں ایک بڑا انقلاب سمجھا جارہا تھا کیونکہ اس کے باعث کئی ایسی بیماریوں مثلاً پارکنسنز اور شوگر وغیرہ کا علاج ممکن نظر آتا تھا جو بصورت دیگر ممکن نہیں ہے۔ تاہم سیول یونیورسٹی کے نو رکنی پینل نے ایک ماہ تک ڈاکٹر ہوانگ کے کام کا جائزہ لیا اور منگل کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا: ’سن دوہزار چار میں شائع ہونے والی تحقیق کا ڈیٹا جعلی تھا اور ردوبدل کے ساتھ شائع کیا گیا تھا‘۔ اس پینل کے مطابق انہیں کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ یہ سٹم سیلز کبھی تیار بھی کیے گئے تھے یا نہیں۔ پینل نے انکشاف کیا ہے کہ اس تحقیق کے بعد ڈاکٹر ہوانگ کی ایک اور تحقیق جو کہ ابتدائی ریسرچ پر ہی مبنی تھی، جعلی ثابت ہوئی ہے۔ جس امریکی جریدے نے یہ ریسرچ شائع کی تھی وہ پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ وہ یہ ریسرچ پیپر واپس لے رہا ہے۔ اگرچہ پینل نے ابھی یہ نہیں بتایا ہے کہ ڈاکٹر ہوانگ پر کیا پابندیاں عائد کی جائیں گی تاہم ان کا خیال ہے کہ ان پر ’سخت جرمانہ’ عائد کیا جائے گا۔ امکان ہے کہ ہوانگ پر فراڈ اور ریاستی فنڈز کے غلط استعمال کے مقدمات قائم کیے جاسکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ہوانگ کے کام کی بنیاد پر سائنسدانوں کو سٹم سیل ریسرچ روکنی نہیں چاہیے اورنہ ہی اس سے کسی قسم کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر ہوانگ کے بارے میں ان انکشافات سے جنوبی کوریا کے عوام کو دھچکا لگا ہے۔ ملک میں انہیں قومی ہیرو کا درجہ حاصل تھا۔ کچھ تجزیہ کاروں نے اس واقع کو تاریخ کا سب سے بڑا سائنسی فراڈ قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر ہوانگ نے گزشتہ ماہ یونیورسٹی کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا اور اس کے بعد سے اب تک وہ عوام کے سامنے نہیں آئے ہیں۔ یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ اب کہاں روپوش ہیں۔ تاہم منگل کو ہوانگ کے بارے میں کچھ مثبت رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کتے کا کلون تیار کرنے کا ان کا دعوٰی درست تھا۔ پینل کے مطابق ایک تین سالہ افغانی کتے ’سنپی‘ کے ڈی این اے ٹیسٹ سے ثابت ہوا ہے کہ وہ سائنسی طور پر کلون کیا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں سٹم سیلز کی تحقیق کا معرکہ20 May, 2005 | نیٹ سائنس ’اپنی طرح کے پہلے بلونگڑے‘23 August, 2005 | نیٹ سائنس کلون شدہ گائے کا گوشت محفوظ ہے12 April, 2005 | نیٹ سائنس پچاس ہزار ڈالر کا کلون شدہ بلونگڑا23 December, 2004 | نیٹ سائنس کلوننگ پر پابندی کیوں؟05 May, 2004 | نیٹ سائنس انسانی کلوننگ پر پابندی کا مطالبہ13 February, 2004 | نیٹ سائنس کلوننگ سے تیس انسانی جنین تیار12 February, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||