کلوننگ پر پابندی کیوں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں گھوڑوں کی افزائش نسل کے ایک ماہر نے حکومت کی طرف سے گھوڑوں کی کلوننگ پر پابندی پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ ہے حکومت نے یہ فیصلہ جانوروں کے حقوق کی تنظیموں کے دباؤ میں آ کر کیا ہے۔ پروفیسر ٹونک ایلن نے گزشتہ سال محکمۂ داخلہ کے پاس گھوڑوں کی کلوننگ کے لائسنس کی درخواست دائر کی تھی جو مسترد کر دی گئی ہے۔ دنیا میں کلوننگ کے ذریعے سب سے پہلاگھوڑا گزشتہ سال اٹلی میں پیدا ہوا تھا۔
گھڑ دوڑ میں کلوننگ کے گھوڑوں پر پابندی ہے لیکن ’شو جمپنگ‘ میں ایسا ممکن ہے۔ چیمپیئن گھوڑے عام طور پر خصّی ہوتے ہیں جو افزائش نسل کے کام نہیں آسکتے۔ پروفیسر ایلن کا کہنا ہے کہ ’ہمارے پاس افزائش نسل کی خاطر بہترین نر اور مادہ گھوڑے کے چناؤ کا کوئی ذریعہ نہیں ہے اور اس تکنیک کے ذریعے ہم بہت آگے جا سکتے ہیں‘۔ محکمۂ داخلہ نے جانوروں کی فلاح کے بارے میں خدشات کے پیش نظر کلوننگ کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔ بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ محکمۂ داخلہ کلوننگ کے موضوع پر کئی سال غور کرنے کے بعد اِس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اس کے فوائد جانوروں کو ممکنہ خطرات سے زیادہ نہیں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||